Here is what others are reading about!

درندگی

محفل جمی تھی۔ موضوع بنا “درندگی”۔۔۔ اہک بول اٹھا دنیا میں پہلا قتل درندگی کی انتہا تھا۔سننے والے نے کہا اس سے بڑھ کے بھی درندگی ہوسکتی ہے کہ سربازار کسی عورت کی عزت سے کھیل کر اسکی عزت تارتار کی جائے۔کوئی بول اٹھا درندگی کا دوسرا نام تو کراچی کی سڑکوں پر ٹارگٹ کلنگ کر کے کسی معصوم کی جان لے لینا بھی ہے۔کتنا آسان ہے نہ ایک راہ چلتے کو گولیوں سے چھلنی کر کے چل دینا۔جانتے ہو اس ایک راہ چلتے کے مر جانے سے کتنی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں؟؟ کتنی آنکھوں میں جلتے دیے بجھ جاتے ہیں؟؟ایک ماں سے اسکا لخت جگر چھن جاتا ہے،معصوم بچوں کے سر سے باپ کا سایہ چھن جاتا ہے اور انھیں دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اسکا سہاگ چھین کر اسے بیوگی کی چادر اوڑھا دی جاتی ہے، بوڑھے باپ سے اسکا کندھا چھین کر اسے بے بس کر دیا جاتا ہے،کسی ایک کے چلے جانے سے نجانے کتنوں پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ ہائے یہ بھی تو درندگی ہے نا ؟؟

ایک سننے والے نے پوچھا 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول کے بچوں کو شہید کر دینا درندگی کی کونسی قسم ہے؟؟ جب پشاور کی گلی گلی گھر گھر  سے جنازے اٹھ رہے تھے۔ہر آنکھ سے خون کے آنسو بہہ رہے تھے یہ منظر دیکھ کر تو درودیوار بھی لرز اٹھے ہوں گے مگر ان درندوں کے دل نہ لرزے نہ کانپے جنہوں نے معصوم جانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔کسی نے کہا کیا یہ درندگی نہیں کہ ایک ماں اپنے بچے کو نو ماہ اپنی کوکھ میں اپنے خون سے سینچ کر اس دنیا میں لائے اور اسے مردہ بچہ تھما دیا جائے اور اس زندہ بچے کو کسی درندے کے ہاتھوں بیچ کر اسکی زندگی تباہ کر دی جائے۔سننے والے نے ہنس کر کہا ارے اس پر تو ماں صبر کرلے مگر کسی ماں سے سربازار اسکی نظروں کے سامنے سے اسکا بچہ چھین لیا جائے اور بدلے میں اس بچے کے ٹکرے ٹکرے کر کے اس ماں کے گھر کی دہلیز پر پھینک دیا جائے اس سے بڑھ کر بھی کوئی درندگی ہو سکتی ہے کیا؟؟

مگرسوچو تو سہی۔ دیکھو تو ذرا۔۔۔  اس سے بڑھ کر بھی تو درندگی  ہے جانتے ہو کیا؟ ہم سب کا اندھے، گونگے، بہرے بن کر ماؤں کا کلیجہ پھٹتے ہوئے دیکھنا۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آنکھ ، کان ، زبان کاٹ دئے گئے ہوں۔۔۔ دل تو  جیسے کسی درندے نے نکال پھینکا ہو اور ہم سب کو لاچار اور معزور کر کے پھینک دیا گیا ہو۔۔۔ یا پھر ٹارگٹ کلنگ میں کسی نے موت کے گھاٹ اتار پھینکا ہو۔۔۔۔ خودکش حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں۔۔ ۔ اور ۔۔۔ اور پھرحاکم وقت کا پتھر ہو جانا بھی تو درندگی کی انتہا ہے۔

شام ڈھلنے لگی۔۔۔ محفل ختم ہونے کو تھی۔ چائے کی خالی پیالیاں ٹیبل پر دھری پڑی تھیں۔۔۔ جو کہا ۔۔۔ جو سنا۔۔۔ وہ وقت گزارنے کے لئے خوب تھا۔۔۔یہ کتھارسس خوب رہا۔۔۔۔   کیوں کیا کہتے ہو؟ کیا یہ درندگی کی انتہا نہیں ہے؟

(Visited 821 times, 1 visits today)

Ayesha Mushariq khan is a graduate of Mass Communication based in Lahore. Her areas of interests are social and general issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے