Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • سانحہ پھر کوئی بستی میں ہؤا ہے شاید

سانحہ پھر کوئی بستی میں ہؤا ہے شاید

گزشتہ سال خبر سنی  کہ جاپان کی ہوکائدو ریلوے کمپنی نے تین برس پہلے کامی تیراکی ریلوے سٹیشن کے لیے اپنی سروس غیر منافع بخش ہونے کی بنا پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔مگر پھر یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا کیونکہ اس سٹیشن سے ایک بچی اسکول جاتی آتی تھی۔ ایک ٹرین صبح سات بج کے پانچ منٹ پر صرف اس کم سن مسافر کے لیے آتی اور پھر شام پانج بجے اسے واپس لاتی ۔اس بچی کا تعلیمی سال مارچ میں مکمل ہو ۱ اور 26 مارچ کے بعد کامی تیراکی ریلوے اسٹیشن کے لیے ہوکائدو ریلوے کی ٹرین سروس بھی بند ہوگئی۔ کچھ قومیں اپنے طلبہ کو اتنی مشکل سے پالتی ہیں اور کچھ قومیں اتنی ہی آسانی سے انہیں موت کے منہ میں دھکا دے دیتی ہیں اور اس کے پیچھے  تعزیتیں، انکوائری، مذمتیں اور دعوے مرنے والوں کی لاشوں پر ماتم کرنے والی بہنوں اور ماؤں کا منہ چڑاتے رہ جاتی ہیں۔

آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد چاروں صوبوں میں تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری و نجی اداروں اور پبلک مقامات  کے اضافی تحفظ کے لیے سینکڑوں حکم نامے، سرکلرز ضرور نکلے، خاردار تاروں کی فروخت میں بھی کچھ عرصے کے لیے خاصا اضافہ ہوا، بہت سے اداروں  اور پبلک مقامات کی دیواریں بھی دو سے تین فٹ تک اونچی ہوئیں۔جہاں گیٹ پر ایک پرائیویٹ محافظ اونگھتا تھا، اب دو اونگھتے ہیں۔ لیکن پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ پھرتیاں اور آنیاں جانیاں دم توڑتی چلی گئیں اور یہ فرض کر لیا گیا کہ اب تب دیکھیں گے جب نیا سانحہ ہوگا۔چنانچہ ٹوٹی کمر کے ساتھ دشمن نے نہایت اطمینان سے کبھی باچا خان یونیورسٹی کے طلباء و اساتذہ کو نشانہ بنایا تو کبھی گلشن پارک لاہور میں کھیلتے ننھے بچوں کی ہنسی چھین لی۔ کبھی کوئٹہ میں ہی  درجنوں وکلاء کو آن کی آن میں شہید کر دیا تو کبھی شناخت کر کے نہتی عورتوں پر گولیاں برسا کر نیشنل ایکشن پلان نامی لائحہ عمل کے بخیے کئے گئے۔  اور آج پھر کوئٹہ لہو لہو ہے۔  اب کی بار ’’قربانی‘‘ دینے والے پولیس کیڈٹس ہیں۔ حسبِ سابق قوم اور حکمرانوں کو شہداء پر ’’فخر ‘‘ہے کیونکہ شہید کا لہو قوم کی حیات جو ہے۔  اور اس دائمی  روحانی تسلی پر سب خاموش ہیں۔

ظلم کے خلاف بولنا تب اچھا لگتا ہے جب بولنے والا خود اس ظلم میں شریک نہ ہو۔ اسے بدقسمتی کہئے یا عذاب الہی، لیکن حکمرانوں سے لے کر دیگر سب مسائل میں ہم سب بھی تو  شریک جرم ہیں۔ جبھی تو مخبری نہیں کرتے۔  اور ہماری یہ شراکت ہماری ترجیحات اور رویوں کے ذریعہ ہے اور کہیں خود براہ راست شمولیت کے ذریعہ۔ آج 60 گھروں میں ماتم ہے لیکن ایک گروہ ایسا ہے جومرنے والوں کو شہادت کا لباس پہنا کر  یہ کہتا ہوا اطمینان بخش رہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ پھر ایک گروہ ایسا ہے جس کا  وزیر داخلہ دن کی روشنی میں قاتلوں اور بھیڑیوں سے ملتا ہے اور رات کو انہی بھیڑیوں کے ساتھیوں کے ہاتھوں بہائے جانے والے خون پر خاموش رہتا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں کی جانوں سے زیادہ اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ مرنے والوں نے پھر سے اس کے سیاسی دھرنے کو دھندلا دیا ہے ۔ ایک گروہ سرحد پار ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا راگ الاپ رہا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہاں کا ایک گروہ’’ آئی ایس آئی‘‘ کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا۔ اس سب میں انسانیت کہاں کھو گئی، کسی کو معلوم نہیں۔

تو جناب جب خود ہمارے اپنے رویے ایسے ہیں تو کاہے کے شکوے اور  کاہے کے دھرنے اور احتجاج؟ اس قوم کو تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن حکمرانوں کی نہیں خود اپنے رویوں کی۔ وہ رویے جہاں ایک چائے والے کی ہوشربا صورت درجنوں بے گناہ شہریوں کے خون سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور وہ رویے جہاں ایک گلوکارہ کی منگنی ہمارے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ سیٹ کرتی ہے۔ علیمؔ کی یہ بات کتنی سچ لگتی ہے  کہ پس خنجر آزمائی کوئی اور نہیں بلکہ ہم ہی قاتل اور ہم ہی مقتول ہیں۔لیکن سچ پوچھئے تو  یہ سب باتیں کہنے والے کہتے رہتے ہیں۔ میں نے لکھیں اور آپ نے پڑھ لیں ۔ چائے کی چسکی بھری اور جہاد بالقلم کا حق ادا کر کے سو رہے۔ اور تو کچھ بھی نہیں بدلا۔ شاید مجھے اور آپ کو  احساس جگانے کے لئے گھر سے لاش اٹھانا ضروری ہے لیکن  میں خود سے بھی اور پڑھنے والوں سے بھی یہ امید رکھتا ہوں  کہ ہو سکے تو اس احساس کو کسی پیارے کو رخصت کرنے سے پہلے جگا لیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور یہ کہہ رہا ہو کہ

سانحہ پھرکوئی بستی میں ہؤا ہے شاید

شام روتی ہوئی جنگل کی طرف آئی ہے

(Visited 992 times, 1 visits today)

Arsalaan Qamar is theologian and a freelance writer based in Rawalpindi. His interests are minority rights and social issues. He can be reached out on Twitter @ArsalaanQamar

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے