Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • نیلی آنکھیں اور کڑک چائے

نیلی آنکھیں اور کڑک چائے

حُسن  کو  دیکھنے  والی  نظر  کی  بس  دیر   ہے

جو نہ تولے  اِسے ا’س کے چاروں اُور اندھیر ھے

ذرا جو دل کی آنکھ سے دیکھیں تو چاروں طرف کسی نہ کسی ڈھکے چھپے کونے میں ایک ارشد خان چُھپا بیٹھا ہے۔۔۔ وہ فُٹ پاتھ پہ چادر میں منہ لپیٹے بیٹھا بھنگی بابا۔ کیا معلوم اُس کی آنکھیں سمندر کی گہرائی جیسے سبز رنگ کی ہوں؟ کیا معلوم اُس کے چہرے کی شفیق مسکراہٹ پر بھی پورا برِصغیر ڈھیر ہو جائے ؟ اُور اِس قدر ڈھیر کے سرحد پار سے گولے بارود برسانے کی خواہشوں کے بجائے: “ہائے وہ بھنگی بابا دیکھا ہے پاکستان والا۔ ارے!  وہی جس کی تصویریں بڑی آرہی ہیں ٹویٹر پر۔ کس قدر حسین ہے نہ وہ؟ مجھے تو بس جانا ہے پاکستان اُس کو ایک بار دیکھنا ہے بس”  کی صدائیں گونجنے لگیں۔ چلی جائے گی نہ پھر بھینس پانی میں حکمرانوں کی,  تَب کے یہ عوام جنگ نہ ہونے دے گی,  سب کھڑے ہو جائیں گے بھنگی بابا کی حفاظت کو۔ کیا سرحد کے اِس پار والے تو کیا اُس پار والے۔

بس ذرا کبھی جو ہماری مطلب پرست نظریں اِن سوشل میڈیا کے فوٹوگرافک دعوت ناموں کے بغیر گزر گاہوں کا طواف کر لیا کریوں تو جانے کتنے ہی ارشد خان ایسے ہوں جو رات کو خالی پیٹ نہ سوئیں۔ ذرا جو جِلد کی تَہوں سے گہرائی میں جھانک کر خوبصورتی کو ٹَٹُولنا ہماری صِفت بن جائے تو اِس ملک میں طُلوع ہونے والی کوئی صبح کِسی مُفلس پہ اَندھیر نہ ہو۔

فکر تو مجھے اِس چائے والے اَرشد خان کی بھی ہے۔ آج سُنا کسی بھلی کمپنی نے ماڈل کاسٹ کر لیا ہے اُسے۔ پر سوچتی ہوں کہ ایک جگہ,  دو جگہ,  جب تک یہ معاملہ سوشل میڈیا کی ذینت بنا رہے گا ارشد خان سُرخیوں میں چھایا رہے گا۔ اُس کے بعد کیا ؟ اِس دائمی شہرت کا کیا بھروسا کل صبح کئی نیا معاملہ شُہرت کامنظورِ نظر بن جائے تو کیا اَرشد کو واپس “دودھ پتی,  کڑک چائے خان, ملائی مار کے” والی دنیا کو سونپ دیا جائے گا؟ اُس کی زندگی پھر سے گمنام ہو جائے گی ؟  کیا کوئی کبھی نہ چھوٹنے والا روزگار ہم اُسے دے سکتے ہیں؟ ایک اچھی زندگی کا وعدہ؟ایک کڑدار چائے کا پیالا تھام کر۔ عابیؔ مکھنوی نے کیا خوب لکھ دیا کہ:

چائے پی اور شرافت سے کھسک لے پگلی !!!

چائے کے بیس رُوپے ہیں تو وہ دیتی جانا !!!

کیا کہا !! تُو نے دِکھانی ہے مُجھے دُنیا نئی ؟؟

کیا کہا !! تُو نے مُجھے رنگ نیا دینا ہے ؟؟

کیا کہا !! میری جگہ چائے کا ہوٹل تو نہیں ؟؟

آنکھ نیلم ہے مِری رنگ ہے سونے جیسا ؟؟

میں تو بِک سکتا ہوں ہیروں کے برابر تُل کر ؟؟

تُو مُجھے اچھے خریداروں میں لے جائے گی ؟؟

اُس جگہ رنگ بھی بِکتا ہے وہاں خُوشبُو بھی ؟؟

ناک اور کان کے ہمراہ نظر بِکتی ہے ؟؟

نقش اچھے ہوں تو پھر واہ خبر بِکتی ہے ؟؟

تیرا دِل رکھنے کو چل چلتا ہوں کوٹھے تیرے !!

سیر کا موقع ہے کُچھ سیر ہی کر لی جائے

چار چھ دِن کی کہانی ہے مِری بیچ لے تُو !!

پھر وہی میں !! مِرا ہوٹل !! مِری محنت !! مِری چائے !!!

(Visited 792 times, 1 visits today)

Mahnoor Naseer Is an engineering student and a freelance writer based in Rawalpindi. Her areas of interests are social and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے