Here is what others are reading about!

16دسمبر اور بول پلاٹون

16 دسمبر کی تاریخ اب ایک ایسا دن بن چکا ہے جسے پاکستانی تاریخ میں شاید ہی کوئی انسان کبھی بھول سکے۔ یہاں انسان سے مراد وہ انسان ہے جسے انسانی جان بالخصوص 16 دسمبر کو اے پی ایس پشاور میں ہونے والے ہولناک سانحے میں مستقبل کے 132 معماروں اور معصوم بچوں سمیت کئی قیمتی جانوں کے زیاں کا احساس ہے۔

16 دسمبر کو ایک اضطراب کی سی کیفیت طاری رہتی ہے دل بے سکون ہوجاتا ہے۔ شاید کہیں 16 دسمبر کو اپنے بچے اسکول بھیجتے وقت کوئی ماں ایک بار سہم ضرور جاتی ہوگی ۔۔۔ یہ وہ کیفیت ہے جس سے شاید ہی نکلا جا سکے۔ نہ جانے ان ماں باپ پر آج کے دن کیا قیامت گزرتی ہوگی جو اپنے لعل و جواہر اس قیامت کی نظر کر چکے ہیں۔

 کہنے کو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ سانحہ ہی ایسا ہے ہر دل اس کی یاد آتے ہی مغموم ہو جاتا ہے لیکن شواہد اس امر کی نفی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ جی ہاں اسی پاکستانی معاشرے کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اس ظلم و بربریت کی حمایت کرتا ہوا بھی نظر آتا ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ وہ طبقہ اپنی منفی سوچ اور اس کی حمایت کھلم کھلا نہ صرف کرتا دکھائی دیتا ہے بلکہ پاکستان میں عملا لاگو بھی کروانا چاہتا ہے۔

ایسے میں سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ آخر کب؟ کب ہم اپنے دشمن کو پہچانیں گے؟ ہم تو نہ دس جانیں جانے سے کچھ سیکھے نہ سو جانیں جانے سے تو اب ہم کیا چاہتے ہیں؟ کیا پانچ سو، ہزار جانیں چاہیئں ہمیں جاگنے کے لیئے؟ بچوں کے علاوہ تعداد شمار کی جائے تو اب لاکھوں میں جا پہنچی ہے ۔۔۔ کتنے نعرے اور آخر کب تک؟ کبھی ہم دعوے کرتے ہیں کہ دشمن ہماری قوم کے بچوں سے ڈرتا ہے، کبھی ہم یہ لن ترانیاں سناتے ہیں کہ دشمن کی کمر توڑ دی گئی ہے اور اب ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ۔۔۔ دشمن کہیں سے بھی اچانک پھر نکل کر آتا ہے اور معصوم انسانوں کے بیچ اندھا دھند تباہی مچا کر اپنے 4/5 مہرے  پِٹوا کر جہل کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے ۔۔۔ لفاظی اپنی جگہ، کیا ہمیں اس تناظر میں کہیں عملی کامیابی بھی نظر آتی ہے؟؟؟ جی نہیں ۔۔۔ یہ سب لفاظی ہی رہے گی ۔۔۔ پاگل کتا اگر سامنے بیٹھا ہو تو اس کا انتظار نہیں کیا جاتا کہ وہ کب کاٹے گا۔

بلاشبہ یہ وہی عفریت ہے جسے قوم کے مرد حق محترم و عالی جناب رحمۃ اللہ علیہ نے معصوم و مظلوم جان کر پالا اور اب جس کے راتب میں بڑوں کے ساتھ ساتھ اب معصوم بچے بھی شامل ہو چکے ہیں۔۔۔ ملک بھر میں ہونے والا ہر ایک ہولناک سانحہ سوال اٹھاتا ہے ہم کس نہج پر جارہے ہیں؟ آخر ہم نے سوچا کیا ہے؟ آخر اس خونی کھیل کا سدِباب کیسے ممکن ہے؟

 16 دسمبر 2014 کو پشاور اے پی ایس اسکول میں کھیلی گئی خونی ہولی جہاں لاکھوں دلوں کو غمزدہ کر گئی وہیں کئی لوگوں کو جھنجوڑ بھی گئی ۔۔۔ بول پلاٹون! یہ لفظ آپ کے لیئے نیا نہیں لیکن آج سے صرف 2 سال پہلے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک ذہن کی بیداری کئی ذہنوں کو یکجا کردے گی اور کئی ذہن مل کر سو، ہزار اور لاکھوں کی تعداد میں جا پہنچیں گے ۔۔۔ شعور سے بیدار ایک مثبت سوچ کے حامل لاکھوں ذہن اس بات کی دلیل ہیں کہ بقول اقبال،

دگرگوں ہےجہاں ، تاروں کی گردش تیز ہےساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

(Visited 813 times, 1 visits today)

Asad Ali is an IT professional based in UAE. He’s a keen craver of literature, art, calligraphy and sketching. Addicted to Sufism, his areas of interests are social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے