Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

عالمِ گیتی پر ایک”نیا سال” دستک دے رہا ہے۔  نا جانے کیوں ایک ہندسے کے  بدلنے کو قسمت  کے بدلنے پر محمول کرلیا جاتا ہے۔ہم یوں سوچتے ہیں جیسے ’’نیا سال‘‘ ان سب  تاریکیوں کو، جو اس ’’پرانے سال‘‘ میں ہمیں اپنے ہی  وجود سے اوجھل کئے رکھی تھیں، اجالوں میں بدل دینے پر قادر ہے ۔ خود فریبی کا ایک ایسا  عالم ہے جو مسلسل ہے ۔  شاید ہماری سوچ کبھی تنہا نہیں رہ سکتی۔ غور و فکر کے توازن سے اُستوار یا پھر خود فریبی  کی آمیزش سے  بیکار۔میں ہندسوں کے اس بدلاؤ پرگمان کی جانے والی تبدیلیوں پر یقین نہیں رکھتا۔نئے  سال میں بھی مجھے دفترلیٹ جانا ہے۔نئے سال  میں بھی مجھے اپنے آپ سے نہ پورے ہونے والے وعدے کرنے ہیں۔نئے سال  میں بھی مجھے رات کو کافی پیتے ہوئے، اپنے دن کے بے مقصد گزر جانے کا نوحہ کرنا ہے۔ نئے  سال میں بھی مجھے  یہی سب سوچنا ہے جو میں آج سوچ رہا ہوں۔  بزبان فیضؔ یہی مطلوب ہے کہ ” اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟ ”۔ فیضؔ کے اس جملےنے ہمیشہ مجھے نئے سال کی اُن fantasies سے دور رکھا جو  یہ خواب دکھاتی ہیں کہ نئے سال کا سورج ایک نئے دور کا سورج ہے۔ میں خواب نہیں دیکھتا۔  خواب  ٹوٹتے ہیں تو دکھ دیتے ہیں۔

2015 کا سورج ڈوبنے کو آیا تو اس کے وجود پرگزشتہ سال ہلاک ہونے والے 979 معصوم شہریوں کے لہو کی سرخی تھی۔ سیاسی لیڈروں کے اکٹھ نے  ایک بار پھریہ خواب دکھایا کہ بس بہت ہؤا یہ ظلم و ستم ۔ ’’شکریہ ‘‘ اور ’’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر‘‘ کے نعروں  کے بیچ عسکری قوت کے وعدوں نے یہ سُجھایا کہ نفرتیں بیچنے کا کھیل تمام ہؤا۔شدت پسندی کے خلاف متحد عوام الناس  کےمظاہروں کے بعد سوچنے لگا کہ بھیڑ قوم بن گئی۔ طلوعِ صبحِ نو کے ساتھ  طلوعِ دورِ نو کی امید بندھ گئی ۔ لیکن اِس ’’نئے سال‘‘ نے کس طرح ان سب  خوابوں کو جھٹلایا، وہ سب بہت بھیانک ہے ۔درد، تکلیف اور خون۔ ۔  ماہ با ماہ، روز بروز۔

جنوری ! سال نو کا سورج چڑھ چکا تھا لیکن دہشت اور شدت پسندی کا سورج ابھی تک سوا نیزے پر تھا۔ 13جنوری کو کوئٹہ  میں پولیو سینٹر کے قریب ایک خود کش بم دھماکے میں 15 افراد کی جان چلی گئی۔  صرف 15؟ نہیں یہ کافی نہیں۔اس لئے 20 جنوری کو باچا خان یونیورسٹی میں پھر سے حملہ کرکے 20 طلباء و اساتذہ کو شہید کر دیا گیا۔ابھی ایک سال ہی تو گزرا تھا جب سیاسی اور عسکری لیڈروں نے اپنے بچوں کی مکفون لاشوں پر کھڑے ہو کر قوم کے ہر بچے کی حفاظت کا عہد کیا تھا۔ ’’نیا سال‘‘ شروع ہو چکا تھا۔ اس کے بعد فروری کا مہینہ آیا۔  9فروری کو کوئٹہ  میں ایف سی کی گاڑی پر  حملہ کر کے7 اہلکاروں  کو شہید کر دیاگیا۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا دوسرا مہینہ تھا۔ مارچ کا مہینہ شروع ہوا- 7مارچ کو چارسدہ کےسیشن کورٹ پر حملہ میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ 16 مارچ کو پشاور میں سرکاری ملازمین کی ایک بس میں دھماکے سے 17 افراد شہید ہو گئے۔ اور اس ماہ کے اختتام 27 مارچ کو لاہور میں قیامت کا منظر دکھایا گیا جب اقبال پارک لاہور میں بچوں اور والدین کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور 74 شہید اور ساڑھے تین سو افراد زخمی کر دئے گئے۔ بقول دشمن، دین کی حفاظت کی گئی تھی۔   یہ ’’نئے سال‘‘ کا تیسرا مہینہ تھا۔-19اپریل کو مردان میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر میں دھماکہ سے17 افراد زخمی اور ایک شہید ہو گیا۔  یہ ’’سال نو‘‘ کا چوتھا مہینہ تھا۔ پھر مئی کا مہینہ آیا- کوئٹہ میں ایک اور پشاور میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید کر دئے گئے۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا پانچواں مہینہ تھا۔جون کا مہینہ رمضان کی برکات کے ساتھ وارد ہوا تھا۔ گرمی کے ساتھ ساتھ حرارات ایمانی بھی عروج پر تھی۔اس ماہ  مشہور قوال امجد صابری کو مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جولائی کے مہینے میں کراچی میں دو آرمی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا ساتواں مہینہ تھا۔پھر اگست کا مہینہ آیا۔  آزادی کا مہینہ۔ 8 اگست کو کوئٹہ میں قیامت صغری بپا کی گئی اور  70  نگینوں کو دفن کر دیا گیا۔ یہ سب  وکلاء  تھے جو کالا کوٹ پہنے صبح روانہ ہوئے تھے اور سفید کفن میں واپس لوٹے۔ سرکار اور اہلکار خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے۔ یہ ’’سال نو ‘‘ کا آٹھواں مہینہ تھا۔ ستمبر کا مہینہ آیا- شدت پسندوں کا آخری دم تک پیچھا کرنے کا سفر عالم تصور میں جاری تھا کہ مردان ڈسٹرکٹ میں دھماکہ سے  14 افراد شہید ہو گئے۔ابھی اس سانحے کے زخم مندمل نہ ہوئے تھے کہ  16 ستمبر کو مہمند یجنسی میں ایک خود کش بم دھماکے میں 23 نمازی شہید  کر دئے گئے ۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا نوواں مہینہ تھا۔اکتوبر کے مہینے میں کوئٹہ میں ایک بار پھر سے قیامت کا منظر پیش کیا گیا جب  کیڈٹ کالج میں 500 کیڈٹس کو یرغمال بنا لیا گیا ۔60 شہید اور 200 زخمی کر دئے گئے البتہ دہشت گردوں کی کمر ٹوڑی جا چکی تھی۔ کربلاکا مقتل آج بھی سجتا ہے۔ حسین آج بھی شہید کئے جاتے ہیں۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا دسواں مہینہ تھا۔ نومبر کا مہینہ آیا ۔ 12 نومبر کو شاہ نورانی کے مزار پر حملہ میں 52 افراد شہید ہو گئے۔ پس ِخنجر آزمائی کوئی اور نہیں تھا۔ حملہ آور ہم میں سے ہی تھے۔  وہی تھے جن کے جبہ پوش وارث مسندوں پر براجمان ہیں۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا گیارواں مہینہ تھا۔دسمبر   آیا۔ سال کا  آخری مہینہ۔ سلطنت خداداد میں خون کی پیاس  منجمد موسم میں بھی نہیں بجھتی ولہذا پشاور میں پولیس اہلکار کی جان چھین لی گئی۔

بزبان جون ایلیاء، نئے سال اور پرانے سال میں کوئی معنی نہیں ہیں زمانے میں، نہ لمحے ہیں، نہ ساعتیں، نہ دن ہیں، نہ ہفتے، نہ  مہینے ہیں اور نہ سال، جب تم سب کچھ کہنا چاہو اور بس ایک لفظ ہی کہہ سکو تو کہہ دو۔۔۔ زمانہ۔۔۔ اور جب تم کچھ بھی نہ کہنا چاہو اور سب کچھ کہہ سکو تو بس ایک لفظ کہہ دو۔۔۔ زمانہ !!!

یہ ’’نیا سال‘‘ کل ختم ہو گیا۔ مجھے ایسا ’’نیا سال‘‘ پھر سے نہیں دیکھنا۔  میرے کانو ں میں آج بھی اپنے وطن کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ایک سال پہلے کئے گئے  وہ بلند بانگ دعوے گونجتے ہیں جن میں شدت پسندوں کی کمر توڑنے کی باتیں کی گئی تھیں۔ نفرتوں کے عفریت کمر ٹوٹنے سے نہیں مرا کرتے۔ عفریت کو مارنا ہو تو اس  کا سر کچلا جاتا ہے۔ کیونکہ سر ہی منبع ہے اس  سوچ کا جو  اسے ڈسنے کا حکم صادر کرتی ہے۔ وہ سوچ میرے اور آپ کے درمیان نہایت سکون سے پنپ رہی ہے۔ ہماری مسجدوں  کے منبروں  پر بیٹھے ملاؤں کے دئے جانے والے کفر اور قتل کے فتووں میں۔ ہمارے مدرسوں میں سکھائے جانے والے فساد فی سبیل اللہ کےحوروں بھرے تصور میں۔ ہمارے سکول کے نصاب میں پڑھائے جانے والے  غاصبوں کی بہادری کے جھوٹے قصوں میں ۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں جڑ پکڑنے والی پس پردہ  شدت پسندتنظیموں  کے عروج میں۔ یہ سب ’’پرانے سال‘‘  بھی تھا اور’’نئے سال‘‘بھی ۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ کچھ بھی تو نہیں۔

اے  نئے  سال  بتا  تجھ  میں  نیا  پن  کیا  ہے

ہر  طرف خلق  نے  کیوں  شور  مچا  رکھا ہے

آسماں  بدلا ہے  افسوس   نہ   بدلی  ہے   زمیں

ایک  ہندسے  کا  بدلنا  کوئی  جدت  تو   نہیں

تو  نیا  ہے  تو  دکھا  صبح  نئی  شام   نئی

ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی

(Visited 861 times, 1 visits today)

Arsalaan Qamar is theologian and a freelance writer based in Rawalpindi. His interests are minority rights and social issues. He can be reached out on Twitter @ArsalaanQamar

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے