Here is what others are reading about!

ست بسم اللہ گرم حمام

ست بسم الله گرم حمام میں اس وقت قوم کے چند افراد پر مشتمل پانچ  ٹیمیں ملک و قوم کے پانچ مسائل پر محو گفتگو ہیں۔ آئیے ان پانچوں ٹیموں کی گفتگو سنتے ہیں۔

ٹیم نمبر ایک :
راجا صاحب شیو بناتے  ہوئے ساتھ ساتھ ہمسائے دوکاندار سے بھی محوِ گفتگو ہیں۔
راجا صاحب کا پہلا سوال ؛ ” کیا بنا میچ کا”
ہمسایہ دوکاندار مایوسی سے سر جھکاتے ہوئے؛ ’’ہار گئے‘‘
راجا صاحب کا سوال نمبردو؛ ” کتنے پیسے ”
ہمسایہ  دوکاندار زرا مزید مایوسی سے؛ ” ہزار روپیہ ”
راجا صاحب شیو کرواتے ہوئے شخص کو شاملِ گفتگو کرتے ہوئے ہمسایہ دوکاندار کا مختصر منظر نامہ پیش کرتے ہیں؛  ” اس کے گھر کھانے کیلئے روٹی نہیں ہے۔آٹا نہیں ہے ان کے پاس اور یہ جوا کھیلتا پھر رہا ہے ۔۔۔”
زیرِ شیو گاہک فوری اور صدقہ جاریہ سمجھ کے مفت جواب فراہم کرتے ھوئے؛  ” روٹی دینا الله کا کام ہے۔۔۔ بندے کا نہیں۔۔۔ھم میں سے کوئی آٹا پورا نہیں کر سکتا۔۔۔کیا تم پورا کر سکتےہو ساری دنیا کا آٹا”
راجا صاحب ندامت سے سر جھکاتے ہوئے؛ ” بس جی رب دیاں رب جانے”

ٹیم نمبر دو:
دو پندره سالہ نوجوان اور چار ستر سالہ قریب المرگ بزرگان  محو گفتگو ہیں۔
ایک بابا جی مقبوضہ ڈکار مارتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔ “یہ ملک ہم نے بہت سی قربانیوں سے حاصل کیا تھا۔۔۔ اس کے آئین میں درج ہے کہ اس کا حاکمِ اعلی پروردگار خود ہے۔۔۔ خود الله تعالی بذاتِ خود۔۔۔ ”
ساتھ تین بزرگان واه واه کرتے ہوئے اور باوثوق انداز میں ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے۔۔۔ جیسے انہوں نے ساری زندگی اس کے سوا، اس سے بہتر طریقے سے کوئی اور کام نہ کیا ہو۔۔۔
ایک نوجوان ذرا تردد سے ڈرتے ڈرتے پوچھتے ہوئے،  ” تو مطلب آپ ساری زندگی اس بات کا یہ مطلب سمجھتے رہے ہیں کہ “الله تعالی” خود ذمہ دار ہے اور خود آ کر بے ایمانی، چور چکاری، جہالت ختم کرے گا۔۔سکول ،اسپتال بنائے گا۔۔۔بجلی پیدا کرے گا۔۔۔ساری تکلیفیں اور دکھ درد سمیٹے گا۔۔۔  آپ کی اس کھوکھلی الحمدالله، انشاالله، ماشالله اور جزاک الله کی محنتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے؟ “
بزرگان غصے سے نوجوانوں کی طرف لپکتے ہوئے؛ ” استفغر الله۔۔۔  اٹھو تہاڈی ماں دی  ۔۔۔۔۔”

ٹیم نمبر تین:
دو پچاس سالہ اور دو پچیس سالہ  افراد محو گفتگو ہیں؛

 “یہ  ملک اب تک کیسے قائم ہے؟” ایک پچاس سالہ جدید ادھیڑ عمر پراپرٹی ڈیلر جس کو صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے۔۔۔ آپ جناب دورانِ گفتگو بات پر کم اور شاملِ بحث لوگوں پر زیاده زور دیتےہیں؛ “یہ ملک صرف اور صرف فوج کی وجہ سے قائم ہے۔۔۔ کیونکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں”
ایک پچیس سالہ نوجوان دوسرے نوجوان کے منہ کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔  ” تو پھر یہ دنیا کا پہلا ایٹم بم ہے جو سائنسدانوں کی بجائے فوج نے بنایا ہے”
پراپرٹی ڈیلر للکارتے ہوئے۔۔۔ ” تہاڈی بھین ۔۔۔ابے نئی نسل کے غدارو۔۔۔ آج اسی وجہ سے امتِ مسلمہ مشکلات کا شکار ہے کیونکہ تم جیسے نوجوان ان باتوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے ٹھیک سے۔۔۔۔”

ٹیم نمبر چار:
متفرق افراد آپس میں حو گفتگو ہیں؛
” نہ رو ۔۔۔نہ رو بھائی نور دین۔۔۔نہ ۔۔۔بس کر دے۔۔۔الله تعالی اور دے گا”۔۔۔
نور دین غم و اندوه سے چلاتے ہوئے۔۔۔  ” الله دین میرے بھائی تم کو پتہ ہے وه صرف کتا نہیں تھا ۔۔۔ وه بیٹا تھا میرا بیٹا ۔۔۔ مجھے اولاد سے بھی زیاده عزیز تھا”۔۔۔۔۔
ساتھی شرکأ  کانا پھوسیاں فرماتے ہوئے ۔۔۔ “مرا کیسے ہے اس کا کتا بھائیو”
” لڑائی میں ہار گیا تھا۔۔۔کتا خودہی صدمے سے اور غیرت سے مر گیا واپسی پر گھر آتے ہوئے۔۔۔ بس جی الله تعالی صبر دے اس کو۔۔ ۔بڑا غیرت مند کتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیر تھا شیر۔۔۔کتا نہیں تھا۔۔۔۔ ”

ٹیم نمبر پانچ:
یہ  ٹیم یلغار پہ ہے ۔۔۔ اس وقت محاذِ جنگ پہ ہے۔۔۔
ایک باریش نوجوان فون پہ گاؤں کے ساتھی جنگجووں کو ترنت کمک کی فراہمی کی درخواست کرتے ہوئے۔۔۔ ” چاچا کماد کو گھیرا ڈال لو چاروں طرف سے ۔۔۔ اعلان کروا دو گاؤں کی مسجد میں کہ گلامے دین دار کے لڑکے نے فرقہ بدل لیاہے۔۔۔  گاؤں کے پیر کی قبر کو کلہاڑیوں سے زخمی کر کے کماد میں چھپ گیا ہے کافر کہیں کا۔۔۔ سارے گاؤں والے پہنچیں جتنا جلدی ہو سکے۔۔۔”

اب تک کے لئے بس اتنا ہی۔۔۔۔

(Visited 987 times, 1 visits today)

Babar Dogar is a freelancer based in Pakpattan. He has studied International Relations at Quaid e Azam University. His areas of interests are politics and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے