Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Urdu Articles
  • /
  • پولیو کے قطرے اور کراچی میں کھلے دھانوں والے گٹر

پولیو کے قطرے اور کراچی میں کھلے دھانوں والے گٹر

کوئی تین یا چار سال پہلے کا ذکر ہے !! گاؤں مکھناں سے ہمراہ فیملی کراچی کے لیے روانگی تھی !! رخت سفر باندھا جا چکا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی !! بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھی !! عاتکہ صاحبہ کی زندگی کے گرد بخوشی حفاظتی حاشیہ کھینچا گیا !!
پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ہری پُور ڈائیوو اڈے پر پہنچے تو بس کے داخلی دروازے پر پھر پولیو کے خلاف مستعد مجاہدین کو پہرہ دیتے دیکھا !!! باوجود سمجھانے کے کہ ابھی پندرہ منٹ پہلے ہی ویکسین نوش کروائی جا چُکی ہے !! گن پوائنٹ پر دوبارہ پلائے گئے !!
مبلغ چوبیس گھنٹے بعد جب دن بارہ بجے کے قریب ڈائیوو ٹرمینل کراچی پر قدم رنجہ فرمائے تو کُولر ہاتھ میں تھامے ایک بار پھر پولیو کے شکاری آمادہ خدمت تھے !! اوور ڈوز سے بچنے کے لیے تھوڑی بدمعاشی کام آئی !! پچیس تیس منٹ سفر کے بعد ابھی سامان سفر گھر میں رکھا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی !! دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو لب نکڑ پولیو ٹیم کو مسکراتے پایا !!!! یہ تسلسل محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے لیکن اس میں ذرہ برابر بھی مبالغہ نہیں !! میری آنکھیں جذبات کی شدت سے نم ہو گئیں اور میں دروازے پر کھڑے کھڑے ہی دورِ فاروقی میں پہنچ گیا !!! واہ کیا مہربان حکمران ہیں !! اور اس قدر پیار ہمارے بچوں سے کہ کہیں معذوری کا شکار ہو کر زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں !!
ہم بننیادی طور پر جاہل قوم ہیں !! موٹے موٹے فرق بھی سمجھنے کی صلاحیت سے محروم قوم !!!
بالعموم سندہ اور بالخصوص کراچی میں کھلے دھانے والے گٹروں میں گِر کر ہلاک ہونے والے بچے ہوں یا تھر میں کھارے پانی یا صرف پانی کو ترس ترس کر جان دینے والے بچوں اور پولیو سے معذور ہونے والے بچوں میں زمین آسمان کا فرق ہے !!!
پانی کا شما ر رزق میں ہوتا ہے اور رزق کا وعدہ خُدا نے کر رکھا ہے لہذا صحرائے تھر میں اس ذمہ داری سے حکمران بری الذمہ ہیں !! پیاس کی شدت سے بچہ دو چار پانچ دن تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ کسی معذوری کا شکار تو نہیں ہوتا کہ معذور مُلک و ملت پر بوجھ ہوتے ہیں !! اور ویسے بھی پولیو کے چند قطروں کا اہتمام کرنا اور کسی آبادی کے لیے پانی کی ترسیل کے منصوبے کے خرچ میں بہت فرق ہے !!
یہی کُلیہ کراچی کے کُھلے دھانوں والے گٹروں پر بھی صادق آتا ہے !! بچہ گٹر میں گِرا !! دو چار پانچ منٹ میں ہی وہ ہر غم سے آزاد ہو جاتا ہے !! کہاں پولیو کہ عمر بھر کی معذوری گلے پڑ جاتی ہے !! گٹر میں نہ گِرتا تو والدین پر تعلیم اور خوراک کا بوجھ !! بڑا ہو جاتا تو بیروزگاری کا عذاب !!
لہذا بحیثیت قوم ہمیں معاملات میں پائے جانے والے موٹے موٹے فرق سمجھنے چاہیں !!
بلکہ میرا تو مشورہ ہے کہ غریب اور کچی بستیوں میں تمام گٹروں کو ڈھکن سے آزاد کر دینا چاہیے !! اس سے ایک تو آبادی کنٹرول میں رہے گی اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ بچ جانے والی نسل ہوشیار ، ذہین ، چُست اور چالاک ہو گی کہ جو اتنے چھوٹے چھوٹے گٹروں سے بچ بچا کر نکل گیا وہ کسی بڑے گٹر یعنی پی پی پی ، نون لیگ ، جمیعت علمائے اسلام ، جماعت اسلامی ، پی ایس پی ، ایم کیو ایم ، تحریک انصاف ، حقیقی ، غیر حقیقی کسی بھی گٹر میں کیسے گِر سکتا ہے !!!!

(Visited 716 times, 1 visits today)

Aabi Makhnavi is prolific writer and a famous poet based in Karachi. He’s areas of interests are social issues, literature and current affairs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے