Here is what others are reading about!

ایٹمی جنگ کی قیمت

انسان کی فطرت میں ضد اور انانیت کا مادہ ایک انتہائی خطرناک مادہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر ٹھانی ہوئی بات مانی جائے۔ چاہے اس کی بات سہی ہو یا غلط۔اور اگر کوئی اسکی نافرمانی کرے تو وہ طاقت کا استعمال شروع کردیتا ہے اور اسے زیر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ یہ خواہش افراد سے نکل کر، قبائل، معاشرے اور پھر اقوام تک آ جاتی ہے ، حضرت انسان اپنا سکہ پوری دنیا پر چلانے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے اور پھر اپنے آگے آنے والی ہر رکاوٹ اور اپنی مخالفت میں اٹھنے والی ہر آواز کچل دیتا ہے۔ تاریخ کے سیاہ اوراق اگر گردانے جائیں تو پتا چلتا ہے کہ اس اشرف المخلوقات نے اپنی خواہشات کے مطابق دنیا چلانے کی خاطر لاکھوں کروڑوں زندگیوں کو ابدی نیند سلا دیا ہے اور کروڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

انسان نے زندگی کو آرام دہ بنانے کے لیے جس حد تک ترقی کی ہے آج انسان اُن ایجادات سے اتنا ہی غیر محفوظ اور پریشان ہے۔ اس نے تلوار اور خنجر اپنی حفاظت کے لیے بنائے تھے، لیکن سب سے زیادہ قتل وغارت اور انسانی جانوں کا ضیاع بھی انہی چیزوں سے ہوا۔ پھر انسان نے اپنی حفاظت کے لیے گولی اور بارود ایجاد کیے ، یہ بھی انسانی زندگیوں کے لیے اور زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے۔ ٹینک اور جہازوں سے سینکڑوں کی تعداد میں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ پھرعقل انسان نے اور ترقی کی۔ سمندروں کی تہوں کو چیر نے والے اور آسمان کی بلندیوں کو بھی اپنے قدموں میں روندنے والیانسان نے صدیوں کی انتھک محنت اور تحقیق کے بعد ایک نیا ہتھیار ایجاد کیا۔ سب نے سوچا کہ اب انسان تمام مصیبتوں اور بلاوؤں سے آزاد ہوگیا۔ اب انسان کو کسی چیز کا خطرہ نہیں تھاکیونکہ حضرت انسان نے ایٹم بم بنا لیا تھا۔ مگر یہ کیا ہوا، انسانی حفاظت کے لیے بنایا جانے والا یہ ہتھیار تو انسانی جانوں کا سب سے بڑا دشمن نکلا۔ اس کے استعمال سے انسانی جانوں کا ضیاح لاکھوں تک پہنچ گیا۔ ایک بٹن دبانے سے شہر کے شہر ہی صفحہ ہستی سے مٹنے لگے۔ ایٹم بم اب تک کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے۔ یہ پہلی بار جنگ عظیم دوم میں 06اگست1945ء کوامریکہ کی طرف سے جاپان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس کا وزن تقریباً 4400 کلوگرام تھا اور اس میں استعمال ہونے والا یورینیم تقریباً64 کلوگرام تھا۔ اسے ’’لٹل بوائے ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔یہ جاپان کے شہر ’’ہیروشیما‘‘ پر برسایا گیا تھا۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے سیاہ ترین دن تھا کہ اس دن پہلا ایٹم بم گرایا گیا۔ ہیروشیما پر بم گرنے کے چند منٹ بعد پورا شہر راکھ کوئلے اور ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا کیونکہ اس کا سطحی ٹمپریچر 6000 ڈگری تک پہنچ گیا۔ اور چند منٹ کے اندر تقریباً بیس ہزار فوجی اور ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب عام شہری لقمہ اجل بن چکے تھے جو تعداد چند گھنٹوں میں پونے دولاکھ تک جا پہنچی تھی۔ اور تقریباًکئی گنا زیادہ زخمی اور ملبے کے نیچے آکر مفلوج ہو چکے تھے۔

پورے ملک پر سکتہ طاری تھا اور پورا ملک ابھی ہیروشیما کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے زخموں پر سے بارود ہی صاف کر رہا تھا کہ 09 اگست 1945 ء کو جاپان کے دوسرے شہر’’ ناگاساکی ‘‘کوبھی اسی ایٹمی بھٹی کا ایندھن بنا دیاگیا۔ اس بار گرایا جانے والا بم ’’فیٹ مین‘‘ 4670کلوگرام کا تھااور 6.2 کلوگرام پلاٹینیم سے بھرا ہوا تھا۔ یہ پہلے بم سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک تھا۔ اس بم نے بھی تقریباً ایک لاکھ زندگیوں کے چراغ گل کر دیے۔ پہلے جنگ صرف بارڈر پر لڑی جا رہی تھی، صرف فوجی افسران اور سپاہی ہی اس جنگ میں مر رہے تھے۔ مگر ایٹم بم نے ہر عمر ، ہر نسل،ہرطبقہ اور ہر طرح کے افراد کو ابدی نیند سلا دیا۔

پھر امریکی نے دھمکی دی کہ وہ جاپان کے ہر شہر پر ایسے ایٹمی بم گرائے گا، نے جاپان کو مفلوج اور غلام بننے پر مجبور کردیا۔اور جاپان نے غلامی کی دستاویزپر ستخط کر کے اپنی باقی قوم کو تباہی سے بچالیا۔ جنگ ختم ہوئی ، امدادی ٹیمیں دونوں شہروں میں پہنچی ، ڈاکٹر ز اور نرسیں کیمیائی مادے کا شکار بن گئے۔ نیم مردہ اور زخمی لوگوں کو بچانے کے لیے آنے والی امدادی ٹیموں کے چہرے مسخ ہو گئے ، شہر سے تین تین کلومیٹر دور تک ہر فصل، درخت اورحیوانات ونباتات کیمیائی مادے کا شکار ہو چکے تھے۔ کیمیائی مادہ ہوا میں شامل ہو چکا تھا۔ یوں پہلے اور آخری ایٹمی دھماکوں نے لاکھوں زندگیوں کے چراغ گل کر دیے، لاکھوں افراد کو مفلوج کر دیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ 1945 ء کے چھ سال بعد پیدا ہونے والے چھہتر ہزار (76000) بچے پیدائشی مفلوج اور بالکل معزور پیدا ہوئے تھے۔ اور ابھی تک پیدا ہونے والے بچے اندھے اور کافی حد تک مفلوج ہی ہوتے ہیں۔ ابھی تک ہیروشیما اور ناگاساکی کی زمین بنجر اورکیمیائی مادے کی تابکاری سے آلودہ ہے۔

یہ انسانی تاریخ کا پہلا اور اب تک کا آخری حملہ تھا۔ اور جاپان ایٹمی طاقت بھی نہ تھا ۔ جبکہ یہاں حالات کچھ اورہی ہیں ہمارے پاس ہتف، نصر ،رعد ، ابدالی ،غوری ، غزنوی اورشاہین وغیرہ موجود ہیں جبکہ ہمارے مد مقابل کے پاس آکاش ، پرتھوی، آگنی اور دھانوش وغیرہ کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ میزائل امریکی لٹل بوائے اور فیٹ مین سے کئی گنا طاقت ور، کئی گنا بڑے اور کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ لہذا جنگ کا مطلب دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ دو چار ہمسایہ ممالک کا بھی صفحہ ہستی سے مٹ جانا ہو گا۔کیونکہ پہل کوئی ملک بھی کرے آخر میں خاتمہ دونوں اطراف ہی ہوگا۔تباہی دونوں پار ہوگی۔ دونوں ممالک ماتم کدے بن جائیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان اپنے ایک سو تیس (130 ) ایٹمی مزائلز میں سے سب سے بڑا اگر انڈیا کے تین بڑے شہروں ، دہلی ، ممبئی اور کولکتہ پر گرا دے تو تقریباً اٹھارہ لاکھ بیس ہزارسے زائد افراد پہلے چند گھنٹوں میں ہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اورباون لاکھ سنتالیس ہزارسے زائد زخمی اور مفلوج ہو جائیں گے۔ اور اسی طرح اگر انڈیا اپنے ایک سو بیس ایٹمی ہتھیاروں میں سب سے بڑا ایٹمی ہتھیار پاکستان کے تین بڑے شہروں لاہور، اسلام آباد اور کراچی پر داغے تو تقریباً بارہ لاکھ ستر ہزار افراد چند منٹ میں ہی لقمہ اجل بن جائیں گے اور تقریباً چھتیس لاکھ دوہزار افراد جسمانی طور پر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔ اور اگر جنگ مسلسل جاری رہی اور ایک ایک ایٹمی ہتھیار جمع شدہ ہتھیاروں پر آن گرا تو ہم اپنے ہی بنائے ہوئے شاہینوں، غوریوں اور ابدالیوں سے گھر بیٹھے ہی رتبہ شہادت پر فائز ہو جائیں گے۔ اور انڈین اپنے ہی بنائے ہوئے پرتھوی یا آگنی وغیرہ سے کوئلہ بن کر رہ جائیں گے۔ اور پاکستان اور انڈیا کے کھنڈرات جرمنی اور یورپ سے آنے والے محققین کے لیے موہنجوداڑو کا کردار ادا کریں گے۔

سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے علما ء اکرام اس بات پر کیوں خاموش بیٹھے ہیں۔کیوں ہمیں اسلامی تعلیمات نہیں دی جاتی کہ زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے کا نام ہے۔ کیوں ہمیں صرف اُن کے نام پر مرنے کا سبق دیا جاتا ہے، ان کی طرح جینے کا نہیں۔اور کیاہمارے بم بھی ہماری طرح عقیدتاً مسلمان ہیں کہ بارڈر کے دوسری طرف بسنے والے بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔اور قران مجید کے تمام جنگی احکامات پر عمل کرتے ہوئے کسی عورت، بوڑھے، بچے یا فصل کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اور نہ ہی پھٹنے کے بعد کسی لاش کا چہرہ مسخ ہونے دیں گے۔

یہ تمام حقائق ان عقل سے عاری بارڈر کے دونوں اطراف بسنے والے اُن افراد کے لیے ہیں جو صبح شام غزوہ ہند، اور بارڈر پار اپنے جھنڈے لہرانے کا ذکر الاپتے رہتے ہیں اورایٹمی جنگ لگانے کے درپے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ امن کی بات کرنے والوں کو ڈرپوک اور غدار وطن جیسے القابات سے نوازتے ہیں۔ وطن سے محبت کے دعوے کرنے والے دونوں ممالک کے باشندے کیوں اپنے ممالک کو ہیروشیما اور ناگا ساکی یا پھر موہنجوداڑوبنانے کے جدوجہد میں لگے ہیں۔ کیا دونوں ممالک یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں جو ایک ایٹمی جنگ میں دونوں ممالک کو چکانا پڑے گی۔ کیا اپنی آنے والی نسلوں کو ہیرو شیما جیسا پاکستان یا ناگاساکی جیسا ہندوستان دے کر جانا چاہتے ہو۔ ہوش کرو۔ ایک بار ہیروشیما اور ناگاساکی کی داستان پڑھو، اپنے اندر برداشت پیدا کرو۔ اور اپنی پالیسیاں تبدیل کرو۔

(Visited 699 times, 1 visits today)

Engineer Majad Ali is a short story writer based in Lahore. His short stories "50 Lafzon ki Kahani" are based on social, general and current issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے