Here is what others are reading about!

تین دوست

سر پلیز سر مصدق کو ایک پی ٹی کلاس بھی دے دیں۔۔۔ میرا بیٹا دودھ نھیں پیتا تھا۔۔۔ ان سے سن کرا ب روز ملک شیک مانگتا ہے۔صبح ورزش بھی کرتا ہے۔۔۔ تنگ گلی میں واقع ایک چھوٹے سے سکول کے پرنسپل آفس میں تقریباً تیسری بار والدین کے ایسے تبصرے سننے کوملے۔

  سکول میں ایک ٹیچر کی آسامی خالی تھی۔ دو دوست وہاں پہلےہی پڑھاتے تھے۔ آج مجھے بھی مصدق پکڑ کر لے گیا تھا۔ اس نے سکول سے جلدی جانا تھا۔۔۔  بریک ہوئی۔۔۔  وہ ہنستا ہوا  بچوں کے ہجوم سے نکلا۔ میں گیٹ کے نزدیک آگیا تھا۔۔۔  اس نے مجھے کچھ کام بتایا۔۔  میں نے اس کا کاندھا تھپتھپایا۔۔۔ اور وہ ہمیشہ کی طرح مسکراتا چلا گیا۔ میرے اور باقی ٹیچرز کے برعکس وہ بچوں کے ساتھ بھاگتا کھیلتا۔۔۔  مجھے حیرت تھی کہ اسکی کلاس کا ریکارڈ اتنا اچھا کیسے رہتا تھا؟ اس کا بچوں پر رعب کیسے رہتا تھا؟
ہمارا دوست عمر بھی تو تھا۔۔۔  اسکو دیکھ کر بچے کانپتے تھے، اور یہ؟  مصدق کے اس رویہ پر  ہم کئی بار بحث بھی کر چکے تھے۔۔۔  اس سے صرف ایک بار سنا تھا کہ اس نے بچوں کو ڈانٹا تھا اور بچوں کی حالت بس چند الفاظ پر ہی متغیر ہو گئی ،شاید وہ خود پریشان ہوگیا۔بچوں نے غلطی کبھی نہ دہرائی۔ وہ جب یہ بات بتا رہا تھا تو شاید اسکو بھی غلط  فہمی تھی کہ بچے اسکے رعب میں آ گئے ہوں گے۔ نہیں۔۔۔ وہ تو اس سختی کے عادی تھے۔۔۔  مصدق کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ در اصل اس کا کوئی رعب نہیں تھا اور نہ بچے مار پیٹ یا ڈانٹ سے ڈرتے تھے۔۔۔  وہ سب تو اس کی ناراضگی سے ۔۔ اس کے دوستانہ رویہ کی تبدیلی سے ڈرتے تھے۔ وہ صرف استاد  نہیں تھا۔۔۔ وہ ان سب کا دوست تھا۔
اس کو ایبٹ آباد سے یہاں یونیورسٹی آئے قریبا دو سال گزر چکے تھے۔ فوج میں جانے کا جنون تھا۔۔۔جیسے اس کے  بہت سے  دوستوں کو بھی تھا۔۔۔   جب کبھی برن ہال کے ان دوستوں کا ذکر چھڑتا تو بہت فخر سے بات کرتا۔۔۔  چھوٹے سے میڈکل مسئلے کی وجہ سے اس کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔۔۔  قسمت اور طبیعت دونوں نے ایسا پلٹا دیا کہ قانون کی ڈگر ی میں آپھنسا۔آتے ہی دو روم میٹس دوست بن گئے۔۔۔۔  گو کہ عاصم اور مہران اس سے خاصے سینیر تھے۔  انہی کے ساتھ ایک چھوٹا سا فلیٹ لیا اور ہاسٹل سے نکل بھاگا۔ اسے ہاسٹل اور باہر کا کھانا پسند نہیں تھا۔۔۔  خود بہت اچھا بنا لیتا تھا۔۔۔  اس کے باوجود اس کے فلیٹ میں کھانا بنانے کی باریاں لگا کرتی تھیں۔
آج ہی کی طرح کا  ایک دن تھا۔۔۔  ہلکے ہلکے بادل  آئے ہوئےتھے۔۔۔  غالبا بلال بھی اس دن ساتھ تھا۔ سیر پر جانے کا پروگرام تھا، فلیٹ سے اوپر روڈ کی طرف جا رہے تھے۔۔۔  سیڑھیوں پر قدم رکھا ہی تھا  کہ بادلوں کو شرارت سوجھی۔۔۔ ہم گاڑی کی طرف دوڑے۔۔۔  میں نے  اور بلال نے فرنٹ کا دروازہ کھولا،ایک نظر پیچھے دیکھا تو وہ تینوں ہماری طرف پشت کئے بیٹھے تھے۔ ایک چھوٹا بھیگاہوا پِلا مصدق کی ٹانگ سے چمٹا ہوا تھا اور دوسرا عاصم کے گرد گھوم رہا تھا، ان دو بے ضرر پلوں سے زیادہ مہران گھبرا رہا تھا۔ میں نے آواز لگائی۔۔۔ چلنا نہیں ہے؟ مصدق بولا، ادھر آؤ ان کا کچھ کر کے جاتے ہیں۔۔
عاصم اور مہران سامنے سے کچھ بلاکس اور پرانی اینٹیں اٹھا لائے۔۔۔ اور ہم نے دوچار پرانی بوریاں ڈھونڈ نکالیں۔۔۔۔ سڑک کے ایک کونے پر ہم چار پانچ دوست اب ان پلوں سے زیادہ لاوارث معلوم  ہو رہے تھے۔۔۔  مصدق سب کو ساتھ ہنساتا رہا۔۔۔  بلاکس اور اینٹوں سے دیوار یں بنائیں۔۔۔  کپڑے کی  بنی بوری نیچے بچھا دی اور اوپر دوسری رکھ دی جوپانی روک سکے۔۔ ۔ایک پلا اس نے اور ایک میں نے اٹھالیا، اور اندر رکھ دیا۔۔ وہ بیچارے سہمے سہمے اندر چھپ گئے۔۔۔ میں نے عاصم کی طرف رخ کیا اور کہا، چلو ایک اچھا کام تو ہم نے بھی زندگی میں کر ہی لیا۔مصدق تو جیسے موقع ڈھونڈتا تھا۔ مسکراتے  ہوئےبولا۔۔۔ ہاں اب جا کر اس پر بھی کہانی نہ لکھ دینا ۔۔۔ ورنہ لوگ ہمیں اچھا سمجھنے لگ جائیں گے۔۔۔ لیکن آج۔۔۔ آج جب وہ ساتھ نہیں تو لکھے بغیر رہا بھی نہیں گیا۔

وہ تینوں بہت عجیب تھے۔۔۔ تینوں خاصے دولت مند خاندانوں سے تھے لیکن اس دولت کی نمائش تو ان میں کبھی نہیں دیکھی ۔ہاں مگر احساس کی دولت ان میں ٹپکتی تھی۔ خدا جانے یہ مصدق کے آنے کا اثر تھا  یا پھر  وہ سب شروع سے ایسےہی انمول نمونے تھے۔۔۔  بہرحال اس کے آنے سے اور کچھ بدلا ہو یا نہ بدلا ہو۔۔۔  ان کے کمرے کی ایک دیوار پر پاکستان کاجھنڈہ ضرور چپک گیا۔۔۔ کبھی کبھار جھنڈا اپنی جگہ تبدیل کر کے کھڑکی کے آگے دھوپ روکنے کے فرائض بھی سرانجام دیتا تھا۔۔۔  حب الوطنی کا ایک جنون اس  کے ہر کام میں نمایاں تھا، یہاں تک کہ اگر کلاس میں پریزنٹیشن نہیں تیار ہوئی تو ایک دفعہ جناب نے کھڑے کھڑے کشمیر پر انتہائی بے محل اور انتہائی جزباتی تقریر کر ڈالی۔
13 اگست کی شام تھی۔۔۔ مصدق کی امی اوپر فلیٹ میں ٹہری  ہوئی تھیں کہ انکی طبیعت خراب ہوئی۔۔۔  واپس گھر جانے کا فیصلہ کیا۔  میرے چھوٹے بھائی اور شاید عمر کو اطلاع کی اور چلے گئے۔ خیریت سے دوستوں سمیت  گھر پہنچ گئے۔ 14 اگست کو میں خاصی دیر سے جاگا۔۔۔  گھڑی دیکھی ، ایک فنکشن میں جانے کو بھی لیٹ ہو گیا تھا۔۔ چھت پر بیٹھنے جا رہا تھا کہ عمر کا فون آیا ۔۔کچھ سنا؟ حسان سے بات ہوئی ہے۔۔۔  کہہ رہا ہےکوئی ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔ عاصم بھی تھا اس میں۔۔ ایوب میڈکل کال کی۔۔ کسی نے میکانکی انداز میں تعارف پوچھا۔۔۔  پھر تینوں کے نام لیے۔۔  اور ہر نا م کے ساتھ۔۔۔ ایکسپایرڈ۔۔
اس دن کے وہ شرارتی بادل، آج ماتم کر رہے تھے۔۔۔۔  جنازہ گاہ ڈگری کالج گراونڈ ایبٹ آبادسے تبدیل کر کے مصدق کے گھر کے قریب کی مسجد رکھنی پڑی۔۔۔ رات ڈھلنے سے پہلےہم مصدق کی میت کے سامنے تھے۔۔۔  زندگی میں پہلی بار ہم سب نڈھال تھے اور مصدق چپ چاپ لیٹا تھا۔۔

صبح ہوئی تو واقعہ پتا لگا۔۔۔  ہرنوی کے پاس کھائی میں پھسلی گاڑی سے دو بے جان جسم اور ایک سسکتاہوا شکستہ وجود آئی سی یو میں لایا گیا۔۔۔ راستے میں ان کا سامان، پیسے اور وہ موبائل بھی جس میں جانے سے پہلے مصدق نے امی سے گلے لگ کر تصویریں بنوائی تھیں۔۔۔  سب چوری ہو گیا۔۔ کاش وہ ان تینوں کو جانتے۔۔۔  ان تینوں کو اس سب سے مطلب ہی کیا تھا۔۔ مصدق کے جسم سے تو جان نکل گی تھی پر آخری وقت تک اس کے چہرے پر زندگی سے پھر پور محبت بھری مسکراہٹ تھی۔۔۔ مہران اورعاصم کے آخری دیدارہمیں نصیب نہیں ہوئے۔۔۔

(Visited 668 times, 1 visits today)

Hasnat Sheikh is a civil society activist and a freelance writer based in Azad Kashmir. He is passionate about minority rights, poverty alleviation and the Kashmir cause.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے