Here is what others are reading about!

چلغوزہ اور فیس بک

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم کسی فیس بک گروپ میں مٹر گشت کر رہے تھے کہ دیکھا ، ہر طرف چلغوزے کی دھوم مچی ہوئی تھی، ہم حیران ہوئے کہ کیا اسکی قیمت میں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے؟ پھر اپنی فیس بک وال کا دورہ کیا تو بھی ہر طرف سب چلغوزے پر ٹھٹھہ کرتے نظر آئے.. دو جگہ پوچھ بھی لیا کہ یہ کیا کہانی ہے ہمیں بھی بتائی جائے.. اور پھر کچھ تصاویر اور لنک دیکھنے کے بعد ہم حیران کہ یہ آخر کیا تھا؟ چلغوزے سے ہم سب کی شناسائی بچپن سے ہے، مگر چلغوزے والی فلاسفی سے شاید سب کے علم میں ہو.. تو کہانی یوں تھی کہ چلغوزے کے چھلکوں کو اسکے کپڑے پہنا اور اتروا کر کسی شریف النفس انسان نے پردے، بےپردگی کی مثال سمجھائی.. بات تو اسکی درست تھی کہ حکم ربی غلط ہو ہی نہیں سکتا، ہاں اس حکم کے متعلق کئی علماء کرام الگ الگ رائے رکھتے ہیں جسے اس وقت چھیڑنا درست نہیں.. خیر اُن صاحب کی دی مثال نے فیس بک پر تہلکہ مچا دیا.. اور نادان لوگ یہ سمجھتے رہے کہ یہ تہلکہ مچانے والے چند قادیانی اور لبرلز کے علاوہ کوئی نہیں، یہ جانے بغیر کہ ایسی مثال اچھے اچھوں کو ناگوار گزر سکتی ہے-

چلغوزے کی مثال آخر کیوں جگ ہنسائی کا سبب بنی؟ منطقی طور پر ڈھیلی مثال..  جسکے کئی ذومعنی مطالب بھی سامنے آ جاتے ہیں جیسے ماضی میں لالی پاپ اور کیلے کی مثال کے آتے رہے—- بہرحال چلغوزے کو کپڑے پہنا دیے تو وہ میٹھا ہوگیا، کپڑے اتروا دیے تو وہ کڑوا…  آپکو نہیں لگتا کہ یہ مثال منطقی طور پر اس ‘پیغام’ کو ہی غلط ثابت کر رہی ہے جسے ان صاحب نے بیان کرنے کی کوشش کی تھی..  کیونکہ جہاں تک میرا علم ہے (کھانے کے بارے میں ) تو چِھلا ہوا چلغوزہ قیمت میں زیادہ مہنگا ہوتا ہے.. تو یوں تو یہ بات واضح ہوگی کہ برہنہ و نیم برہنہ عورت کی زیادہ قدر و قیمت ہوگی، ہو سکتا ہے ان صاحب کا سٹیٹس عام کرنے والوں میں کچھ ایسے بھی ہوں جو ایسے کئی چلغوزوں کی قیمتوں سے آگاہ ہوں— کئی حضرات اسے سنی لیون چلغوزے، اور کئی مغربی اقوام کی سازش، کہہ کر جگ ہنسائی میں حصہ ڈال رہے ہیں..

عورت برادری میں اس مثال کو سب سے زیادہ کوفت سے دیکھا گیا، اس چلغوزے والی مثال کے بعد اپنا مذاق بھی بنوانا پڑا.. کوئی انہیں چھلا چلغوزہ کہے، کوئی شرعی چلغوزہ… یعنی چلغوزے کے ذومعنی مطلب کے استعمال کا آغاز بھی ہوگیا-کئی مرد حضرات تو خوش ہوئے کہ اب یار دوستوں کو راہ چلتی کسی عورت کی جانب اشارہ کرنا ہوگا تو فقط چلغوزے کی حالت و ہیئت سے اشارہ کیا جا سکتا ہے-ابھی ہم چلغوزے پر بننے والے لطیفوں پر ہی سر دھن رہے تھے کہ فیس بک پر ایک نئی مہم کا آغاز ہوگیا-

سبز رنگ کی بیس میں لپٹا ‘پردہ’ – خیر وہ پردہ پردہ والی ڈی پی بھی انہی گروپس اور انہی لوگوں کی وال پر نظر آنے لگی جو ایک دن پہلے چلغوزے پر مذاق کر رہے تھے، پھر اس مہم میں شامل لوگوں سے ہم نے دریافت کیا کہ کیا یہ سبز رنگی ڈی پی لگانے سے عورت کی جگ ہنسائی جو اک چلغوزے نے بنائی وہ ختم ہو جائے گی؟ یاد رہے کہ عورت کو تحفظ بھی مرد ہی دیتا ہے، اور تحفظ بھی اُسے مرد ہی سے محفوظ رہنے کے لئے درکار ہوتا ہے…  فائدہ تو تب ہو کہ اس ڈی پی کے لگاتے ہی آپکے اندد جنتر منتر سے پھونکیں جائیں اور آپ عورت کے پردے کی فکر کرنے والے اسے راہ چلتے دیکھ کر فقرے کسنے کی بجائے نظر جھکا لیں.. مگر خالی فیس بک ڈی پی بدل لینے سے ہی تبدیلی آ جاتی ہے تو ہم بھی خود کو چلغوزہ کہلوا کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، کہ خالی کہلوانا ہی تو ہے، عمل کی کونسی ضرورت!

کچھ صاحب جنہیں عورت بلکہ خاص فیس بک پر موجود عورت کے پردے کی بہت فکر ہوتی ہے، اور جو اکثر انکی وال کا جا کر جائزہ لیتے اور انہیں ان ہی کی تصویر سیو کر کے انباکس کرتے ہوئے یہ بتاتے رہتے ہیں کہ اپنی ڈی پی ہٹا لیں محترمہ یہ سیو ہو سکتی ہے، (یعنی سبحان اللہ آپکی جھکی نظر پر جو عورت کو دیکھ کر گزر جانے کی بجائے اسکی تصویر سیو کرنے میں مصروف ہوگئی) ایسے نیک صاحبو نے بھی کہا کہ بھئی ‘ انہوں نے بات اعلی کردی ہے تو آپ مثال چھوڑ کر بات کو فوکس کریں’ … صاحبو مثال ہی تو سب کچھ ہے، اللہ کریم قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ”  ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﭽﮭﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺮﻣﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﮯ “  آپ سب کو معلوم ہوگا کہ قرآن میں مچھر اور مکھی جیسی چیز کی مثال بھی بیان کی گئی ہے، اور چیز کو انسان ہی کے لیے مثال بنایا گیا ہے، یعنی چیز کی مثال انسان سے جوڑی جائے تو کوئی قباحت نہیں، فقط مثال منطق اور حکمت والی ہو- چلیں قرآن کی مثال تو رب تعالٰی نے بیان کی، اگر ہم بشر کو دیکھیں تو بشریت میں نبی پاک صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات اول ہے، جس نے آج سے کئی سال پہلے ایسی ایسی مثالیں بیان کیں جو آج تک حکمت سے بھرپور ہیں-

چلغوزے جیسی موسمی مثال کب تک قائم رہ سکتی ہے؟ اور مثال بھی ایسی جسے منطقی طور پر درست قرار دیا ہی نہیں جا سکتا-تو ایسی غیر منطقی موسمی مثالوں کا دفاع کرنے کی ضرورت کیوں؟ کسی پر کوئی سوچ، فیصلہ، حکم مسلط کرنے کی ضرورت کیوں؟ کیا ہم رب تعالٰی کے باقی تمام احکامات کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم تجارت اور معاملات میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہیں؟ کیا ہم حلال و حرام رزق کمانے کے ان طریقوں سے آشنا بھی ہیں؟ کیا ہم اللہ کے باقی حقوق ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم حقوق العباد جیسی کسی چیز سے واقف بھی ہیں؟

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے الفاظ و حرکات میں اتنی کشش، اتنی حکمت، اتنا ٹھہراو پیدا کر لیں کہ سننے والا سن کر عمل کرنے کی کوشش کرے، کہ وہ الفاظ سیدھا اسکے دل پر اثر کریں نہ کہ اسکا دماغ اسے سنتے ہی غیر منطقی اور مزاح سمجھ کر جھٹلا دے.. اور نہ ہی ان مثالوں کے پس پردہ موجود پیغام کو بھلا کر کسی کو اُن پر ہنسنے کا موقع دیا جائے!

(Visited 918 times, 1 visits today)

Mafiya Sheikh is a graduate in Urdu literature and a freelance writer based in Islamabad. Working with an NGO, her areas of interests are social and general issues.

One Comment

  • a_sbhatti1987@hotmail.com'

    Anas Bhatti

    January 8, 2017 at 2:25 pm

    متفق ۔ ویسے ہمیں مثالیں دینے کے لئے بھی دوسروں کی عورت ہی ملتی ہے ۔۔۔۔ ان مولانا کو ،جنہوں نے یہ ساری کہانی شروع کی ،پوچھنا چاہیے کہ تم ہوتے کون ہو دوسرے کی عورت کے کردار کا فیصلہ کرنے والے ،وہ بھی اس کے کپڑے دیکھ کر ۔۔۔۔

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے