Here is what others are reading about!

دہشت گردی کا حل

دُنیا کا آسان ترین کام رونا ہے !! اور لذیذ ترین کام مظلومیت کا ڈھونگ رچانا !! میرا وطن سانحات کا آتش فشاں بن چُکا ہے !! ابھی ایک سے فارغ نہیں ہوتے کہ دُوسرا لپیٹ لیتا ہے !! یُوں پُورا سال ہی رونے دھونے میں گُزرے جا رہا ہے !! بیچ میں کوئی ایک آدھ “” چائے والا “” آ جائے تو پل دو پل کو توجہ بٹ جاتی ہے اور ٹُوٹے دِل میں پھر سے وطنِ عزیز کو جنت بنانے کے خواب کروٹیں لینے لگتے ہیں !!!

ہر سانحے کے بعد رونے والے سکون میں رہتے ہیں !! تعزیت والوں کی عید ہو جاتی ہے !! کوئی سر پھرا کوئی پاگل عالمِ دیوانگی میں ایک آدھ ٹُوٹا پُھوٹا سوال اُٹھا دے تو وطن کا دُشمن اور دہشت گردوں کا ساتھی قرار پاتا ہے !!

سوال سے یاد آیا !!!! محلے کا ایک انٹر پاس بے روزگار نوجوان کل مِلنے آیا تھا !! کہہ رہا تھا سِندھ پولیس میں بھرتیاں ہو رہی ہیں ! تعلیمی کوائف کے مطابق تو اے ایس آئی کے لیے کوالیفائی کر رہا ہے لیکن سُنا ہے اے ایس آئی کے ریٹ شروع ہی پانچ لاکھ سے ہوتے ہیں !! وہ بھی اگر سفارش تگڑی ہو !!!

سپاہی کی پوسٹ کے ریٹ کا مُجھے پتا نہیں !! کسی بھائی کو خبر ہو تو کمنٹ میں بتا دے !! ویسے وہ کہہ رہا تھا کہ مرحؤم ابو کی موٹر سائیکل اور بیوہ ماں کا بچا کھچا زیور بیچ دُوں تو ڈیڑھ لاکھ تک ہو جائیں گے !!!

کُچھ پلے پڑا ” امن ” کیوں نہیں ہو رہا !!! ؟؟؟؟؟

” دہشت گردی ” کے مسئلے کا حل بہت سادہ سا ہے !! ہمیں بس اِن دہشت گردوں کے لیول کے “” پروفیشنل “” سیکورٹی اہلکار مِل جائیں !!

کاش کچھ کام کر لیا ہوتا !!!

آگ کو رام کر لیا ہوتا !!!

جشن پہ جشن تم مناتے رہے !

تنکےچن چن کے تم جلاتے رہے!

فصلیں بوئی گئیں تعصب کی !

نقش الفت کے تم مٹاتے رہے !

مسجدوں مندروں میں بھڑکی تھی

راستوں منزلوں پہ تڑکی تھی

کھیتیاں راکھ راکھ ہیں ہر سُو

آشیاں جل گئے تماشوں میں

آگ ہے سرحدوں کو کیا دیکھے

آگ تو آگ ہے جلائے گی

اب سنے کیسے یہ صداؤوں کو

آگ کے کان تو نہیں ہوتے

آگ سے کیا گلہ کریں عابیؔ

آگ کی آنکھ تو نہیں ہوتی

(Visited 950 times, 1 visits today)

Aabi Makhnavi is prolific writer and a famous poet based in Karachi. He’s areas of interests are social issues, literature and current affairs.

One Comment

  • ehsan.qamar@gmail.com'

    EhsanQamar

    November 30, 2016 at 5:32 am

    بہت سادہ اور آسان الفاظ میں حل تو بہت سچا بتا دیا آپ نے لیکن اس عمل کرنا احساس سے عاری اس معاشرے کے لئے بہت مشکل ہے۔

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے