Here is what others are reading about!

قصور کس کا

وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھا کب اور کہاں پیدا ہوا مگر وہ اتنا جانتا تھا کہ وہ جہاں جاتا تھا لوگ اسکی بد دعا سے ڈرتے تھے۔ ایسا کیوں تھا وہ نہیں جانتا تھا اگر اسکی دُعا بے اثر تھی تو بد دعا کیوں اتنا اثر رکھتی تھی؟ وہ اِس ملک میں رہنے والا ایک ایسا شہری تھا جو آج تک اپنی جنس سے لا علم تھا۔

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ہجڑوں کی بٓد دعا سے ڈرتے ہیں مگر انکی تذلیل کرتے وقت خدا سے نہیں ڈرتے جس نے انہیں بنایا۔ قصور انکا نہیں ہے قصور اِس معاشرے کا ہے کہ جس نے انہیں تذلیل اور ہوس کا ایک سمبل بنا دیا ہے ساری زندگی کے حجج، نماز، روزے رکھ کر بھی آپ اُن کے سامنے آنے پر راستہ بدل جاتے ہیں، اتنا علم حاصل کر کہ بھی جاہلانہ سوچ کو خیر آباد نہیں کہ سکتے تو خود سے سوال کریں کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟

آنے والی نسلیں آپ سے سوال کرے گی کہ اس مخلوق کا کیا قصور تھا کہ ہوس کا نشانہ بنا کر اُسے پٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی؟ قصور اُس ماں کا بھی نہیں جو ایک ٹرانس جینڈر کو جنم دیتی ہے ۔۔۔

زندگی محض تماشہ نہیں ہے نہ آپ کی اور نہ ان کی۔  ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے رب کے ہاں آپ سے بہتر ہوں۔  ذرا اُس ماں کو تصور میں لائیں جو معاشرے کی اِن گندی ہیچ رسومات میں پڑھ جاتی ہے اور سفاکیت سے اپنی اولاد کو زندہ درگور کر دیتی ہے ہم کبھی اس ماں کی تکلیف کو نہیں جان سکتے مگر ہاں! ہنس سکتے ہیں، بدعا سے ڈر سکتے ہیں مگر عزت نہیں دے سکتے۔

ہو سکتا ہے اگر ہم یہ کر لیں تو یہ معاشرہ ہمیں قبول نہ کرے اور ہم پر کفر کا فتوی لگا دے۔ تو بہتر یہی ہے کہ اس معاشرے کے غلط کو بھی صحیح مانتے جاؤ اور سب اچھا ہے سب اچھا ہے کے بجھن گاتے رہو ۔ مگر کل اگر کسی نے گریبان پکڑ کر یہ پوچھ لیا کہ میرا کیا قصور تھا؟ رب تو ہم دونوں کا سانجھا تھا؟ پھر پناہ معاشرہ بھی نہیں دے گا آپکو! ہم کسی کے سامنے اپنے عزت نفس کے لٹ جانے پر شور مچاتے ہیں روتے ترپتے ہیں اور کہاں بیچارے وہ لوگ اپنے کو وجود کو بدعا بنا کر ظالموں کو دیتے ہیں۔کوئی کیسے اپنے وجود کو گالی دے سکتا ہے ؟ اور کس حوصلے سے ؟ اس فریاد کو پڑھئے اور شرم سے سر دھن لیجئے !!!

نہ میں پتر نہ میں دھی آں

نہ میں دھرتی نہ میں بی آں

میں وی ربا تیرا ہی جی آں

توں ای مینوں دس میں کی آں ؟

(Visited 1,132 times, 1 visits today)

Maheen Tariq Qazi is a blogger and a teacher based in Islamabad. Master in Urdu linguistics and Literature, her areas of interests are social and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے