Here is what others are reading about!

حج

پندو نصائح کی کتب میں ایک ایمان افزا واقعہ تواتر کے ساتھ ملتا ہے جسمیں ایک غریب انسان (کسان، موچی  یا  ایسی ہی کسی اور نوع کا محنت کش) حجِ بیت اللہ کی چاہت میں ساری زندگی پائی پائی جوڑ کر رقم اکٹھا کرتا ہے ۔ جب مقدس سفر پر روانہ ہوتا ہےتو رات کے گھپ اندھیرے میں کوڑے کے ڈھیر پر کچھ سنسناہٹ سنتا ہے۔ اپنی مشعل کی روشنی میں دیکھا تو ایک چادر میں لپٹی ایک خاتون کوڑا چنتے نظر آئی۔ پوچھا کہ رات کے اس پہر کوڑے کے اس ڈھیر میں کیا تلاش کرتی ہو؟ خاتون نے جواب دیا کہ میں ایک سید زادی ہوں۔ میرے یتیم بچے کئی روز کی بھوک کے باعث اب قریب المرگ ہیں۔ رات کی تاریکی میں انکی خوراک کا بندوبست کرنے نکلی ہوں۔ بہت تلاش کے بعد اس کوڑے میں مردہ بطخ کے کچھ اعضا ملے ہیں۔ اپنی اور بچوں کی جان بچانا واجب ہے اس لئے اب یہ مردار ہمارے لئے حلال ہوگیاہے۔ اسی سے اپنے بچوں کی غذا کا بندوبست کروں گی۔ یہ کہہ کر وہ خاتون آگے بڑھ گئی۔

غریب شخص ایک مرتبہ پھر سفرِ مقدس پر روانہ ہوگیا۔ چند قدم بھی نہ چل پایا کہ ضمیر کی دنیا میں ایک طوفان کو مؤجزن پایا۔  دل کی گہرائیوں سے ایک آواز نے جنم لیا۔ آواز آئی کہ یتیم و بیوہ سادات  تیری نظروں کے سامنے مردار کھا کر اپنی جان محفوظ کریں اور تو انہی کے جدﷺ کے روضے کی زیارت کا خواہش مند ہے؟ اگر رسولِ خداﷺ نے پوچھ لیا کہ میرے بچے بھوکے مررہے تھے اور تو مجھ سے ملنے یہاں چلا آیا تو تو کس منہ سے اس رسولﷺ کا سامنا کرے گا کہ جو خود راتوں کو اناج اپنی پشتِ نازنین پر لاد کر بیواؤں اور یتیموں کی ضروریات پوری کیا کرتا تھا۔۔۔۔ اس آواز نے غریب کاسِب کے کان کے پردے پھاڑڈالے اور وہ اپنی پھڑکتی رگوں کو کچھ سکون دینے کے بہانے واپس پلٹا۔ سوچنے لگا کہ ساری زندگی صرف اسی لئے پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا کہ پیسے اکٹھے ہوجائیں تو خانہء خدا اور روضہء رسولﷺ پر حاضری دوں گا۔ دوسری جانب دل یہ کہہ رہا تھا کہ ایک انسان تمام مخلوقات سے افضل ہے۔ چاہے وہ مخلوق خانہءکعبہ یا خانہءنبوی ﷺ ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ کوئی عام انسان نہیں، افضل الانبیاء کی اولاد کا معاملہ ہے۔

دل بدستِ آور کہ حجِ اکبر است

از ھزاراں کعبہ، یک دل بہتر است

دل اور دماغ کی اسی جنگ کولڑتا ہوا وہ بندہءخدا اس سیدزادی کا گھر تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اپنے پاس جو زادِ سفر تھا وہ ان بچوں کے سامنے رکھا۔ سفر کے تمام اسباب اور رقم کو اس سید زادی کے قدموں میں رکھ کر اپنی سواری کو بھی وہیں چھوڑ کر رات کی تاریکی میں واپس پلٹا اور اگلی صبح سے اپنی معمول کی زندگی میں مشغول ہوگیا۔

حج کے دن آگئے۔ مختلف علاقوں سے آئے حاجیوں کا ایک جمِ غفیرلبیک لبیک کی صدائیں لگاتا ہوا  خدا کے گھر کے طواف میں مصروف ہے۔ صحابی ء امام نے کمالِ انبساط سے عرض کی کہ ماشاءاللہ ۔ اس سا ل کتنا بارونق حج ہے۔ خدا اس گھر کی رونقوں کو یونہی قائم و ائم رکھے۔ یہ سن کر امام نے فرمایا۔ یوں نہ کہو کہ رونق بہت ہے۔ یہ کہو کہ شور بہت ہے۔ کیونکہ حاجی تو بصرہ میں ہے۔ صحابی نے حیرت سے پوچھا کہ یا امام! اس بات میں کیا راز پوشیدہ ہے۔ تو امام نے اپنے اس صحابی کو اس سیدزادی کی مدد کرنے والے غریب کسان کے واقعے کی بابت بتایا۔ امام نے فرمایا کہ یہ سب ریاکار لوگ کعبہ کا نہیں، اپنے نفوس کے طواف میں مگن ہیں۔ جبکہ وہ محنت کش انسان بصرہ کے کوچوں میں اپنا حج کررہا ہے۔  امام نے خدا سے دعا کی کہ اس صحابی کی معنوی آنکھوں کو وا کردے کہ وہ خود حقیقت آشنا ہوسکے۔ امام کی دعا مستجاب ہوئی اور صحابی نے دیکھا کہ سانپ، بچھو، کتے، بھیڑئے، بندر ، سؤر اور طرح طرح کے درندے کعبے کے گرد چکر لگا کراسکی حرمت پامال کررہے ہیں۔

حج کاموسم ختم ہوا۔ حاجی اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔ واپسی پر ہر حاجی کا شاندار استقبال ہوا۔ بصرہ کے حاجیوں کا قافلہ جب اپنے گاؤں واپس پہنچا تو اس محنت کش انسان کو بھی مبارکباد دینے پہنچے کہ تمام حج میں تمہارا خضوع و خشوع دیدنی تھا۔ لیکن تم اپنی عبادات میں اتنے مصروف تھے کہ وہاں تم تک پہنچنا ہی ممکن نہ تھا۔ سو ہم نے سوچا  کہ گھر واپس جا کر ہی مبارک دیں گے۔ وہ شخص لوگوں کو یہی کہتا رہا کہ میں تو حج پر گیا ہی نہیں، تم لوگوں کو یقینا ً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ لیکن کوئی اس بات کو ماننے پر تیار نہ تھا۔ غریب انسان بہت پریشان ہوا اور علاقےکی ایک معتبر شخصیت  سے اس سارے معاملے کے متعلق بات کی۔ اس شخص نے کچھ مہلت مانگی اور امام کی خدمت میں رقعہ ارسال کیا۔ جواب آیا کہ خدا نے بیوہ و یتما کی مدد کو اس شخص کے نامہءاعمال میں بعنوانِ حج لکھ دیا ہے۔ اس کی شکل میں ایک فرشتہ خلق کیا  جس پر ا ن گاؤں والوں کو اسی شخص کا شبہ ہوا۔ اب اس فرشتے کی یہی ذمہ داری ہے کہ تا صبحِ قیامت اس وسیع القلب اور خدا ترس محنت کش کی جانب سے حج کرتا رہیگا۔ ۔۔ بقول محسن نقویؔ

ٹوٹے ہوئے دلوں کو کبھی جوڑ کرتو دیکھ

نیکی یہ مختصر ہے – مگر حج سے کم نہیں۔۔۔

اڑتالیس گھنٹے کی لگاتار ڈیوٹی کرکے میں گھر کی جانب چلا۔ تھکن سے جسم چور تھا اور نیند سے آنکھیں بند ہوئی جارہی تھیں۔ میرے دل و دماغ پر صرف اور صرف اپنا بستر سوار تھا۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اڑ کر گھر پہنچ جاؤں۔  فون پر درجنوں کالیں آئی ہوئی تھیں۔ لیکن میرا کسی سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ سگنل پر گاڑی رکی تو فون پھر بجا۔ دیکھا تو فیصل تھا۔ فون اٹھاتے ہی اس نےمیری بے توجہی کے شکوے کرنا شروع کردئے۔ میں نے اپنی مصروفیت کا عالم بتایا تو وہ خاموش ہوا اوربتایا کہ اسکی اڑان کا وقت آچکا ہے۔ اس وقت وہ ائرپور ٹ پر ہے اور کچھ ہی دیر میں امریکہ روانہ ہوا چاہتاہے۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ اس سے آخری مرتبہ ملنے کی ایک کوشش کرلوں۔۔۔

فیصل میرا بچپنے کا دوست تھا۔ ہمارا پڑھنا لکھنا،  کھیلنا کودنا، بچپن لڑکپن سب کچھ ساتھ ساتھ ہی ہوا تھا۔ اب وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے امریکہ جارہا تھا جبکہ میں یہیں پر ہاؤس جاب کررہا تھا۔ میں نے تھکاوٹ کے احساس پر بچپن کی دوستی کو فوقیت دی اور فیصلہ کیا کہ ائر پورٹ پر ہی فیصل سے الوداعی ملاقات کی جائے۔ نیندپوری کرنے کے لئے تو ابھی دو دن کی چھٹی پڑی تھی۔ فیصل سے نجانے پھر کب ملاقات ہو۔۔۔ چنانچہ میں نے گاڑی کا رخ ائرپورٹ کی جانب موڑدیا۔

آج پھر حج کا موسم ہے۔ لبیک کرتے ہوئے حاجی طواف ِ کعبہ و سعیءصفا و مروہ کے بعد ایک مرتبہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ کتنے سعید اور خوشنصیب ہیں وہ انسان جو خانہءخدا اور روضہءرسولﷺ کی جالیوں کے بوسوں سے اپنے لبوں کو سجائے واپس آرہے ہیں۔ ائرپورٹ پہنچا تو ایک  کےبعد ایک فلائٹ سے ہزاروں کی تعداد میں حاجی آرہے تھے۔ حاجیوں سے کہیں زیادہ انکو خوش آمدید کہنے والے میزبانوں کا رش تھا جو بڑی بڑی بسوں اور ویگنوں میں پورے کے پورے گاؤں سمیت آئے ہوئے تھے۔ دراصل حج ہے ہی ایسی عبادت کہ جسکو انجام دینے کے لئے عمر بھر پونجی اکٹھی کرنا پڑتی ہے۔ کئی مسلمان تو ساری زندگی پیٹ بھر کر روٹی نہیں کھاتے کہ بس زندگی میں ایک مرتبہ اس سیاہ پوش عمارت کا نظارہ ہوجائے اور سیاہ کملی پوش رسول ﷺ کے روضے کی جالی کو ایک نظر دیکھنے کا سامان ہوجائے۔۔۔

 ائرپورٹ پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ میں بھی اپنی گاڑی کو ایک لمبی قطار میں لگا کر اسی بے نظم نظام کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ فیصل کا پھر فون آیا کہ ایک گھنٹے بعد اس نے چیک ان کرنا ہے۔ وہ ریسٹورینٹ میں بیٹھا میرا انتظار کررہا ہے۔ میں ائرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کے اژدھام میں پھنس چکا تھا۔ آگے جا سکتا تھا نہ واپس مڑ سکتا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اپنی باری کے انتظار میں وہیں رینگتا رہا۔ پون گھنٹے کی اعصاب شکن مشقت کے بعد میں پارکنگ لاٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن یہاں گاڑی تو درکنار، ایک سائیکل کھڑی کرنے کی بھی گنجائش نہ تھی۔ مزید بیس پچیس منٹ کی تگ و دو کے بعد مجھے بمشکل اپنی چھوٹی سی گاڑی پھنسانے کی جگہ مل ہی گئی اور میں بھاگم بھاگ ائر پورٹ ریسٹورینٹ کی جانب پہنچا جہاں میرے ہر غم و خوشی کا ہمدم مجھ سے الوداعی ملاقات کا مشتاق منتظر بیٹھا تھا۔

فیصل آج اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے امریکہ جارہا تھا۔ اب مستقبل قریب میں تو اس سے ملاقات کا کوئی امکان بھی نہ تھا۔ ہم نے ایک عمر اکٹھے بتائی تھی۔ مجھے اس سے بچھڑنے کا افسوس تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی اس بات کی خوشی بھی تھی کہ وہ امریکہ سے اسپیشلائزیشن کرکے ہمارے پیشے اور ملک کے لئے ایک بیش قیمت اضافہ ثابت ہوگا۔ مجھے فیصل پر رشک بھی آرہا تھا اور اپنی دوستی پر فخر بھی ہورہا تھا۔ ہم نے چائے کے کپ کے دوران بچپن سے اب تک کی تقریباً تمام باتوں کا خلاصہ کر  ڈالا۔ فیصل کی روانگی کا وقت تیزی سے نزدیک آتا جارہا تھا اور میرے سر کا درد مجھ سے بار بار بستر کا تقاضا کررہا تھا۔  اسی دوران ائرپورٹ پر اعلان ہوا کہ روانگی والے تمام مسافران جلد ازا جلد ڈیپارچر لاؤنج میں تشریف لیجائیں ۔  مسافروں کو لینے آنے والے حضرات سے گذارش ہے کہ ائرپورٹ سے باہر تشریف لے جائیں۔ تھوڑی دیر میں ائرپورٹ سِیل کیا جارہا ہے کیونکہ وزیرِ اعظم صاحب معمول کی پرواز سے اچانک تشریف لارہے ہیں۔

فیصل نے قہقہہ لگاتے ہوئے مجھ پر طنز کا تیر مارا کہ تم سنبھالواپنے اس “عوامی” پروٹوکول کو۔ ہم تو چلے “خواص”کے ملک امریکہ۔۔۔۔ میرا دل پہلے ہی اس ملک کے عوامی حکمرانوں کی حرکتوں پر جلا  رہتا تھا۔ وزیرِ اعظم صاحب کی اس اکانومی فلائٹ کی آمد پر بھُن کر بھی رہ گیا۔ جلدی جلدی فیصل کو گلے لگا کر رخصت کیا اور  ریسٹورینٹ سے باہر آگیا۔ اب یہاں آدھا گھنٹہ پہلے سے زیادہ دھکم پیل تھی۔ جہازوں سے اترنے والے مسافر باہر نہیں آسکتے تھے اور برآمدوں میں موجود میزبانوں کو میگا فون پر اعلان کرکرکے اور ڈنڈوں کے زور پر پارکنگ کی جانب دھکیلا جارہا تھا۔ وردی اور بغیر وردی والے سرکاری کارندوں کی جان پر بنی ہوئی تھی اور انسانوں کی بھیڑ تھی کہ کسی قابومیں ہی نہ آتی تھی۔ میں اس مجمع میں اپنے آپ کو ایک ایسا اجنبی سمجھ رہا تھا جو بلاوجہ اس جھنجھٹ میں پھنس چکا تھا۔ ایک دفعہ پھر اعلان ہوا کہ آخری دس منٹوں میں ائرپورٹ کو بالکل خالی کردیا جائے۔ سرکاری اعلان کا اصل مطلب یہ تھا کہ دس منٹ کے اندر اندر ائرپورٹ کو انسان نامی یا انسان نما مخلوق سے پاک کردیا جائے تاکہ ظلِ سبحانی کی پاک سواری کے قافلے کا گزر ہوسکے۔ مجھے حاجیوں، انکے میزبانوں یا عوامی حکمرانوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا ۔ مجھے تو بس خیر خیریت سے اپنے گھر پہنچنا تھا۔ جہاں ماں کے ہاتھ کا کھانا اور میرا نرم بستر میرا منتظر تھا۔ چنانچہ میں پارکنگ لا ٹ میں آیا اور اپنی گاڑی تلاش کرنا شروع کی۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں پون گھنٹہ قبل میں اپنی گاڑی کھڑی کرکے گیا تھا۔ یہ جگہ تو وہی تھی لیکن یہاں مسجودِ ملائک انسان، احساس و ضمیر کو بالائے طاق رکھ کے شیطان کی راہ پر گامزن تھا۔ میری گاڑی کے آگے دو گاڑیاں اور ایک بس کھڑے میری بے بسی کا منہ چڑا رہے تھے۔ میں نے اردگرد کھڑے لوگوں سے ان گاڑیوں اور بسوں کے مالکان کے بارے میں دیافت کیا۔ لیکن ان سب کو تو اپنے اپنےحاجیوں کی فکر تھی جو جہاز سے تو اتر چکے تھے لیکن ان تک نہ پہنچ سکے تھے۔ وہ حاجیوں کے لئے خریدے گئے ہاروں کو اپنے ہی گلوں میں لٹکائے انتہائی گلے اور سڑے ہوئے الفاظ میں اپنے ہی ووٹوں سے منتخب کیے گئے اپنے ہر دلعزیزعوامی لیڈر اور وزیرِ اعظم صاحب کو صلواتیں سنا رہے تھے ۔ میں نے بے بسی کے عالم میں ٹریفک کے سپاہی سے اپنی مظلومیت کا تذکرہ کیا تو اس نے بھی بری طرح سے جھڑک دیا کہ جب وزیرِ اعظم صاحب کا قافلہ نکل جائے گا تو حاجی بھی نکل آئیں گے اور آپ بھی سکون سے اپنے گھر چلے جائیے گا۔ اس مشکل کا اتنا اچھا حل پیش کرنے پر میں اس سرکاری اہل کار کو سراہے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ الگ بات کہ ہونٹوں پر کچھ اور دل میں کچھ تھا۔ ادھر ہر دلعزیز وزیرِ اعظم صاحب  تھے کہ انکا طیارہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

اس وقت مجھے اپنی بے بسی پر رونا آرہاتھا۔  کچھ دیر قبل جس دوست اور اسکی دوستی پر میں فخر کررہا تھا، اب اسی دوست اور دوستی کو کوس رہا تھا۔ اچھا خاصا سیدھا سیدھا گھر جارہا تھا کہ خود ہی دلدل میں پاؤں ڈال دیا۔ تھکن کے مارے برا حال تھا۔ سو بمشکل اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر اسکی سیٹ لٹا کر اسی پر دراز ہوگیا۔ نیند کے جھونکوں سے سر چکرا رہا تھا کہ اچانک سے فون بجا۔ دیکھا تو ہسپتال سے فون تھا۔ میرے دل میں فوراً خیال آیا کہ یقیناً کوئی ایمرجنسی ہے۔ اب پھر گھر کی بجائے ہسپتال جانا پڑے گا۔ یعنی ایک مرتبہ پھر آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے ولا تھا۔ فون اٹھایا تو میرا خدشہ درست ثابت ہوا۔ ائرپورٹ کے ہنگام میں تو پتا نہ چل سکا لیکن ایک بازار میں دھماکہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور تمام ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہسپتالوں میں پہنچنے کی تنبیہہ کی گئی۔ دھماکے کی خبر میرے لئے خود ایک دھماکہ تھی جس نے نیند تو کیا، ہوش ہی اڑا دئے۔ یہ ایک غیر معمولی نوعیت کا دھماکہ تھا جس میں عورتوں اور بچوں سمیت 40 افراد تو موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے اور اس سے کہیں زیادہ وہیں پر، راستوں میں اور ہسپتال پہنچ کر موت و حیات کے لئے مالِ غنیمت بنے ہوئے تھے۔ خیالات کی آنکھوں سے میں ان تمام مناظر کو اچھی طرح سے دیکھ رہا تھا جبکہ میری مادی آنکھوں کے سامنے کئی ہزار خودغرض انسانوں کا ایک جمِ غفیر تھا جسے صرف اپنے رشتہ داروں سے ہی لینا دینا تھا۔ شاید اس میں ان کا بھی کوئی قصور نہ ہو کہ حالات ہی نفسا نفسی والے ہیں۔ ویسے بھی دھماکے ہونا تو اب اس ملک میں ایسے ہوگیا ہے جیسے کبھی ٹی وی پر ہفتہ وار ڈرامہ آیا کرتا تھا۔

میں گاڑیوں اور انکے مالک انسانوں کی بھیڑ کے درمیان بری طرح پھنسا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے لوگوں سے ٹکراتا ہوا اور اپنا راستہ خود بناتا ہوا اندھا دھند باہر کی جانب ٹیکسی کی تلاش میں بھاگا۔ باہر نکل کر دیکھا تو بندہ نہ بندے کی ذات، صرف پولیس اور فوج!!! تاحدِ نگاہ خالی سڑک جس پر کسی گاڑی کا نام و نشان تک نہیں۔ میں بے بسی کا نشان بنا سڑک کے کنارے کھڑا تھا کہ ایک پولیس والا سیٹیاں بجاتا ہوا مجھ تک لپکنے کو دوڑا۔ شاید اس تک بھی دھماکے کی خبر پہنچ چکی تھی اور وہ مجھے ہی اس واردات کا سرغنہ سمجھ کر اپنی ترقی کے خواب اپنی آنکھوں میں سجا بیٹھا ہو۔  لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس بیچارے کو تو بس اپنی نوکری کی فکر تھی۔ اس نے بری طرح سے مجھے جھڑکا اور یہاں سے ہٹ جانے کو کہا۔ وزیرِ اعظم صاحب کی پرواز کسی بھی وقت متوقع تھی اور کسی بھی لمحے انکا قافلہ اسی سڑک پر آسکتا تھا۔ اگر سڑک پر موجود کسی عام شہری پر وزیرِ اعظم صاحب کے اسٹاف کی نظر پڑ جائے تو ایسے میں ڈیوٹی پر موجود افراد کے لئے یہ موت کے معنی رکھتا ہے۔ چنانچہ مجھے لمحوں کے دوران واپس ائر پورٹ کے احاطے میں دھکیل دیا گیا۔

میرا فون مسلسل بج رہا تھا۔ میرے ہسپتال کا اسٹاف شدت سے میرا منتظر تھا۔ شاید ہسپتال والے اس شدت سے میرا انتظار نہ کررہے ہوں کہ جس شدت سے میں خود زخمیوں کی مدد کرنے کے لئے بیتاب تھا۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں ہی یہ جانتا تھا کہ دھماکو ں کے بچ جانیوالوں کو میڈیا کی زبان میں تو “زخمی” کہا جاسکتا ہے لیکن اصل میں شاید ان بیچاروں کے لئے کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔ کیونکہ زخم کا علاج کرکے انسان دوبارہ صحت مند ہوکر اپنی زندگی کے معمولات میں مصروف ہوجاتا ہے۔ لیکن دھماکے کے پسماندگان میں سے کسی کے  پاس ہاتھ نہیں رہتا۔ کسی کی ٹانگیں نہیں ہوتیں۔ کسی کی آنکھیں ضائع ہوچکی ہوتی ہیں۔ کسی کا جسم جھلس چکا ہوتا ہے اور اکثریت اس خونیں منظر کی دہشت کو تادمِ مرگ اپنی یادداشت سے مٹانے کے قابل نہیں رہتی۔ یہاں پر بڑے بڑے ماہرینِ نفسیات بھی ناکام ہوجاتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں اس قسم کے علاج کا تصور بھی نہیں ہے۔ ارے یہاں تو آپریشن کے لئے آلات ،     جگہ اور معمولی معمولی دواؤں  اور خون کی بھی شدید قلت ہے۔ شایداسٹاف، آلات، دواؤں اور خون کی قلت سے بھی کام چل جائے لیکن ہمارے معاشرے میں جس چیز کی قلت سے انسان مر رہے ہیں، وہ ہے انسانیت۔۔۔۔

شہر میں دھماکہ ہو گیا ۔ 50 افراد لقمہءاجل بن گئے۔ سینکڑوں زخمی۔ اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جاں بحق افراد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میں ائرپورٹ کے فٹ پاتھ پر بے بس بیٹھا ہوں۔مسلسل فون پر اپنے ہسپتال اور دوستوں سے رابطے میں ہوں۔ میرا ہسپتال میں ہونا شدید ضروری تھا۔ اس لئے نہیں کہ میرے بغیر کچھ ہو نہیں سکتا تھا۔ میں تو ایک طالبِ علم تھا اور میرے ہسپتال میں بڑے بڑے  اور قابل ترین ڈاکٹر اور سرجن تھے۔ ان کے درمیان میری حیثیت شاید ایک معمولی  مددگار سے زیادہ کی نہ ہو۔ لیکن یہ وقت میرے لئے ایسے ہی تھا جیسے کسی فوجی کے لئے میدانِ جنگ۔ کیونکہ میرے والدین، اساتذہ،  مذہب اور میری پیشہ وارانہ تربیت نے مجھے انسان سے محبت کرنا سکھایا تھا۔مجھے اس دین سے متمسک ہونے پر فخر ہے کہ جسکی تعلیمات کے مطابق کسی ایک انسان کی زندگی بچانا تمام خدائی کو بچانے کے مترادف ہے۔  میں اپنے شب و روز پریشان حالوں میں گزار رہا تھا۔ جب کسی مریض کے چہرے  کے کرب کے درمیان سے امید اور خوشی کی کوئی کرن پھوٹتی تھی تو سکون مجھے ملتا تھا ۔لیکن آج میں عجیب امتحان میں تھا۔ میری تخیلاتی نظروں کے سامنے کٹے پھٹے انسان پڑے تھے جنہیں میری ضرورت تھی لیکن میں بے بس تھا۔ اسی اثنا میں ہسپتال سے میرے دوست  ڈاکٹرعمیر کا فون آیا کہ اکثر مریضوں کو تو سنبھال لیا گیا ہے۔ خون دینے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ لیکن ایک سات سالہ بچے  کامران کا فوری آپریشن کرنا ہے اور اسکا بلڈ گروپ اے بی نیگیٹو ہے۔ اس وقت بلڈ بینک میں بھی یہ خون دستیاب نہیں۔ کسی طرح سے ہسپتال پہنچو ۔۔۔یہ خون اب تم ہی دے سکتے ہو۔

عمیرکے فون نے میرے بدن میں جھرجھری ڈال دی۔ میں پہلے ہی بیتاب تھا۔ اب یہ بیتابی قلبی بے چینی میں ڈھلنے لگی تھی۔ اسی اثنا میں نظروں کے سامنے آگیا وہ شاہکار، جسکا تھا انتظار۔۔۔ وزیرِ اعظم صاحب کا طیارہ دھیرے دھیر رن وے پر اتر ہی گیا۔ میرے دل میں امید کی کرن جاگی کہ اب انشاءاللہ تھوڑی دیر میں سب بلائیں ٹل جائیں گی۔ دس منٹ بعد سائرنوں کا شور اٹھا اور معمول کی پرواز سے آنیوالا قافلہ وی آئی پی لاوئج کی جانب سے پچھلا راستہ پکڑتا ہوا یہ جا اوروہ جا۔ ۔۔یہ ہم عوام کے چہروں پر اشرافیہ کا ایک اور تھوک تھا۔ ائرپورٹ کو جانیوالے سارے راستے پچھلے ایک گھنٹے سے بند تھے۔ اور ائرپورٹ کے اردگرد دو کلومیٹر تک کے علاقے میں کسی پرندے کو پر مارنے کی اجازت نہ تھی۔ شہر میں بم پھٹا تھا جسکے نتیجے میں اب تک 55 افراد شہید ہوچکے تھے۔ ٹریفک کے اژدھام میں ایمبولینسز پھنسی ہوئی تھیں۔بیشمار ڈاکٹر اور مجھ جیسا بلڈ ڈونر اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے جبراً قاصر کردئے گئے تھے۔ میں نےاس شرمناک اور غلیظ ڈرامے کے اس ڈرامائی اختتام پر خدا کا شکر ادا کیا اور ایک نئی امید کے ساتھ اپنی گاڑی کی جانب چلا۔ عمیر کو فون کرکے اپنے جلد پہنچنے کی خوشخبری دی اور اپنے قدموں کو چلنے کی بجائےدوڑنے پر آمادہ کیا۔  اسی دوران حاجیوں کے قافلے جوق در جوق ائرپورٹ سے برآمد ہونا شروع ہوگئے۔ ان کا استقبال کرنے والوں کا ایک سیل تھا جو نعرہء تکبیر کی گونج میں اپنے اپنے رشتہ داروں کو گلے لگانے اور انہیں کاندھوں پر اٹھانے میں مصروف تھا۔ کہنے کو تو انسان پر عائد کی گئی سب سے ثقیل اور مشکل عبادت سے واپسی کا روح پرور اور رونق افروز منظر تھا لیکن نامعلوم کیوں مجھے یہ ایک شور زدہ بھیڑ سے زیادہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

ائرپورٹ کھل چکا تھا  اور اب انسانوں کے علاوہ انسانوں سے لدی پھندی گاڑیوں کا بھی ایک سیل تھا جو انتہائی بدنظمی اور بے ھنگمی کے عالم میں پارکنگ کے قید خانے سے نکلنے کو بے تاب تھا۔ ادھر سات سالہ کامران  موت و حیات کے پلِ صراط پر رقص کناں  اپنا توازن کھوتا ہوا میرے ایک بوتل خون کے سہارے کا منتظر تھا ۔ شاید کامران سے زیادہ میں ہی بیتاب تھا کہ خدا نے اس وقت میرے کاندھوں پر کامران کی صورت میں ازل سے تخلیق کی گئی تمام خدائی  کی جان محفوظ کرنے کی ذمہ داری عائد کردی تھی۔ میں خدا کے فضل و احسان کے سہارےاس امتحان کو دینے اور اس پر پورا اترنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا۔ لیکن کامران اور میرے درمیان آتشِ نمرود کا ایک دریا حائل تھا۔ میں دوباری ٹیکسی اسٹینڈ کی جانب لپکا۔ لیکن ٹیکسی والوں کے لئے اس وقت حاجیوں  کی “خدمت” زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کامران کی سانسوں کی ڈوری ڈھیلی پڑتی جارہی تھی اور میری نبضیں بھی ڈوبی جارہی تھیں۔

فون ایک بار پھر بجا۔ ڈاکٹر عمیر نے کہا، حیدر تم اب گھر جاؤ۔ تمام معاملات نمٹ چکے ہیں۔ تراسی مریضوں کو ٹریٹمینٹ دے دی گئی ہے۔ خدا نے سینکڑوں فرشتے بھیج دئے تھے جنہوں نے خون کے ڈھیر لگا دئے۔ مریضوں اور انکے لواحقین کے لئے دیگیں بھی پہنچا دی گئی ہیں اور انکے رات کا بندوبست کرنے کے لئے لوگ اپنے گھروں سے کبمل اور چادریں لیکر پہنچ گئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کامران کا کیا حال ہے تو جواباً  عمیر نے کلمہء استرجا پڑھ دیا۔

ڈاکٹر عمیر کے منہ سے انا اللہ ۔۔۔ سن کر میری روح فنا ہوگئی اور میں اپنے اعصاب پر قابو رکھنے میں ناکام ہوگیا۔ آنسوؤں کی ایک لڑی میری آنکھوں سے جاری ہوگئی اور میں وہیں زمین پر بیٹھ کر اپنی چشمِ تصور میں کامران کو اس دنیا سے رخصت ہوتا ہوا دیکھنے لگا۔ وہ کامران جو میری معمولی سی مدد سے ایک شاندار مستقبل والی زندگی شروع کرسکتا تھا۔ لیکن شاید قدرت کو ایسا منظور ہی نہ تھا۔ چلتا ہوا میں اپنی گاڑی کے پاس پہنچا۔ لیکن کیا فائدہ! اب میری گاڑی ساری عمر یہاں پھنسی رہے یا  یہاں سے نکل جائے۔۔ وقت تو بہر حال نکل ہی گیا۔  گلے میں ہاروں کے طوق لٹکائے، تیس دانتوں پر مشتمل شیطانی مسکرا ہٹ لئے چاپلوسوں کے کندھوں پر سوار سابق سینیٹر الحاج مولانا فلانے خان ائر پورٹ لاؤنج سے برآمد ہوئے جو اس سال مسلسل سولہواں حج کرکے لوٹے تھے۔  پچھلے چار گھنٹوں سے میری گاڑی کے راستے میں انہی کے قافلے کی گاڑیاں حائل تھیں۔ سابق سینیٹر اور ایک اور ہر دلعزیز عوامی اور مذہبی لیڈر کو برآمد ہوتا دیکھ کر وہیں پر موجود ایک صحافی اپنا مائک پکڑے مولانا صاحب کے سامنے جا گھسا اور انہیں مسلسل سولہواں حج کرنے پر مبارکباد دی۔ ساتھ ہی اپنی پیشہ ورانہ مجبوری کے تحت کچھ دیر قبل ہونے والے دھماکے کے متعلق بھی سوال داغ ڈالا۔ الحاج مولانا  صاحب نے ان دھماکوں پر آئیں بائیں شائیں کی ملاوٹ کے ساتھ اپنے اطمنان کا اظہار کیا اور برملا یہ کہا کہ ایسے دھماکے اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک کہ ہمارے برادرانِ ایمانی پر ڈرون حملے بند کرکے انہیں سیاسی دھارے میں شامل نہ کیا جائے۔ ۔۔ واہ واہ سبحان اللہ۔ نعرہء تکبیر کے ساتھ الحاج مولانا کا قافلہ میری گاڑی کا راستہ صاف کرتا ہوا اپنی منزل کی جانب چل پڑا ۔

دس صدیاں قبل بصرہ کے کسی محلے میں کوڑے کے ڈھیر پر ایک بی بی مردہ بطخ کے اعضا چن رہی تھی۔ جبکہ آج میرے تصور میں بطخ کے نہیں، انسانوں کے اجزا چنتی ہوئی مائیں اور بہنیں نظر آنے لگیں۔ کبھی کسی کو کعبے کے گرد درندے چکر لگاتے نظر آئے  تھے۔  مجھے لگا کہ جیسے کسی کی دعا نے میری معنوی آنکھیں وا کردی ہیں۔  میں نے دیکھا کہ الحاج مولانا یکدم ایک اژدھے کا روپ دھار گیا ہے جو کعبے کے بعد اس پاک سر زمین کی حرمت کو پامال کررہا ہے۔

(Visited 1,064 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے