Here is what others are reading about!

زیبرا، بول پلاٹون اور بِلّو

اس رات ہم 6 لوگ چائے کے اس کھوکھے کے تین بنچوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ کی تو ایک دوسرے سے یہ پہلی ملاقات تھی اور کچھ ایک دوسرے کے لئے یارانِ غار کا سا درجہ رکھتے تھے۔ یہاں اس غار سے میری مراد اصحابِ کہف والا غار ہے۔   اور ملاقات کی وجہ بھی بہت عجیب تھی۔ خوا مخواہ بولنے کی عادت نے مجھے پھنسایا تھا۔ ’واہ‘، ’بہت خوب‘ اور ’کمال ہے‘ جیسے الفاظ جو بظاہر بہت بے ضرر محسوس ہوتے ہیں ان کے باعث ہی ان انتہائی علمی افراد کے بیچ بیٹھا اس وقت میں یوں محسوس کر رہا تھا جیسے چڑیا گھر میں کھڑا زیبرا اپنے سامنے کھڑے بچوں کو دیکھ کر یہ سوچتا ہو گا کہ کہیں یہ اپنے ذہن میں مجھے میری سفید  لکیروں سے مبرّا نہ سوچ لیں ورنہ میں انہیں گدھا دکھائی دوں گا۔ تجسس نے حضرتِ انسان سے بڑے بڑے کام کرائے ہیں۔ بڑی بڑی ایجادات سے لے کر دنیا اور پھر کائینات کی تسخیر جیسے عظیم کام اسی تجسس کا شاخسانہ ہیں۔ یہ دوست بھی متجسس تھے کہ دیکھیں تو سہی یہ ہر بات میں لقمہ دینے والے صاحب آخر ہیں کون۔ ڈرا سہما انٹرویو پینل کے سامنے بیٹھ گیا لیکن چند ہی لمحوں میں گھبراہٹ کی کیفیت کافور ہو گئی۔

یہ کھوکھا جس سڑک کے کنارے واقع تھا وہ سانگلہ ہل سے چک جھمرہ کو ملاتی تھی اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اکا دکا کسی گاڑی کا شورسنائی دے جاتا تھا۔ قریب ہی ٹائر والا ایک گاڑی کے ٹائرکو پنکچر لگا رہا تھا۔  سر پربجلے  تار کے ساتھ جھولتے ہوئے پیلے بلب کی روشنی کا اثر تھا یا پورے چاند کا طلسم کہ سب کچھ بہت اجلا، بہت خوبصورت نظر آرہا تھا۔ چائے کے اس کھوکھے پہ بیٹھے وقت کے گزرنے کا قطعاْاحساس نہ ہوا۔ ہر اچھے وقت کو شائید خوبصورتی کے خمیر سے ہی گوندھا گیا ہے۔ عید کا دوسرا دن تھا اور کھوکھا خوب آباد تھا۔ چائے کی چسکیاں بھرتے لوگ، ملکی سیاسی حالات، مسائل  اور ان کے حل ہر انتہائی پر مغز گفتگو کر رہے تھے۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں چائے کے ایسے کھوکھے،   بسوں کے اڈوں کا ایک خاصہ ہے۔ کسی زمانے میں یہ اعزاز ریلوے سٹیشنز کو حاصل تھا مگر اب صراط مستقیم پر سفر کرنے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔ ورنہ ریلوے سٹیشن سے زیادہ خوبصورت جگہ کوئی نہیں ہو سکتی جہاں آنے والوں کی خوشی کے جذبات بھی سو بسو بکھرے ہوتے ہیں اور جانے والوں کے رندھے ہوئے لہجے بھی فضا کو ابر آلود کرتے جاتے ہیں۔ دیدہِ بینا کو ان مناظر سے بڑھ کر اوربھلا کیا چاہیئے۔

اوہ اس تمہید میں آپ سے ان افراد کا تعارف کرانا تورہ ہی گیا جو بہت اشتیاق اور محبت سے زیبرا دیکھنے آئے تھے۔ آئیں باری باری ان سب سے آپ کی ملاقات کراتا ہوں۔

یہ میرے ساتھ مبارز بیٹھے ہیں۔  ملکی اور غیر ملکی تاریخِ حرب پر ایک گہری نظر رکھتے ہیں۔ اور ان کے اس ضمن میں تبصرے عموماً انتہائی  بے لاگ اور بے لچک ہوا کرتے ہیں۔ یہ اگر کبھی آپ کو بجھے ہوئے نظر آئیں تو آپ کسی جنگ کا ذکر چھیڑ دیکھیں۔ ممکن نہیں کہ موصوف کا مزاج بحال نہ ہو اور اس جنگ کے سیاق و سباق، آئیندہ نسلوں پر  ہونے والے اثرات،  اس جنگ کے سپاہ سالار کی جنگی حکمت عملی اور کوتاہ اندیشی پر آپ کو انتہائی قطعیت اور جامعیت کے ساتھ معلومات بہم نہ پہنچائیں۔ اور اگر آپ ان کی رائے سے اختلاف کریں گے تو ایک فلک شگاف قہقہہ آپ کی سماعت سے ٹکرائے گا اور آپ اپنی رائے پر شرمندہ ہو کر اپنی بغلیں جھانکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس کا قہقہہ ایک دم شروع ہو جاتا اور اس سے پہلے کہ بندہ حیرت سے اسے دیکھ کر یہ معلوم کر پائے کہ وہ کیوں ہنس رہا ہے وہ ایک دم ایسے خاموش ہوتا جیسے کسی نے اسے چوری کرتے پکڑ لیا ہو۔  موٹروے پر 120 کی سپیڈ سے چلتی گاڑی کو اچانک بریک لگانی پڑ جائے تو آپ سمجھ سکتے ہیں مسافروں پر کیا بیتتی ہو گی۔ اپنے تئیں خود کو ایک مردم بیزار انسان ثابت کرنے کی کوشش میں غلطاں رہتا ہے۔ زیادہ وقت چونکہ خود اپنے ساتھ گزارتا ہے اس لیئے اپنا بہت بڑا فین ہو گیا ہے۔ خود سے ہنسی مذاق اور طنز کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ ایسا کٹیلا طنز جو بقول اس کے اس کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ اپنی سوچوں میں الجھا ہوا یہ انسان ایک ایسے بچے کی طرح تھا جو عمر سے پہلے قد نکال گیا ہو اور اس وجہ سے لوگوں سے شرماتا اور چھپتا پھرتا ہو۔ کمال اس کا یہ تھا کہ ہمارے ساتھ بیٹھے کئی جگہ خود کو حاضر رکھے ہوئے تھا۔ پتہ نہیں یہ کمال اس نے کیسے حاصل کیا۔ پوچھنے پر کبھی نہیں بتائے گا سو دوستوں کو خود کھوجنا ہو گا۔

طلال میرے سامنے بیٹھا تھا۔ طلال کا چہرہ فقط آنکھیں ہی آنکھیں تھا۔ وہ آنکھیں جو مخاطب کے چہرے میں پیوست ہو کر ہمہ وقت کچھ کھوجنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ وہ ذہن پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ بس مد مقابل کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کو چت کرناہی اس کا مشغلہ تھا۔ اور اس پر ستم یہ کہ وہ اپنی اس خوبی سے آگاہ بھی تھا۔ وہ اس کھیل سے محظوظ ہوتا تھا۔ اس کی شخصیت میں اس کی آنکھیں اس کے ڈیل ڈول سے بڑھ کر تھیں۔ کبھی ان میں ایسی چمک امڈتی جیسے کسی چھوٹے سے بچے کو کوئی شرارت سوجھتی ہے تو کبھی جب کوئی دوسرا اپنی بات کو طول دینے لگتا  تو وہ ایسے دیکھنے لگتا جیسے اس کے ہاتھ سے کھلونا چھین لیا گیا ہواور وہ مضطرب ہو کر پہلو بدلے لگتا۔ اس کو سزا دینی ہو تو اس کو خاموش کرا دو۔ اس سے مشکل وقت اس کے لئے کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ تقریر ہے، قاری نہیں، سخن ہے، سماعت نہیں۔ وہ اپنے سامعین سے بے نیاز ہو کر بولنے پر قادر ہے۔ کسی سکالر سے لے کر کسی مزدور تک، وہ سب کے ساتھ یکساں سہولت سے بات کر سکتا ہے۔  وہ جب بولتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے کوئی مری کی کسی خنک شام،  گرم چائے کا مزا لے رہا ہو۔ بہت کم لوگ اپنی گفتگو سے خود بھی لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ طلال ان میں سے ایک ہے۔

اور یہ ہیں منصور۔ ان کا گُن ان کے چہرے کے تاثرات ہیں۔ یہ حضرت اپنےچہرے کے تاثرات سے اس قدر فصیح گفتگو کرسکتے ہیں کہ اگر ان کواپنی اس خوبی کا اندازہ ہو تو وہ کئی دنیائیں فتح کر لیں۔ مسکراہٹ اس کے چہرے کو ایسے بھگوئے رکھتی ہے جیسے بھادوں کی پہلی پھوار آنگن کی مٹی کو نم کرتی ہے لیکن پانی کھڑا نہیں ہونے دیتی۔  تمام نشست میں انہوں نے زیادہ تر اپنے چہرے کے تاثرات سے شرکت کی اور بھرپور شرکت کی۔  یہ بندہ سوال بھی پوچھتا تھا، جواب بھی دیتا تھا، تائید بھی کرتا تھااور دوسروں کی رائے کو بغیر کوئی لفظ ضائع کئے مسترد بھی کرتا جاتا تھا۔ شائید دنیا کو کیمرے کے پیچھے سے دیکھنے کی عادت مستقل ہو گئی ہو۔ اور وہ دیکھتا بھی ایک خاص زاویے سے ہے۔ ایک عادت سوچنے کی بھی تھی جو کم و بیش ان تمام دوستوں میں پائی جاتی تھی۔ آج کا نوجوان ہو اور سوچتا بھی ہو یہ بڑی انوکھی اور عجیب بات تھی۔

 یہ روشان ہیں۔ ان صاحب سےمیرا تعلق ذرا پیچیدہ ہے اور پیچیدہ تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ مجھ سے کئی سال بڑا ہے لیکن یہ محض ایک اتفاق ہے کہ مجھ سے کئی سال بعد پیدا ہوا۔ ہرخود پسند انسان کی طرح عموماً میں ان لوگوں سے دور رہتا ہوں جن کے بارے میں یہ خیال ہو کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ اپنے حلقہ احباب میں ایسے دو افراد کو جانتا ہوں جن میں سے ایک کا گذشتہ دنوں انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ روشان  کی عمر دراز کرے۔ آمین۔  بزعم خود ذرا غیر روائیتی سوچ رکھنے والا یہ انسان بلا کا ذہن رکھتا ہے اور میں اس کی اس خوبی سے بہت خوفزدہ ہوں۔ خوش رہنے کے لئے انسان کو تھوڑا سا بے وقوف بھی ہونا چاہئے۔ یہ صاحب ٹراؤٹ کی طرح موجوں کے مخالف تیرنا چاہتے ہیں۔ سیدھی اور آسان زندگی، لوگ اور کیفیت انہیں رجھاتے ہی نہیں۔ ان کی شخصیت نارمل زندگی کو قبول ہی نہیں کرتی اور یہ عارضہ انہوں نے اپنی زندگی میں شعوری کوشش سےزبردستی کشید کیا ہے۔

مذکورہ افراد کا ایک مشترکہ خاصہ یہ بھی ہےکہ  یہ اس دور کے وینڈیٹا کے وی ہیں۔ اپنے معاشرے کی آلودگی سے بیزار ہیں لیکن اس بیزاری کا اظہار گالیاں دے کر نہیں کرتے بلکہ اس کے سدھار میں گالیاں کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ دامے درمے سخنے اس جہاد میں ہمہ وقت غلطاں و پیچاں رہنا ان کا ایمان ہے۔

معید کو بچپن سے جانتا ہوں۔ ان کے بچپن سے بھی اور اپنے بچپن سے بھی۔ یہ وہ پہلی ہستی ہیں جن کا میں نے نام رکھا تھا۔ اور وہ نام ہے بِلّو۔ ہر چند کہ اسے اکثر یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ میں اسے نہیں جانتا۔ لیکن یہ اعتراف بہرحال کرنا پڑے گا کہ اس کی شخصیت کے اس پہلو سے میں اس حد تاک واقف نہ تھا۔ مجھے نہیں پتہ چلا کہ پڑھنے پڑھانے کا یہ شوق کب اس کی زندگی میں در آیا اور کیونکر در آیا۔ اپنے مخصوص فی البدیہہ تقریر کرنے والے انداز میں گفتگو میں حصہ لیتے اس نوجوان نے بھی اس رات مجھے بڑا متاثر کیا۔ اس کی حس مزاح بہت کٹیلی ہے اور قدرے تجریدی بھی چنانچہ ایک ہی فقرے پہ بعض لوگ ہنس رہے یوتے ہیں تو بعض ناراض ہو جاتے ہیں جبکہ اکثریت جملے کا مطلب کھوجنے میں مشغول رہتی ہے۔ الحمدللہ میں مسکرانے والے گروہ میں شامل ہوں۔ یہ بندہ زندگی کے بہت سے معاملات میں میرا بوجھ بانٹنے والوں میں شامل ہے۔

تو لیجئے تعارف ہو گیا۔ اب بارے اس نشست کے کہ اس میں کچھ کتابوں کی، کچھ پڑھنے پڑھانے کی ، انسان کی، خدا کی، انسان کے انسان سے تعلق کی، خدا کے انسان سے تعلق کی اور انسان کے خدا سے تعلق کی کچھ باتیں ہوئیں۔ وہ باتیں جو ان صاحبان کی علمی و فکری ریاضت کا شاخسانہ تھیں۔ گو کہ اس نشست کے وہ لمحے تاریخ کے پانیوں میں کہیں تحلیل ہو گئے لیکن انسانوں کے اس سمندر میں یہ چند گوہر یاد کا حصہ رہیں گے۔ انسانی رویوں کو مشاہدہ کرنے کی جبلت نے میرے لئے  ان لمحات کو خوش کُن بنا دیا تھا۔

آپ سوچتے ہوں گے آخر یہ زیبرا کدھر گیا؟ یاد ہے اوپر ایک زیبرے کی بات کی تھی؟  میں وہ زیبرا  ہوں جسے پتہ ہے کہ اس کے جسم پہ پڑی لکیریں جعلی ہیں۔

ںوٹ: اس تحریر میں درج نام حقیقی ناموں سے بدلے گئے ہیں۔ 

(Visited 832 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے