Here is what others are reading about!

میرا پڑوسی بھوکا ہے

یہ رقم اس کی سالوں کی جمع پونجی تھی جو اس نے دن رات کی محنت کے بعد بچائی تھی ۔ وہ اس دن بے حد خوش تھا اس کی سالوں کی مراد بر آئی تھی ۔ اس کا حج پہ جانے کا خواب پورا ہونے جا رہا تھا ۔  آج قافلے کے رہنما سے اس کی فیصلہ کن بات ہو گئی تھی اور کل اسے تمام رقم رہنما کو ادا کرنا تھی۔  وہ ابھی سے خود کو مَکّہ اور مدینہ کی گلیوں میں گھومتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔ یہ پیسے جمع کرتے کرتے سالوں اس نے گوشت کا ذائقہ نہ چکھا تھا۔ اس نے یہ سوچ کر کئی ضرورتوں کو بھی تج دیا تھا کہ خدا کے گھر کی زیارت  کرلوں گا تو زندگی بھر کا انعام مل جائے گا اور بخشش کا سامان ہو جائےگا۔

یہی سب سوچتے سوچتے نہ جانے کب وہ گھر پہنچ گیا۔  گھر کے دروازے پر پہنچتے ہوئے اسے گوشت بھوننے کی خوشبو آئی ۔  بیوی سے پوچھا تو اس نے کہا ساتھ والے گھر میں گوشت پکا ہو گا۔ ایک لمحے کو سوچا کہ اس غریب بستی میں رہنے والے سب ہی مالی لحاظ سے گوشت پکانے کی استطاعت تو رکھتے ہی نہیں۔ پھر یہ گوشت کہاں سے پک رہا ہے۔ ایک عرصے بعد گوشت کی خوشبو سونگھ کر جب اس سے رہا نہ گیا تو ساتھ والے گھر میں دستک دی اور کہا آپ نے گوشت پکایا اور ہمیں پوچھا بھی نہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہمسائے کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ یہ سن کر ہمسائے نے  رندھی ہوئی آواز میں شرمندگی سے کہا یہ گوشت آپ کے لئے حرام ہے۔ یہ گوشت آپ کو میں نہیں دےسکتا۔ یہ سن کر وہ بولا کہ آپ کے لئے حلال اور ہمارے لئے حرام ؟ ہم ایک ہی دین کےماننے والے ہیں تو جو چیز آپ کے لیئے حلال ہے وہ میرے لیئے حرام کیسے ہو سکتی ہے؟

ہمسائے  کی آنکھوں سے آنسو گر کر اس کے پھٹے ہوئے کرتے میں جذب ہونے لگے۔کچھ دیر توقف کیا پھر بولا، آپ جانتے ہیں کہ میں ایک غریب مزدور ہوں۔ بڑی مشکل سے گھر کا خرچہ چلتا ہے اور کئی کئی دن فاقہ رہتا ہے . کافی دنوں سے کوئی کام نہیں ملا تو گھر میں فاقے ہونے لگے .آج ایک ہفتے کے فاقے کے بعد مجبور ہو کر باہر سے مرے ہوئے گدھے کا گوشت لایا ہوں کہ اسے کھا کر کم از کم ہم زندہ تو رہ سکیں۔  ہمیں تو اپنی زندگی کی ڈور کو سلامت رکھنے کے لیئے یہ کھانا پڑ رہا ہے اس لئے یہ گوشت آپ کے لئے جائز نہیں۔

یہ سنتے ہی وہ سناٹے میں آگیا . اس کی آنکھوں ہی میں نہیں دل میں بھی طوفان سا امڈ آیا .جن کے در کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنانے چلا ہوں ان کی تو پہلی بات ہی پوری نہ کر سکا کہ “جس کا پڑوسی بھوکاہو اور وہ پیٹ بھر کر سو گیا تو وہ ہم میں سے نہیں .یا اللہ یہ کیا ہو گیا یہ گھرانہ ہفتے بھر سے بھوکا تھا میرے گھر سے ہر پکوان کی خوشبو یہاں تک آتی رہی اور یہ مجبور بھوک سے تڑپتے رہے۔ میں پیٹ بھر کر سو گیا اور یہ فاقہ زدہ اس حال میں تھے .میں جس خدا کے گھر کا حج کرنے جا رہا ہوں اس نے تو بیٹی کو آباد کرنا اس کی شادی کر کے اسے اپنے گھر کا کر دینے کو ہی حج کر دیا ہے اور میں بے خبر رہا۔وہ الٹنے پیروں لوٹا اپنے گھر سے حج کے لیئے رکھی رقم اٹھائی اور اس اس کے ہاتھ پر رکھ دی اور بڑی ہی شرمندگی سے بولا میں معافی چاہتا ہوں آپ کے حال کی خبر نہ رکھ سکا اب آپ اسے قرض حسنہ سمجھ کر قبول کریں۔ اس سے گھر کا خرچ چلائیں اور اپنی بیٹیوں کی رخصتی کا انتظام کریں . اسی رات ایک ولی اللہ نے خواب دیکھا کہ خانہ کعبہ پر دو فرشتے آپس میں بات کرتے ہوئے پوچھتے ہیں. بتاؤ بھلا اس سال کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا تو دوسرے نے کہا اس سال اللہ پاک نے یہاں آنے والے تمام لوگوں کا حج اس ایک آدمی کی محبت میں قبول کر لیا ہے جو کہ حج کرنے آیا ہی نہیں . اور وقت کے اس کو اس عام سے مزدور کا چہرہ دکھا دیا گیا ۔ جسے ڈھونڈ کر اس سے پوچھنے پر انہیں اس کہانی کا علم ہوا اور حج کی مبارکباد بھی پیش کی ۔

 لیکن ہمیں کیا ہم تو تیرہ لاکھ کا بیس لاکھ کا بیل خرید کر پورے علاقے میں اس کے میڈیا میں اپنے نام کی دھوم کیوں نہ مچائیں . پڑوس میں ،عزیزوں میں کسی کی بیٹی محض پچاس ہزار میں بیاہی نہیں جا رہی تو کیا ہوا اس کا نصیب . کسی کے گھر میں مہینوں سے گوشت نہ پکا ہو تو ہمیں کیا. کسی کا چولہا نہیں جلا تو میرا مسئلہ نہیں ،کسی کو کئی دن سے کام نہیں ملا تو میں ذمہ دار تھوڑا ہوں۔ میری ہی گلی میں کوئی دوا نہ ہونے پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے تو خدا اس کو صحت دے ،میں کیوں ٹینشن لوں عید سر پر ہے جی سب سے قیمتی لاکھوں میں تو بیل ہونا ہی چاہیئے جو میرے دروازے پر بندھا ہو ، تو پورے علاقے میں میری بےجا بےجا ہو جائے .آخر کو چار لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہے .ٹی وی بند کرو بھائی کیا ہر وقت دکھڑے سناتارہتا ہے. فاقہ زدہ مخلوق دکھا کر سارے کھانے کا مزا خراب کر دیا . اللہ خیر ۔۔۔۔۔۔۔ شکر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 1,444 times, 1 visits today)

Sidra Ansar is freelance writer based in Rawalpindi. Masters in biological sciences, her areas of interests are social issues and human rights.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے