Here is what others are reading about!

چوتھا فائر

“چاچا۔۔۔ چاچا کرم دین۔۔۔۔”

جیل کی بیرک کے ساتھ کرسی پہ سوئے  ایک بوڑھے سپاہی کے بہت قریب سے ایک خفیف سی آواز ابھری۔۔۔

اور وه اک جھٹکے کے ساتھ اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔۔

“خیر اے پتر ” اس نے قریب ہی لیٹے قیدی سے پوچھا۔۔۔۔

“چاچا یہ بچے کے رونے کی آواز صبح چار بجے اور وه بھی جیل میں”

چاچا کرم دین چادر ٹٹولتا ٹٹولتا اٹھا اور چوکنا ہو کے آواز کی سمت بھانپنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔اس کے چھرے پہ کرختی آ گئ  کہ جیسے وه آنکھوں سے آواز کی سمت ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔۔

اس نے اپنا پوپلا منہ کھولا ۔۔۔۔مگر صرف دھند کے اک بگولے سے سوا کچھ نہ نکلا ۔ پھر اس کا سر ’’ناں‘‘ کی گردان الاپتے ہوئے دائیں بائیں ہلنے لگا۔۔۔۔

چند ہی لمحوں بعد پھر اسی قیدی نے چاچے کو اشاره دیا کہ چاچا سامنے صا حب کے کمرے کی طرف سے لگتا ہے آواز آ رہی ہو جیسے۔۔۔۔

چاچا پھر چوکنا ہو گیا ۔ تھوڑی دیر خاموشی سے جگراتے ماریں آنکھوں سے ہوا میں گھورتا رہا اور گھورتا گھورتا اٹھ کے کھڑا ہوا ۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے لگا کہ جیسے آس پاس کوئی انہونی ہو رہی ہو ۔ وه آہستہ آہستہ خود کو آواز کی سمت میں گھسیٹنے لگا۔ اس کی لاٹھی کی ٹک ٹک سے اٹھنے والا نوحہ جیل کی بیرکوں کے کونوں  کے دھیمے تسلسل سے ٹکرانا شروع ہو گیا اور اگلے کئی منٹوں تک گونجنے والی یہ ہلکی سی ٹک ٹک کی آواز کسی انجان دشا میں گونجتے گونجتے گم ہو گئی۔۔۔

قیدی دیوار کے ساٹھ ٹیک لگائےنیم بے ہوشی کی حالت میں جاگتے جاگتے چاچے کرم دین کا انتظار کرنے لگا۔۔۔وه کبھی تحت الشعور سے ابھرنے والی تڑپ سے اٹھ کے بیٹھ جاتا، سر دیوار کے ساتھ ٹکائے دھڑ اوپر کھینچ کے خود کو سیدھا کرنے کی کوشش کرتا ۔ پھر کسی رخ نیند سے گرتا گرتا اٹھ جاتا اور بیٹھ کے چاچے کرم دین کی لاٹھی سے ابھرنے والی آواز کا انتظار کرتا ۔۔۔ اور یہی حرکت دہراتے دہراتے وه نہ جانے کب سو گیا ۔۔۔۔۔۔

لیکن اس کے تحت الشعور میں گونجے والی لاٹھی کی آواز نہ سو سکی ۔ اس کی آنکھ کھلی تو سارے قیدی جاگ چکے تھے۔ باہر گہری دھند کے سائے لہرا رہے تھے۔ مگر چاچا کرم دین اپنی کرسی پہ نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد لاٹھی کی وہی گمشده آواز گونجی ۔ سارے قیدی کسی قدر چوکنا ہو گئے اور چہروں پہ غمزده سنجیدگی سے ملتے جلتے تاثرات پھیلنا شروع ہو گئے۔ چاچا کرم دین پھولی سانس اور دیمک زده بڑھاپے سے جو وقت سے سالوں پہلے آگیا تھا رینگتا رینگتا کرسی پہ آن گرا۔

تھوڑی دیر اپنے سانس درست کرنے کی بےسود کوشش کرتا رہا آخر میں زور دار کھانسی کے ساتھ ایک لمبا گہرا سانس کھینچ کے پاؤں کرسی پہ رکھ کے کمر اور سارے جسم کے گرد چادر لپیٹی اور چاروں طرف اندر ہی اندر ہاتھوں سے ٹٹول کے اس بات کی تسلی کر کے بیٹھ گیا کہ جیسے اب سردی بوڑھی ہڈیوں کے تعاقب میں کبھی کہیں سے نہیں آئے گی۔   آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ اس انداز سے سر ٹکا کے لیٹ گیا کہ جیسے اس کا ہمیشہ کے لئے سونے کا وقت آ گیا ہو۔۔۔

اسے لیٹے دس منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ پھر اسی قیدی کی آواز ابھری ۔۔۔

” چاچا۔۔۔۔۔۔ چاچا کرم دین”۔۔۔

اور چاچا پھر اسی جھٹکے سے ہڑبڑایا اور اٹھ کے بیٹھ گیا۔

” سزائےموت ۔۔۔۔ پھانسی”

چاچے کے منہ سے بمشکل یهی الفاظ نکل پائے”

موت کی خبر کی سرگوشی بیرک میں بجلی کے طرح کوند گئی۔۔۔

موت ۔ پھانسی ۔۔۔ قیدیوں کے گلوں میں لفظ اٹکنے لگے۔۔۔۔

“چاچا مگر بچے کی آواز “

پاس بیٹھے قیدی نے پھر سرگوشی کی۔

” پھانسی لگنے والی کا بیٹا ہے سال سے کچھ چھوٹا۔۔۔ ایسے بلک رہا تھا جیسے کسی طرح وه سب کچھ جان گیا ہو ۔۔۔۔ قدرت بھی عجیب ہے سال کے بچے کو ماں سے جدا کر دیا “چاچے نے بے بسی سے بھرے لہجے میں بولتے ہوئےآنکھیں بند کرتے کرتے جواب دیا۔۔۔

“چاچا مگر پھانسی کس جرم کی”۔۔۔۔ قیدی نے ہکلاتے ہکلاتے پوچھا۔۔۔

چاچا کرم دین سر جھکا کے کچھ لمحوں کے لئے مرده نما کردار بن کے بیٹھا رہا پھر بولا۔۔۔۔

” پھانسی۔۔۔۔  قتل کیا تھا اس بچے کی ماں نے ۔۔۔۔ جیلر صاحب بتا رہے تھے اس نے چار فائر مارے تھے اپنی عزت پہ حملہ کرنے والے کسی آواره جنونی گاؤں کے چوہدری کو۔۔۔مگر ذات کے کمی تھے اور مرنے والے کا باپ علاقے کا با اثر اور امیر کبیر چوہدری تھا۔۔۔۔ بیچاری کا بنده بدلے میں مارا گیا اور خود بھی پھانسی۔۔۔۔۔ایک یتیم چھوڑ گئی ہے روتا ہوا۔۔۔۔  الله کے آسرے پہ ۔۔۔۔”

خاموشی میں ڈوبی ہوئی بیرک میں سردی کی ایک ٹھنڈی لہر آئی اور بیرک کا سینہ چیرتی پار نکل گئی۔

‘چاچا تو اس کی میت اور بچہ لینے آیا کوئی والی وارث’؟ قیدی نے چاچے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

‘ صاحب بتا رہے تھے نہ اس سے کبھی کوئی پہلے ملاقات کیلئے آیا نہ کبھی کوئی آخری ملاقات کیلئے۔ یہ بچہ بھی ادھر جیل میں ہی پیدا ہوا ہے۔۔۔۔ جیل کا عملہ اور قیدی سب پیار سے اسے “چوتھا فائر” کہہ کے بلاتے ہیں۔”

بھاپ اور دھند کے ساتھ رقص کرتے کرتے لفظ ایک مرتبہ پھر بیرک کی دیوار سے جا ٹکرائے۔۔۔

(Visited 1,053 times, 1 visits today)

Babar Dogar is a freelancer based in Pakpattan. He has studied International Relations at Quaid e Azam University. His areas of interests are politics and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے