Here is what others are reading about!

مشرقی مرد

ٹھیک  سات  بجے  اسکی آنکھ کھل گئی ۔ وہ ہربڑا کر اٹھا کچھ  بھی  معمول کے مطابق نہیں تھا۔پھر اسکو خیال آیا کے آج  تو اتوار ہے  اس نے  جسم   کو  ڈھیلا   کیا  اور منہ  پے تکیہ رکھ کر پھر سو گیا۔   اب اسےدیر تک  سونا  تھا۔  یہ خیال کتنا  خوشگوار تھا۔۔۔ گھر میں اکیلا کمانے والامرد جب  سوتا  ہے تو  مشرقی عورتیں اسے جگایا نہیں کرتیں۔ ایک بجے  اسکی  آنکھ  کھلی۔   اب وہ  سو  سو  کے  تھک چکا تھا۔ بدن کا  رواں  رواں درد کر رہا تھا۔ وہ سیدھا غسل خانے میں چلا گیا۔ نہ جانے کیا دماغ  تھا اس کا  ۔ یہاں  پہنچتے ہی یہ دنیا و مافیھا سےکہیں دور نکل جاتا۔  یہ اسکےرنگوں کی دنیا تھی جہاں اسے  تصور  سوجھتے۔   یہ دنیا وہی دنیا  تھی  جس میں پکاسو   رہا کرتا تھا ۔ جہاں دیگاسکا  بستا تھا ۔  جہاں صادقین کا  گھر تھا۔ مگر  وہ ا  س  دنیا  میں ہروقت رہتے تھے  کیونکہ یہی دنیا ان کا ذریعۂ معاش تھی۔۔۔ اور اس سے بڑی   عیاشی کیا ہو سکتی ہے  کےآپ کا  شوق ہی آپ کا ذریعۂ معاش  بھی ہو  ۔۔۔مگر اسکا شوق اس کا  ذریعۂ  معاش نہیں تھا۔ ہاں  وہ عیاش  نہیں تھا   بلکہ دفتر میں بیٹھے   کسی ناکارہ  سی فائل پر وہ سکیچ بنا لیا کرتا ۔  یا  کبھی گھر میں اسٹڈی ٹیبل  پر بیٹھے ہوئے بچی ہوئی چائے میں   برش  ڈبو کر کسی رف   کاغذ   پرعجیب و غریب  نقشے کاڑھ لیا کرتا  ۔کبھی ایک عورت اور دو مرد۔۔۔کبھی دو عورتیں اور ایک مرد۔ کبھی کئی مرد کبھی  کئی  عورتیں۔۔۔ مگر آج تو اتوار تھا ۔ آج تو آرام  کا دن تھا۔  آج وہ باقاعدہ  کینوس پر جھک مار سکتا تھا۔۔۔  ایک  پرائیویٹ  کمپنی میں    40   ہزار روپے پر کام کرنے والا پروڈکٹ مینیجر،    جوصبح 6 بجےاٹھتا  ہے  اور 6 سے    6:30غسل خانے  میں ہوتا  ہے  پھرآئینے میں اپنی  ٹائی درست کرتا ہے ۔  ناشتے کی ٹیبل سے  سینڈوچ  اٹھا کر  بس  اسٹاپ  کی طرف بھاگتا ہے  اوراس کی ماں  اور بہنیں   اسے ناشتے کے لیے پیچھے سے   آوازیں  دیتی رہتی ہیں ۔۔۔ آج  اس پروڈکٹ مینیجر کے اندر  کے آرٹسٹ نے باہر نکلنا تھا۔۔۔ نہا کر باہر  نکلا  تو   اسکی بہن کھانا لے کر آ چکی تھی ۔ وہ بہن جسے وہ  ایک انڈپنڈنٹ  عورت  بنانا چاہتا  تھا،  جسے اس نے اپنے سے بڑے عہدے  پردیکھنے کے خواب دیکھ  رکھے تھے  ۔۔۔

 5 چھوٹی بہنوں کا  بھائی جب کھانا کھا چکا  تو اخبار دیکھنے لگا ۔۔۔ بھائی!!! عبدللہ  بھائی آئے ہیں۔۔۔ اچھا آتا  ہوں ۔۔۔ ایک تو یہ حرامی اتوار کو بھی چین نہیں لینے دیتا!! یہ دونوں دوست ایک جیسے تھے۔  دونوں ہی کینوس  پر جھک مارتے تھے۔  عبداللہ  کے اندر کے آرٹسٹ کو احد  نے ہی ڈسکور کیا تھا۔ تب  سے عبدللہ   اسکا دیوانہ تھا!!!

آ جاؤ میاں  اب  اندر۔   احد اسکو  بٹھا کر اخبار اٹھا لایا۔۔۔  ہم خواتین  کوہر   قسم  کی سماجی سپورٹ  دیں گے۔۔ ترجمان  این جی او ۔  ایک تو   ان سالوں  نے دماغ   کھپا  رکھا  ہے ۔ سالے مغرب کی زبان بولتے ہیں۔ کوئی  تنظیم ہمارے حق  میں  بھی بولے۔میں کہتاہوں  کہ اگر   مشرق کامرد   مغرب کا اثر لے لے  تو برصغیر کا  بیڑا غرق ہوجائے۔ جس دن مردآزاد   ہو گیا  سوچو ۔  اگر میں  اپنی  ذمہ داریوں سےغافل ہوجاؤں اور  پینٹنگ  ہی کرنے لگوں ، کہو کیا ہوگا ؟

تو مسٹر  احد آپ عورتوں کی  آزادی کےخلاف ہیں  !!!عبدللہ  بات کاٹ دی   ۔

 اگر  عورت  کی   آزادی  کامطلب  اسکی  اچھی تعلیم  وتربیت  ہے ۔ اسکی عزت  نفس کی حفاظت ہےاور  اس کواس کے  پاؤں  پر کھڑا کرنا  ہے  تو مجھ سے  بڑا  فیمنسٹ   کوئی  نہیں اور اسلام سے  بڑا  عورت کا  داعی  کوئی نہیں  ہے!!!! مگر یہ لوگ  توہماری  جڑ یں کمزور  کرنا  چاہتے  ہیں ۔ ٹھیک  ہے  مرد  نہیں ہوتے  اتنے  اچھے  ۔اتنے پاک  باز  لیکن  مشرق میں  رہنے والے 88 فیصد مرد  اپنےگھر کی  عورتوں کو  عزت کی   دیو یاں  سمجھتے ہیں۔   وہ  انکے  سامنے  چاہے کچھ نہیں کہتے لیکن   وہ جانتے ہیں کہ ان کی بیوی  ان کی عزت  کی حفاظت کرتی ہے۔ مرد  چاہے  جتنا بھی  کمینہ ہو   وہ  یہ جانتا ہے  کہ اس نے کوٹھے کی رنڈی کو کتنے  پیسے دینے  ہیں  اور  بچوں  کی  فیس  بھرنے  کے  لیے  ان کی  ماں  کو کتنے   پیسے دینے  ہیں ۔ اسے توازن  رکھناآتا  ہے ۔  اور  جہاں  تک اس کے ٹھرک  پن کا سوال  ہے  تو وہ شاید فطری ہے ۔اور  7 بچوں کا باپ، جس  کی ماں  اوربیوی   ہر وقت لڑتی رہتی ہیں،جو  سارا دن دھوپ میں   گرم چپس تلتا ہے ،   اگر  وہ سامنے سے  گزرنے  والی عورت  کو  ایک نظر  دیکھ  لیتا   ہے تو  میرا نہیں خیال  کہ اس  میں کوئی  برائی ہے ۔ان چھوٹی  موٹی  باتوں  کی وجہ سے  مرد پر  بے وفائی کا ٹیگ لگانا  کوئی مناسب بات نہیں  کچھ ذلیل مردوں نے ہمارا  بیڑ ا غرق کررکھا  ہے ۔احد کو تپ چڑ گئی ۔

عبدللہ  ایک عام فیمنسٹ تھا۔  تو تم یہ کہتے  ہو کہ۔۔۔ اچھا کیا عورت کی آزادی سی ڈر ہے تمہیں؟کیا تم بھی ایک سطحی مرد ہو؟؟؟

ہرگز نہیں۔ احد بولا۔  اگر میں ایک عام مرد ہوتا  تو کیا آج اپنے  گھرکی  عورت  کو تعلیم دلوا  رہا ہوتا؟  جبکہ میں  جانتا ہوں کہ عورت جب پڑھ لکھ  جاتی ہے تو اسے سوال کرنا آجاتا ہے  اور سوال کرنے والی عورت اس معاشرے کو زہر لگتی ہے ۔لیکن میں توخوش    ہوتاہوں جب  میری بہن مجھ سے دلائل کے ساتھ بحث کرتی ہے ۔ میں تو چاہتا ہوں کہ بہن کے پاس بہتر ڈگری ہوتاکہ اگر کل کو اس کا  شوہر حرامی نکلے  تو یہ کسی کی  محتاج نہ ہو۔۔۔  لیکن مجھے  اس  بات پر افسوس ہوتا ہے کہ مرد کیلئے کسی کے پاس کوئی ہمدردی نہیں  ہے۔  کتنا سفاک ہے ہمارا معاشرہ ۔  کبھی عورت کو کٹہرے  میں لا  کر کھڑا کر دیتا ہے تو کبھی مرد کے ساتھ زیا تی کرتا ہے ۔ سارا دن کام کرکے جب مرد گھرآتا ہے تو ماں کی سنتا ہے ۔ بیوی بچوں کی سنتا ہے ۔ اس سب میں کسی کو یاد ر نہیں رہتا کے اس کی بھی کسی کو سننی چاہیے ۔۔۔ معاشرے میں توا زن نہیں ہے عبدللہ۔۔۔ ہمارا مرد محنتی  ہے ۔ وہ ساری  زندگی دھوپ میں اپنے بال سفید  کرتا ہے ۔  مرد بھلے شوہر کے  روپ  میں اچھا نہ ہو مگر باپ اور بھائی اور بیٹے کے روپ میں وہ بہت اچھا ہے  عبدللہ ۔ وہ  محبّت کرنے والا ہے ۔  وہ پالنے والا ہے۔ لیکن عبداللہ محبت بانٹنے   والوں کو بھی محبت چاہیے ہوتی ہے ۔۔چلو اپنی مثال لے لو تم  بھی تو پینٹر بننا  چاہتے تھے نا مگر تم نہیں بنے کیوں کے پینٹر بن کر تم اتنا نہیں کما سکتے تھے کے اپنی  2 بہن کی شادی کر سکو ۔۔۔اور اپنے بوڑھی  ماں باپ کو حج کرواؤ ۔۔ ۔۔۔ہاں جانتا تھا ۔۔مگر تم نے قربانی دی اپنے شوق کی اور اس بات کا گواہ میں ہوں ۔تم نے ابھی تک شادی نہیں کی کیوں کے تماری ایک بہن ابھی گھر بیٹھی ہے  اور تم آج کل اس کا جہیز بنا نے میں لگے ہو یہ جانتے ہوئےبھی کہ، سارا جس سے تمہیں محبت ہے، اس کے رشتے آ رہےہیں  ۔۔۔اور تم سے اچھے  آ رہے ہیں ۔!!!مگر تم اسے تسلی تو دے رہے ہو ۔لیکن پہلے شادی تم اپنی بہن کی ہی کرو گے ۔بولو عبدللہ کیا میں سہی کہہ رہا ہوں؟؟ تم بھی تو اتنی اچھی ڈگری کے ہوتے اتنی چھوٹی پوسٹ پر کام کر رہے ہو ۔ہاہاہاہا ۔۔۔میں نے اپنی  مثال اس لئے نہیں دی تاکے تم مجھے میاں مٹھو نہ سمجھو ۔عبدللہ کے ہونٹوں پے ایک معنی خیز مسکراہٹ  ائی اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔ارے !۔۔۔ احد کھڑا ہوگیا۔  عبدللہ یار یہ جو تو بچوں کی طرح رونے لگ جاتا ہے نا ۔۔زہر لگاتا ہے مجھے ۔احد نے اسےگلے سے لگالیا۔ بھائی  رات ہو گئی ہے صبح جانا ہے  نوکری پر بھی۔۔۔ چل چھوڑ  اب مجھے ۔ احد نے عبدللہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اورسن ،  بشریٰ کی شادی کی فکر نہیں کرنی۔ کچھ پیسے ہیں میرے پاس ۔ ارم کے لیے کمیٹی  ڈالی تھی۔ اس کا  یونیورسٹی کا داخلہ بھرنے  کے لیے ۔لیکں اس میں ابھی دیر ہے تب تک کہیں اور سے انتظام ہو جائے گا ۔چل اب شکل ٹھیک کر اپنی ورنہ گھر والے سمجھیں  گے کہ   مجھ سے لڑ کر آیا ہے تو۔مشرقی  مرد اپنے  اپنے راستے  ہو لئے۔ کیونکہ دونوں  کو  صبح  کمانے جانا تھا۔ ۔۔

(Visited 1,504 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے