Here is what others are reading about!

اے راہ حق کے شہیدو !

اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو!

تمہیں وطن کی ہوائیں، سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو۔۔۔

لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو

وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لئے تم نے

بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو

سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لئے تم نے

تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو۔۔۔

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاکﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہوگا

علیؑ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے

حسین ؑ پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا

تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو۔۔۔

جنابِ فاطمؑہ جگرِ رسول کے آگے

شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے

جنابِ حضرتِ زینؑب گواہی دیتی ہیں

شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے

وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہنے کو یہ ایک نغمہ ہے جو ہر سال یومِ دفاعِ پاکستان یعنی 6 ستمبر کو سننے کو ملتا ہے، لیکن درحقیقت یہ روح میں اتر کر جسم میں کپکپی پیدا کر دینے والی وہ شاعری ہے جو یقیناً اسکے خالق جناب مشیر کاظمی صاحب کو الہام ہوئی تھی۔ وطن کے دفاع میں اپنی جاں نذر کرنے والے ایک شجیع و شجاع سپاہی کو چار بند کے اس نغمے میں جس طرح سے خراجِ تحسین و عقیدت پیش کیا گیا ہے، وہ یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ وہ جوان جو مقدس دفاع کی خاطر اپنی پسند سے فوج کے شعبے کا انتخاب کرتے ہیں، بلاشبہ بہت بہادر، بیباک اور ہر قسم کے خطرے سے لڑ جانے والے جذبے سےسرشار ہوتے ہیں۔ اپنی زندگی کے بہترین مصرف کی جانب لیجانے والی اس راہ کا انتخاب انہیں عام شہریوں سے ایک ممتاز حیثیت میں روشناس کرواتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام انسان جب فوجی وردی زیبِ تن کر لیتا ہے تو وہ خاص بن چکا ہوتا ہے۔ اب اسکا جسم اور روح دونوں ملک کے دیگر کروڑہا عوام کی امانت بن جاتے ہیں، جنہیں وقت پڑنے پر وہ انتہائی حسین انداز میں ملک و قوم کی خدمت میں پیش کرکے اپنی منزل کو پا لیتا ہے۔

ایک عام نوجوان کو فوجی بنانے کے لئے پوری قوم کا مادی سرمایہ بہت منظم انداز میں بہت ایمانداری کے ساتھ لگایا جاتا ہے، جسکی بنیاد پر وہ اپنے شعبے میں ترقی کی سیڑھیاں طے کرتا جاتا ہے۔ اسکے کامیاب کارنامے اسکے سینے اور شانوں پر بلوں اور پھولوں کی صورت میں اسکا اور قوم کا سر فخر سے بلند کرتے جاتے ہیں اور جب کبھی ملک و قوم کو اس جوان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ کسی بھی نوع کے نمرود کی دھکائی ہوئی آتش میں بے خطر کود پڑتا ہے۔ کبھی فتح و نصرت کا پرچم تھامے اگلے معرکے کے لئے قوم کی امانت کو لئے واپس آجاتا ہے اور جب خدا کو منظور ہو تو اپنی جان کو ملک و قوم پر صدقہ کر دیتا ہے۔ یہاں بھی قوم اسکے پیچھے اسکے لئے دعاؤں کا روحانی سرمایہ لئے کھڑی رہتی ہے۔ یوں ایک فوجی اور اسکے بھائیوں کے بیچ ایک غیر مرئی رشتہ استوار رہتا ہے، جو اسکی شہادت کے بعد بھی ٹوٹتا نہیں۔

ایک سپاہی کی زندگی کا مقصد اسکے اپنے انتخاب کے نتیجے میں غازی بننا ہوتا ہے یا شہید ہونا۔ ایک فوجی کے لئے تیسرا کوئی راستہ وضع ہی نہیں ہوا۔ عام انسانوں کی طرح روز مرہ کے کام انجام دینا اور عام طبعی موت مر جانا ایک فوجی اپنے لئے قید اور اپنی زندگی کو ضائع ہونا سمجھتا ہے، اس لئے وہ جنگ کے لئے ہر کھڑی تیار کامران رہتا ہے۔ ایک فوجی کی ساری زندگی لڑنے کی تربیت حاصل کرنے، دشمن کی چالوں اور سازشوں کو سمجھ کر ان کا توڑ نکالنے، اپنے اسلحے کو صحیح وقت پر صحیح مقام پر استعمال کرنے اور دشمن کو اسکی اوقات یاد دلاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے کے لئے بسر ہوتی ہے۔ جو انسان اپنی جان کو دوسروں کی حفاظت کی خاطر گروی رکھ دیتا ہے تو یہ اسکا حق ہے کہ پوری قوم اسکو سلام پیش کرے، اسکی ستائش کے نغمے گنگنائے اور بعد از شہادت اسے اسکے عظیم کارناموں کے اعتراف میں سرکاری اعزازات سے نوازا جائے۔ اسکے یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا جائے، انکی کفالت سرکار کے ذمے ہو۔ شہید کے خانوادے کے لئے چھت اور روزگار کا بندوبست کیا جائے۔ یہ سب اسکی خدمت کے اعتراف کا ایک معمولی سا اشارہ تو کہلا سکتا ہے، حق نہیں، بلکہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہم حتی المقدور اتنا ہی کرسکتے ہیں۔۔۔

دوسری جانب میرے ملک میں فوج کے علاوہ بھی بیشمار ایسے شعبے ہیں جن سے متعلق افراد ملک و قوم کی خدمت میں کسی فوجی سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں۔ ان لوگوں نے قوم کی خدمت کا بیڑہ تو اٹھایا لیکن کسی دشمن سے جنگ لڑتے ہوئے اپنی جان، جانِ آفرین کے سپرد کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا۔ انہوں نے شہادت کی تمنا تو ضرور رکھی، لیکن پرامن موت کی راہ  میں، کہ انکا دین انکو جنگ لڑے بغیر بھی شہادت کی نوید دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو درس و تدریس سے متعلق ہیں۔ انکی زندگیاں علم کی دولت بانٹنے کے لئے وقف ہوتی ہیں۔ یہ ملک میں عدل و انصاف کی فضا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے وکالت و قضا کے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ طالبِ علم ہیں، جو علم حاصل کرنے اپنے گھروں کے آرام کو خیر باد کہتے ہیں، کہ جن کی ناگہانی موت کو احادیث کی زبان میں جنگ لڑتے ہوئے سپاہی کی موت کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ڈاکٹر اور سرجن ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سینکڑوں اور ہزاروں جانیں بچا کر انہیں نئی زندگی کا تحفہ بخشتے ہیں۔

واضح رہے کہ قرآن و حدیث کی رو سے کسی ایک ذی روح کی جان بچانا، آدم سے خاتم تک کی تمام انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ یہ پسینہ بہانے والے وہ محنت کش کسان اور مزدور ہیں، جو حدیث کی رُو سے حبیب اللہ ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہء معاش یعنی تجارت کو اپنانے والے وہ لوگ ہیں جو ملک و قوم کی معاشی خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ ایک فوجی کی مانند نہ تو یہ اسلحے سے لیس ہیں، نہ ہی انکی جنگ کی تربیت ہوئی ہے اور نہ ہی یہ کسی میدانِ جنگ میں وارد ہوتے ہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ دشمن انکے گھروں، انکے دفتروں، انکے کوچوں، انکی سواریوں، انکی راہداریوں،  انکے کھلیانوں، انکے کارخانوں، انکی درسگاہوں، انکی درگاہوں، انکی عبادتگاہوں اور انکے مقاماتِ کسبِ رزق میں گھس کر ان نہتوں کو شہادت کے گھاٹ کے اس پار اتار دیتا ہے۔ اسکے بعد “نامعلوم افراد” کا لقب حاصل کرکے سارے شہر میں دندناتا پھرتا ہے۔

تاریک نہیں، حبِ رسولﷺ، اصحاب و اہلبیتؑ اور حق کی روشن راہوں میں مارے جانے والے ان شہداء کے لئے کوئی سرکاری، نیم سرکاری یا غیر سرکاری اعزاز نہیں؟ انکے بیوگان و یتماء کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں؟ انکا چولہا روشن رکھنے کی کوئی امید نہیں؟؟؟؟ محض ایک گھسا پٹا مذمتی بیان۔۔۔۔ اور اب تو وہ بھی نہیں۔ کفن دفن؟ پسماندگان کی دال روٹی؟ سر چھپانے کی جگہ؟ خانوادے کی حفاظت کی ذمہ داری؟؟؟؟ یہ تشنہء جواب وہ سوالات ہیں کہ جنکا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہ بیچارے پسماندگان خود تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ ایک فوجی کی شہادت پر یقیناً رسولِ پاک، علی، حسین، فاطمہ و زینب سلام اللہ علیہم شاداں و نازاں ہوکر اسکا استقبال کرتے ہیں، لیکن میدانِ جنگ سے دور اپنے گھر میں قتل ہوجانے والے ان شہداء کی ناگہانی موت پر جنت میں بھی ہُو کا عالم ہوتا ہوگا۔ رسولِ پاک، علی، حسین، فاطمہ و زینب سلام اللہ علیہم انکا استقبال تو ضرور کرتے ہوں گے لیکن نجانے کن جذبات کے ساتھ!!!

(Visited 757 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے