Here is what others are reading about!

دھرتی ماں کی بپتا

کئی ورشوں  پہلے اس ویشال  دھرتی پر بہت سے لوگ آباد تھے جن کا دھرم الگ الگ تھامگر وہ سب ایک ہی پرجاتی کے تھے ۔ مانو جاتی ۔ انسان ۔ منوش ۔  اشرف مخلوق ۔ ایشور بھگوان۔ رام اور اللہ کی چنیدا مخلوق ۔۔ رگ وید  (برہما کی مقدس کتاب )میں لکھا ہے کے کائنات میں سب سے پہلے خودی تھی پھر اس نے چاروں اور دیکھا اسے کچھ نہ نظر آیا پھر اس نے سوچا یہ تو میں ہی ہوں۔ اس طرح میں سے انسان۔ منوش وجود میں آیا۔اس وشال دھرتی کے رہنے والے لوگ آزاد تھے گو کہ یہ مختلف مذاہب سے جڑے تھے مگر ان کی روح آزاد تھی۔۔۔  روح جو پرماتما  ہے ۔۔۔ روح جو مہا آ تما ہے ۔۔۔ روح جو خدا ہے۔۔۔ اور خدا جو ہر دل میں ہے۔۔

کہے  ہیں کے یہاں ہندوستان میں  پہلے ہندو قوم آباد ہوئی بعد میں یہاں مسلمان آنا شروع ہوئے ۔۔۔ پھر ہندو اور مسلمان ساتھ رہنے لگے مسلمان دیوالی میں ہندوؤں کے سنگ ناچتے گاتے ۔۔۔ اور میٹھی عید پر برہمن  سنیاسی مسلمانوں سے بھکشا لیتے۔۔۔ مسلمان ہولی کھیلتے اور ہندو شب برات پر حلوہ کھاتے۔۔۔ اس سرزمین پر چاول اور گیہوں کی فصل اُگا کرتی جسے مل بانٹ کے کھایا جاتا۔۔۔۔ زندگی ہنستی، ہندو اور مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیاں کھلم کھلا عشق لڑاتے۔۔۔ یہ وہ دھرتی تھی جہاں کشمیر کی سرخ گالوں والی صحت مند عورتیںانار کے دانے نکالا کرتیں۔۔۔ جہاں گنگا کا پوتر جل سب کے لیے تھا۔اسی دھرتی کی گلیوں میں میر تقی میر نے عشق لڑائے تھے ۔۔۔ یہیں غالب ؔنے خاک چھانی ۔ یہیں کہیں کپل وستو کے شہزادے سدھارت نے جو بعد میں گوتم بدھ ہوا،  دنیا تیاگ کرنروان  کا فلسفہ ڈھونڈ نکالا تھا۔۔۔یہیں کرشن چندر کا بچپن گزرا۔۔۔یہیں سانولی بیاہت اپنے اپنے سوامی (شوہر )کے  ساتھ چاند کو دیکھا کرتیں تھیں ۔۔یہ وہ دور تھا جب چندر بھاگ  ( دریا چناب )اور  ایراوتی (دریا راوی)پر سب کا حق تھا ۔۔جب مسلمانوں کے بچے جو معصوم ہوتے ہیں ۔جو ایشور کا روپ ہوتے ہیں ۔جنہیں فرشتے آ کر رات کو جنت کی نہروں کا دودھ پلاتے ہیں ۔جنہیں پریاں  لوری سناتی ہیں ۔ہاں وہی فرشتے وہی بچے کبھی شنکر کے گھر میں گھس کر  پرشادکھا آتا اور کبھی احمد علی کے گھر کا گوشت اٹھا کر کھا لیتا ۔۔ یہ وہ دور تھا جب ہندو مسلمان ایک ہی کنویں سے پانی بھرا کرتے ۔ جب خوبصورت عورتیں  گھونگھٹ  کاڑھے  کھیتیوں میں کام کیا کرتیں ۔

پھر اچانک ایک شور سنائی دیا ۔گورے نے آ کر سب تہس نہس  کر دیا ۔ پیار نفرت میں بدل گیا اور نفرت شدت پسندی میں ۔۔۔ عزتیں تار تار ہوئیں نوجوان مارے گئے دھرتی لہو لہو ہو گئی ۔ دھرتی جو ماں ہے ۔جو گیہوں اور اناج پیدا کرتی ہے تاکہ خدا کی پرجاتی پھولے  اورپھلے ۔دھرتی ماں کا اپمان کیا گیا،  اس پر اسکے ہی سپوتوں کے لہو دریا بہائے گئے ۔ اس کی بیٹیوں کو وحشت نے بھنبھور ڈالا۔۔۔ آزادی۔   پھر یہ سب آزادی کے نام پر ہوا۔  آزادی تو روح کی ہے ۔اور روح تو آزاد ہے۔  اس کو تو نہ کوئی مذہب قید کر سکا ہے نہ کوئی تہذیب۔  یہ تو لا انتہا ہے۔  یہ تو جسم کے پنجرے کو بھی چیر کے باہر نکالتی ہے ۔۔یہ تو ازل سے آزاد ہے ۔۔ہندو مسلمان میں نہیں جانتی لیکن دھرتی کا اپما ن ہوا تھا ۔یہ ظلم انسان نے کیا تھا ۔جس کے لیے چاند بنا۔  جس کے لیے دنیا کے تمام حسن تخلیق کیے گئے تاکہ یہ خوش ہوجائے مگر۔ یہ کمبخت نہ خوش ہوا کبھی ۔۔دھان اور گیہوں کے وہ کھیت جو کبھی لہلہاتے تھے وہاں دھرتی کی  با عزت بیٹیوں کی بھنبھو ڑی ہوئی لاشیں بے سرو سامان پڑی تھیں۔  دھرتی ماں چیخ رہی تھی۔  وہ نوجوان جو اپنی مونچھوں کو تاؤ دئیے اکڑکر چلا کرتے تھے ۔۔جن پر گاؤں کی لڑکیاں جان دیا کرتیں تھیں آج ان جوان سینوں میں خنجر پیواست تھے اور ان کے مردہ جسم دھرتی ماں کے سینے پر پڑے تھے ۔زمین جوسارا کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔  جو رب کی دین ہے۔  جو ابدیات کا تصور اپنی کوکھ میں لیے ہوئےہے ۔اس زمین کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے تھے۔آج اس بات کو سالوں بیت گئے لیکن دھرتی کے زخم آج بھی تازہ ہیں ۔اب اس میں دوبارہ اتنی ہمت نہیں ہے کے یہ اپنے سپوتوں کا لہو پھر اپنے سینے پر دیکھے۔  ایک میجر عزیز بھٹی کو یہاں رویا جاتا ہے۔  ایک کو بارڈر کے پرلی طرف رویا جاتا ہوگا ۔ایک ماں یہاں سینہ پیٹتی ہے تو ایک وہاں ۔۔فرق صرف ایک لکیر کا ہے ۔یہاں  بھی بھوک ننگے پاؤں دندناتی پھر رہی ہے اور وہاں بھی بھوک کے پاؤں میں بیڑیاں  نہیں ہیں۔ظلم سے لوگ یہاں بھی مر رہے ہیں اور وہاں بھی مر رہے ہیں ۔۔فیوڈل سسٹم یہاں بھی ہے اور وہاں کے شودروں  کو بھی آج تک حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔ان کے برتن آج بھی الگ ہیں ۔۔ابھی دھرتی پر تقسیم کے درد باقی ہیں۔  ابھی یہ خود پر اور اپنی اولاد پر ہونے والے ظلم نہیں بھول پائی اس کو مزید دکھ نہ دو ۔ میں اس دھرتی کی بیٹی ہوں۔  مجھے اپنی دھرتی ماں سے محبّت ہے میری دھرتی کو مزید خون آلود نہ کرو۔  خدارا اب بہنو  کو نہ رلاؤ۔۔۔ ماؤں کو ان کی چھاتیا ں پیٹنے سے بچا لو ۔۔میں سوچتی ہوں کیا انسان اپنا وجود دوسرے انسان کو مارے بغیر قائم نہیں رکھ سکتا؟تم بدھ کے پیرو کار ہو جس نے امن اور شانتی کی شکشادی ۔۔۔ ہم محمّد ﷺ کے کے پیرو کار ہیں  جنہوں نے پتھر کھا کربھی دعا دی ۔۔۔تو پھر یہ شدت پسندی کہاں سے آگئی ہم میں اور تم میں؟ سوچو اور دیکھو کہ کیا ہمیں لڑوانے  کی سازش تو نہیں کی جارہی؟ سوچو ۔۔!!!! اور اگر اس بار ہم لڑ پڑے تو نہ تمہارا کچھ باقی  رہے گا نہ ہمارا ۔۔یہ دھرتی،  اس پراکرتی پر رحم کرو ۔۔قدرت تمہارا اور ہمارا بھلا کرے گی۔۔۔  دھرتی کی کوکھ کو بانجھ ہونے سے بچا لو ۔۔!!!!!

(Visited 867 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے