Here is what others are reading about!

ادھورے خواب

روز اول سے اس مملکتِ خداداد میں دو طرح کے لوگ آباد ہوئے ہیں، ایک وہ جو آزادی کی جنگ لڑرہے تھے، دوسرے وہ جو نسلوں کو غلام در غلام بنانے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ اور وقت نے دیکھا کہ آخر الذکر کا میاب ہوئے۔ اگرچہ پاکستان تقریباً سات دہائی پہلے معرض وجود میں آ گیا تھا، مگر جس آزادی اور طرز حکمرانی کے خواب بابائے قوم اور اس آزادی کے سفر میں شریک کارکنوں نے دیکھے تھے وہ ابھی تک ادھور ے ہیں۔
وہ خواب جس میں ایسا پاکستان دیکھا گیا جس میں ایک ہند و وزیر قانون، ایک احمدی وزیر خارجہ اور ایک مسیحی چیف جسٹس آف پاکستان بن سکتا تھا۔ وہ خواب جس میں ایسا پاکستان دیکھا گیا تھا کے پہلے گورنر جنرل کی تقریب حلف برداری کے دعوت نامے یہ کہہ کر ہندو تاجروں کو بھی بھیجے گئے تھے کہ ہم ایسی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جہاں تمام مذاہب کے لوگ برابر کے حقوق رکھتے ہوں۔ ایک ایسی ریاست کا خواب جس میں گورنر جنرل آف پاکستان یہ کہہ کر پھاٹک بند کروا دے کہ اگر قانون بنانے والے ان قوانین کا احترام نہیں کریں گے تو عوام کیوں کر کرے گی۔
ہمیں اس خواب کی تعبیر چاہئے جس میں ذاتی استعمال کی چیزوں کے پیسے سرکاری خزانے کی بجائے گورنر جنرل کی بہن سے وصول کیے جائیں۔ایک ایسی ریاست کا خواب جس کے پہلے وزیرِ اعظم کے پاس خاندانی نواب ہونے کے باوجود ذاتی گھر اور گاڑی تک نہ ہو اور اس کی وفات پر تکفین و تدفین کا انتظام بھی ادھار سے کیا جائے۔
’’ہم اس خواب کی تعبیر بھی چاہتے ہیں جس کے حصول کے لیے سات لاکھ جانوں کا نظرانہ پیش کیا گیا، ایسی ریاست کاخواب جہاں اقلیت اور اکثریت دونوں محفوظ ہوں۔ جہاں اقلیتوں کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اور جہاں لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی ہو۔ جہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی ہو، کسی کو کفر کے فتووں کی آڑ میں قتل نہ کیا جائے اور قانون حکمرانوں کے گھر کی لونڈی نہ ہو‘‘۔
ہزاروں جانوں کا خون اس ریاست کے قیام کے لیے بہایا گیا تھا، جہاں ہر مذہب، ہر مسلک اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے فرد کے لیے مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ جہاں لوگوں کو زندگی بسر کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ ہزاروں لاکھوں کے خون سے ہم نے آدھا خواب سچ کر لیا ہے ہم ایک ایسی ریاست کے مالک بن گئے ہیں جوآزادریاست کے روپ میں معرض وجود میں آئی۔ اب اس ریاست کو فلاحی ریاست بنانے کا ادھورا خواب مکمل کرنا ہے۔ وہ خواب جو اب تک ادھورا ہے۔ وہ آزادی جو اب تک ادھوری ہے۔

(Visited 757 times, 1 visits today)

Engineer Majad Ali is a short story writer based in Lahore. His short stories "50 Lafzon ki Kahani" are based on social, general and current issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے