Here is what others are reading about!

میزائل چوک

” سر میرے گاؤں میں دو دوست ہیں۔ ایک کا نام ‘کاکوڑی’ ھے اور دوسرے کا نام’سکارواٹا’۔ دونوں نے ایک دفعہ مرغی چوری کی لیکن ذبح کرنے کیلئے چھری نہ ملی تو آخرکار انہوں نے ناچار مرغی کو پتھر سے ذبح کر دیا ۔۔۔۔ میرے خیال میں جنگ اور ایٹمی جنگ میں فرق محض انسانوں کو بم اور ایٹم بم سے مارنے کا ہے۔ پہلی صورت میں موت۔۔۔۔۔ اور دوسری صورت میں بدترین موت۔۔۔۔”
کلاس میں اس عجیب مگر دلچسپ منطق پہ اک قہقہہ بلند ہوا۔ لیکن اختر لالہ کے دلائل بدستور ابھی بھی جاری تھے۔ اس نے ہنستے ہوئے سر احمد کی طرف دیکھتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا۔۔۔ ” سر تاریخ گواه ہے اور ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جنگ نے بربادی کے سوا آج تک انسان کو کچھ نہیں دیا۔۔۔امن اور بات چیت ہی ہر مسئلے کا حتمی حل تھا، ہے, اور رہے گا بھی ۔۔۔۔     ”
ابھی دلائل کا سلسلہ چل رہا تھا کہ ساتھ ہی بیٹھی عماره نے گفتگو میں لقمہ دیتے ہوئے ٹوکا              ” مگر جنگ کے بغیر امن بھی تو ممکن نہیں ۔۔۔ یہ بھی تو اک صداقت ہے”۔۔۔

واقعی ایسا ہی ہے۔ ساری کلاس نے عماره کی اس بات سے اتفاق کیا اور سر احمد نے بھی عماره کی بات کی توثیق کی۔۔۔۔لیکن اختر لالہ نے پھر بغیر کسی توقف کے بات کو اگلا موڑ دیا۔
” جی بالکل جنگ کے بےغیر امن ممکن نہیں۔۔یہ ایک صداقت ہے۔۔۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جنگ کا مقصد خون خرابہ ہو۔۔۔ اور حاصل لاشیں ہوں۔۔۔۔ میرے خیال میں جنگ تو غربت کے خلاف ہونی چاہئے۔ بھوک،  بدامنی، لاقانونیت،  چوری چکاری ، عدم برداشت، فرقہ واریت، جہالت،  جھوٹ،  نفرت اور بیماریوں کے خلاف ہونی چاہئے یا پھر ملاوٹ،  ذخیره اندوزی،  بدعنوانی،  کرپشن اور لٹیروں کے خلاف ۔ ۔۔ قلم کو بندوق پر فوقیت اسی لئےدی جاتی ہے کیونکہ امن کا حصول تعلیم اور شعور کے بے غیر ممکن نہیں۔۔۔ اور دراصل یہی حقیقی جنگ ہے لیکن شاید بدقسمتی سے عوام کبھی یہ بات سمجھ نہیں پائے گی”
اختر لالہ کے بھرپور جنگ مخالفانہ دلائل اسی رفتار سے مسلسل جاری تھے کہ چند کلاس فیلوز نے اک نیا نکتہ اٹھایا ” اگر کسی ملک پر جنگ مسلط کر دی جائے تو پھر امن کی باتیں محض دیوانے کا خواب ره جاتی ہیں۔۔۔ ہم ایٹمی طاقتوں والے ‘ چوراھے’ میں بیٹھے ہیں۔۔۔۔ ہر طرف اسلحے کی دوڑہے۔۔۔ ‘امن کی خواہش’ کے ساتھ ساتھ ‘طاقت کا توازن’ بھی از حد ضروری ہے ۔ شاید ہم یہ بات بھول رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”سبھی طلباء نے اس بات سے بھی اتفاق کیا اور سب کی نظریں ایک دفعہ پھر اختر لالہ کی طرف اٹھ گئیں۔۔۔۔
اختر حسبِ معمول پھر سنجیدگی سے بولا: ” ہاں ‘طاقت کا توازن’ ضروری ہے ۔ بے شک بہت ضروری ہے ۔۔۔ مگر سماجی استحکام سے زیاده ضروری نہیں۔ اس وقت دونوں ملکوں میں کروڑوں لوگ بھوک سے بلک رہےہیں۔دونوں طرف صحت کی سہولیات نہیں، دیہی علاقوں میں تعلیم نہیں،  بجلی، گیس، پانی نہیں۔۔۔ دونوں طرف نسل در نسل سرمایہ داروں ، سیاستدانوں اور افسر شاھی کے گٹھ جوڑ ہیں ۔۔۔ جو بار بار ‘طاقت کا توازن’ یاد دلا کرہر سال اسلحہ خریدتے ہیں اور عوام کی اربوں ڈالر خون پسینے کی کمائی اسلحے کی آگ میں جھونک کے کمیشن کھاتے ہیں۔۔۔ اس سارے طاقت کے توازن میں فائده اسلحہ  بیچنے والے ملکوں اور کمیشن مافیا کو ہوتا ہے۔۔۔ مگر حقیقت میں عوام کیلئے تویہ انہی کی محنت کی کمائی سے ان کیلئے موت کا سامان خرید رہےہیں۔۔۔اور جہاں تک بات ‘کم از کم مزاحمت’ کا حصول ہے تو دونوں ممالک اس صلاحیت کے بیس سال پہلے کے حامل ہو چکے ہیں۔ اس خطے میں اربوں انسان مستقل موت کے کنویں میں کھیل رہے ہیں”۔۔۔۔۔۔۔
سر احمد نے اختر لالہ کو ستائش کی نظر سے دیکھتے ہوئے بات ختم کرنے کا اشاره کیا اور تھوڑے وقفے کے بعد پوچھا کہ کوئی بتا سکتا ہے کہ ایٹمی حملے کی صورت میں کیاہو گا؟
آخری لائن سے فہیم کا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور پھر باتوں کا اک فواره نکلا:” سر اگر پاکستان دہلی، ممبئی یا کلکتہ پر حملہ کرتا ہے تو سب سے بڑا ایٹمی ہتھیار پھینکنے کی صورت میں اٹھاره لاکھ بیس ہزار اور دو سو بیس لوگ مارے جائیں گے اور باون لاکھ سینتالیس ہزار دو سو تیس افراد تک زخمی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ اگر انڈیا یہی حرکت دہراتا ہے تو کراچی، اسلام آباد یا لاہور پر حملے کی صورت میں باره لاکھ اڑسٹھ ہزار تین سو پچاس اموات اور چھتیس لاکھ دو ہزار چھ سو افراد زخمی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔”
جیسے ہی فہیم کی بات ختم ہوئی تو ساری کلاس میں اک افسردگی کی لہر پھیل گئی۔۔۔  چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سر احمد نے بات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی۔
” بات صرف موت تک محدود نہیں۔ ایٹمی حملے میں تو زندگی کا وجود ہی مٹ جاتا ہے۔ انسان پگھل جاتےہیں اور جو تابکاری سے زخمی ہو جائیں ان کو مانگنے سے بھی موت نہیں ملتی۔۔۔۔۔ زندگی اس قدر ابتر ہو جاتی ہے کہ خود کشی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ زمین صدیوں تک زہر اگلتی رہتی ہے۔۔۔  دھرتی اور مائیں بانجھ ہو جاتی ہیں۔ لوگ کئی نسلوں تک جسمانی اور ذہنی معذوریوں کی صورت حال سے دوچار رہتے ہیں۔۔۔ اب اس خطے کی معاشی، سیاسی اور دفاعی صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔۔۔ بات بہت ساده اور واضح ہے کہ یہ ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہے۔فریق پرانے ہیں مگر گروه بندیاں نئی ہیں۔ سب ممالک نے یہیں رہنا ہے ماسوائےامریکہ کے۔  کیونکہ وه جغرافیائی نقطۂ نظر سے اس خطے کا حصہ نہیں ہے۔۔۔ لیکن نظریاتی طور پہ معاشی مفادات کے حصول کیلئے کچھ ممالک کو دھڑ بندی کا حصہ بنا کے خطے میں جنگی عزائم کو ہوا دیتا رہا ہے اور رہے گا بھی جب تک اس خطے کے ممالک باہمی مسائل حل کر کے جنگ کی بجائے امن اور خوشحالی کی جانب قدم نہیں بڑھاتے”۔۔۔۔
ابھی سر احمد کی بات جاری تھی کہ دروازے سے ایک آواز ابھری۔ “سر کیا میں کلاس میں آسکتی ہوں؟ “سر احمد نے اندر آنے کا اشاره کرتے ہوئے پوچھا “جی ۔۔ آئیے سدره۔۔ آپ تو ہمیشہ وقت پر آتی ہیں۔۔۔ خیریت ۔۔۔آج آدھا گھنٹہ لیٹ؟”
سدره نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سرگزشت سنائی۔” سرہمارا یونیورسٹی کا پوائنٹ رش میں پھنس گیا تھا۔ جگہ جگہ ٹریفک بلاک تھی۔۔۔ ہائی وے پہ ‘میزائل چوک’ میں لوگ لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ٹائر جلا کے احتجاج کر رہے تھے”۔۔۔۔۔

 

(Visited 803 times, 1 visits today)

Babar Dogar is a freelancer based in Pakpattan. He has studied International Relations at Quaid e Azam University. His areas of interests are politics and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے