Here is what others are reading about!

دھرتی کا نوحہ

اے!  راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو

تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

70 سال پرانا ریڈیو آج بھی پوری شان کے ساتھ یہ نغمہ بجا رہا ہے۔ جس بابے کا ریڈیو ہے اسکی بھی مجھے سمجھ نہیں آتی ارے! بھلا اسے کسی میز پر رکھ چھوڑے تو میرے سر پہ ان نغموں میں بسی دھمک تو کم ہو۔  70 سال ہو گئے ہیں مجھ بوڑھی ہڈیوں کو یہ آزاد وطن کے راگ سہتے سہتے۔  70 سال جب سے زمین کا یہ ٹکڑا اپنی شناخت پایا ہے۔  اور ُاس سے پہلے کہ وہ دن جب مجھے دو حصّوں میں تقسیم نہ کیا گیا تھا۔ وہ دن بہتر۔۔۔

وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیے تم نے۔۔۔

سچ کہا۔۔۔  لہو ہی لہو تو پلایا گیا ہے مجھے۔ تقسیم کی سن گن ہوئی تب بھی میرے بیٹوں کا لہو، پیا بھی میں نے کفن بھی میں ہی بنی اور تقسیم ہو جانے کے بعد بھی اپنے ہی لختِ جگر اپنے ہی اوپر قربان ہوتے دیکھے یہ اذیت بھی میں نے ہی سہی ہے۔ کتنی بد قسمت ہوں نہ میں؟ پہلے اپنے ہی جسم کو دو ٹکڑوں میں بٹتے پایا اور پھر جب ماں بنی تو آج تک اپنے ہی سپوتوں کے لہو پہ پل رہی ہوں۔ میں تو دیکتھی ہوں اِن چلتی آنکھوں پلتے جسموں کو۔ میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جنھوں نے لا الہ اللّہ کے دم پر مجھے اپنا یا تھا جن کی کوششوں کے بدلے میں میں آدھی مسلمان ہوئی اور آدھی رہ گئی۔۔۔ ہندو۔

شکّر ہے میری آواز یہ سن نھیں سکتے کیا معلوم میرا سینا بھی سلاخوں سے چیرنے آجائیں لیکن مجھے کاہے کا خوف سچی مسلمان ہوں ۔۔۔حق بات کروں گی۔ گاندھی تھا غریبوں کا مددگار سو تھا چاہے ُاس کی مفلسی کانگریس کو مہنگی پڑتی تھی پر وہ مُفلس تھا۔ میں مسلمان ہوں جھوٹ نہیں بولوں گی۔ وہ جناح وہ گاندھی، اُن کے تو انداز ہی اور تھے جہاں جناح اپنے اصولوں کے پکّے تھے گاندھی اپنے آپ میں ایک رحم دل شخص تھے۔

بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھلوں کو

سُہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے۔۔

16 دسمبر تھا اُس دن میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے جگر گوشے غروب ہوتے دیکھے۔ چیختی رہی فریاد کرتی رہی ظالمو کو ذرا رحم نہ آیا جوان خون بہہ بہہ کے میرے آنسوئوں میں تحلیل ہو کے میرے جسم کو جلاتا رہا۔ جن کے ماں باپ نہیں ہوتے وہ تو یتیم کہلاتے ہیں میری اُولاد مار دی مجھے کیا نام دو گے؟  کتنے ارمان تھے میرے کتنی خواہشیں تھیں جو ظالم ایک جھٹکے میں پامال کر گئے۔

میری سہیلیاں مجھے سٹھیائی بُڑھیا کہتی ہیں کے خواہ مخواہ اتنا بولتی ہوں۔۔۔  خود بتاؤ ابھی خون خشک بھی نہ ہوا تھا کے میرا کو ئٹہ لہو لہان کر گئے۔ آزادی کا جشن قریب تھا اور معصوم بچوں کو یتیم کر گئے اب اُنھیں جھنڈیاں پُھل جھڑیاں کون دلائے گا؟  ہے کوئی جواب؟

70 سال ہو گئے ہیں مجھے قربانیوں کا یہ بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے۔۔۔  70 سال یہ طعنے سنتے کہ” اے ارضِ وطن تو اور کتنے لہو کی پیاسی ہے؟ ” میں ہوں پیاسی؟  میں؟  جس کا جسم زخم لگ لگ کے کوئی مرہم لگنے کے قابل بھی نہیں رہا؟

ًمیں نہیں تم سب پیاسے ہو اس خون کے، آزادی کے تحفے کو تباہ و بربا کرکےرکھ دیا، آزادی کے نام پے سرحد کی ایک لکیر سنبھال کے بیٹھے ہو،  تم سب ہو ایک بد قسمت ،بے قدر قوم۔ میں تو آج بھی پوری آب و تاب میں اپنے قائدِ اعظم کی ارضِ پاکستان ہوں کیوں کے میں نے اپنے ماں ہونے کا ہر حق ادا کیا ہے اور کرتی رہوں گی۔۔۔۔

(Visited 706 times, 1 visits today)

Mahnoor Naseer Is an engineering student and a freelance writer based in Rawalpindi. Her areas of interests are social and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے