Here is what others are reading about!

اندازِ جشن

سنو! اپنا انداز جشن بدلو۔ وه دیکھو!  وه بچہ جس نے آگ کے شعلوں میں  انسان جلتےدیکھا  تمہاری آتش بازی سے کانپ رها ہے۔ وه دیکھو! وه بیوه۔۔۔جس کی یتیم کلیوں کو انتظار ھے باپ کا ۔۔۔تمہاری ہوائی فائرنگ سے اس کا کلیجہ پھٹ رھا ہے۔ وہ دیکھو وه سر کٹا لاشا۔۔۔جس نے سجدے میں پاکستان مانگا۔۔۔تمھاری سیٹیوں کا شور اس نمازی کا کرب بڑھا رھا ہے۔ وه دیکھو وه سسکتی ماںجس کو جوان بیٹے کے ٹکڑے پرچم میں لپٹے ملے۔۔۔تمھاری چوکھٹ پہ گرا پرچم اس کی ممتا کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ وه دیکھو وه لٹی ھوئی بنت حوا۔۔۔جس کا پاک دامن بازار میں داغدار ہوا، تمہارے موٹرسائیکلوں کا هارن اس کی دردناک چیخ دبا رہا  ہے۔ دیکھو!  دیکھو تو سہی۔۔۔تمھارا انداز جشن۔۔۔ان شھداء کا تقدس پامال کر رہاہے۔

أج دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چوده اگست کو پاکستان نامی ملک آزاد ہوا تھا کیونکہ ہماری تاریخ ہم سے بھی زیاده یہ دنیا اور دشمن، اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔ وہ ، جن کو آج بھی ہماری آزادی ویسے ہی کھٹکتی ہے جیسے ستر سال پہلے کھٹکی تھی۔۔۔  لیکن آج آزادی کا جشن منانے والوں کو یہ جاننے کی ضرورت ھے کہ یہ ملک آزاد کیسے  ہوا۔  ہمیں یہ ملک بنا بنایا ملا اس لیے ہمارا رٹا ہوا جملہ یہی ہے کہ “یہ ملک بہت مشکلوں اور قربانیوں سے ملا”.لیکن وه جنہوں نے اس ملک کو بنایا وه شاید اس سوال کا جواب نہ دے پائیں۔۔۔ وه جواب دئیں بھی تو کیسے؟کوئی باپ کیسے بتائے کہ اس کی بیٹی کی چادر کیسے چھینی گئی؟کوئی ماں کیسے بتائے کہ اس کے بیٹے کی لاش کے کتنے ٹکڑے جانور کھا گے؟ کوئی بھائی کیسے بتائے اس نے اپنی بہن کو دہکتے تندور میں کیسے پھینک دیا؟کوئی بچہ کیسے بتائے کہ دیوار کے پیچھے چھپ کے وه آگ میں جلتا اپنا خاندان کیسے دیکھتا رہا؟ کوئی بہن کیسے بتائے کہ اس کا دو سال کا بھائی کیسے نیزے میں پر پرودیا گیا۔

وه جنہوں نے پاکستان بنایا وه آج بھی اپنا پاکستان ڈهونڈ رہے ہیں اور ہم اور تم نا جانے کونسی آزادی کا جشن منا رہے ہو ۔۔۔ یہ آتش بازی اور موٹر سائیکلوں کے هارن، یہ سیٹیاں بجاتا ہجوم ان یتیموں اور بیوه ماؤں کے دل چیر رھا ہے ۔۔۔ لٹی ہوئی بنت حوا کو کرب میں مبتلا کر رہا ہے۔۔۔ یہ  تیز رفتار گاڑیوں کا شور ان لاشوں کو اذیت دے رہا ہے جن پرگھوڑے دوڑائے گئے۔۔۔

یہ ریلیوں کا ہنگامہ اس جلتے خاندان کی دردناک چیخیں دبا رہا ہے۔۔۔  یہ کون سا جشن ہے جس میں آزادی بے لگام ہوئی ہے۔۔۔  جشن منانے والے اتنا نہیں جانتے کہ یہ وطن آزادی کی بقا کی کتنی قسطیں ادا کر چکا ہے۔۔۔  گلیوں میں بکھری جھنڈیاں ان سے اس آزادی کے  تقدس پامال ہونے کا شکوه کر رہی ہیں۔۔۔ جشن آزادی منانا  ہی ہے تو آزاد تو ہو لو ! اپنی دماغی پسماندگی سے اور آزاد کرو ان پاکستان بنانے والوں کو خوف سے جو آج بھی آزاد ملک میں آزادی کی راه تک رہے ہیں۔۔۔  ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔۔ یوم آزادی مبارک ہو اس کو۔۔۔جو آج بھی زمین پر گری ہوئی جھنڈیاں چوم کے چوکھٹ پر سجا رہا ہے۔۔۔

(Visited 835 times, 1 visits today)

Hijab Mohudin is a freelance writer based in Lahore. Her areas of interests are socail and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے