Here is what others are reading about!

آخری خط

زندگی! دل بھی امیدوں کی طرح ڈوبا جاتا ہے، شام کے ساے انتظار کے ساتھ لمبے ہوئے جاتےہیں۔ ستارے رات کے آغوش سے نکلنے کو ہیں۔
میرے ساتھ چاند بھی سڑک پر نظر ٹکائے رُکا ہے۔ تمہارا خط آج بھی نھیں ملا، صبیحہ ۔۔۔  تم تو کہتی تھی کہ تم مجھ سے کبھی رابطہ نہ توڑوگی، کیا وہاں ڈاک کا نظام نہیں؟ کیا وہاں کچھ بھی نھیں صبیحہ؟
خیر گھبرانے کی بات نہیں، میں یوں چاند کے سرہانے، کچھ گھنٹوں میں، سرخ آنکھوں سے نیند کی باہوں میں لپٹ جاؤنگا۔ تو تم بھی میرے قریب آجاؤگی۔ اپنے پسندیدہ سفید لباس میں، اور میری پسندیدہ خوشبو میں۔ کسی حور سے کم نہیں ہو گی۔ اور تم اتنے پاس ہوگی کہ ہماری سانسیں گھلنے لگیں گی۔ میں پھر تمہیں چھونے کی گستاخی کرونگا اور سب کانچ کی طرح بکھر جائے گا۔۔۔
اورپھر سے جب آنکھ کھلے گی تو ہر رات کی طرح میں بالکنی پر آ جاؤنگا۔۔۔ چاند مجھ سے دور نکل چکا ہوگا اور ستارے مجھ سے نظر چرائینگے۔ کل رات بھی یہی سلسلہ ہوگا اور اسکے بعد بھی شاید میں ریت کی چٹان پہاڑ پر چڑھاتا رہونگا۔ اور وہ واپس پھسلتی رہے گی۔ پر آخر کب تک؟
تم نے جو آخری چائے بنای تھی، وہ کپ بھی وہیں پڑےہیں۔۔۔ تمھاری کتابوں کو اب تک چھیڑا نہیں میں نے۔ وہ کتابیں شام ڈھلے مجھے پاس بلاتی ہیں۔ پر  مجھے ان کو دیکھتے ہی وحشت سی طاری ہوجاتی ہے۔ مجھے اب جونؔ کی شاعری سے کوفت ہوتی ہے۔
تمہارے جواب کا پتا نہیں، میرا ارادہ ہے کہ تمہارے پاس ہی آجاؤں، دیکھ لیں کہ وہاں کچھ ہے بھی کہ نہیں۔ غالبا یہ میرا بھی آخری خط ہوگا۔

فقظ تمہارا
ارحم

صبح ارحم کی لاش بالکونی کے نیچے ملی۔۔۔ اسکو گھر کے قریب قبرستان میں دفنایا گیا، جہاں چار مہینے پہلے صبیحہ کو دفنایاگیا تھا۔

(Visited 832 times, 1 visits today)

Hasnat Sheikh is a civil society activist and a freelance writer based in Azad Kashmir. He is passionate about minority rights, poverty alleviation and the Kashmir cause.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے