Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • ہمیں معاف کریں ، ہم غلام زادے ہیں

ہمیں معاف کریں ، ہم غلام زادے ہیں

دس سال پہلے کی بات ہے ، اباجان کے ساتھ موٹر بائیک پہ بازار جا رہا تھا کہ بلند آواز سائرن سنائی دئیے ۔ پتہ چلا مقامی ایم این اے کے قافلہ کا گذر ہورہا ہے۔  اباجان نے فوراَ موٹربائیک سڑک کے کنارے روک کر انکے گزرنے کا انتظار کرنے لگے ، موصوف کا قافلہ دھول اڑاتا سائرن بجاتا تیزی سے گذر گیا تو ابا نے مجھے ایک نصیحت کی ، کہنے لگے بیٹا ! جب کوئی بڑی یا گولڈن نمبر پلیٹس والی گاڑی گذر رہی ہو تو آرام سے ایک سائیڈ پر رک کر اسکے گزرنے کا انتظار کیا کرو ۔ یہ ظالموں کی سواریاں ہیں ، خاندانی اور وضع دار لوگ عموما لینڈ کروزرز اور جیپوں پر کار (خواہ مرسیڈز یا بی ایم ڈبلیو) کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میں نے بات کو پلے سے باندھ لیا تھا ۔

کل یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سید علی موسی گیلانی کی پریس کانفرنس دیکھی ۔ موصوف کے بقول وہ پتوکی سے گزرتے ہوئے لاہور جا رہے تھے کہ پیچھے سے آنے والے عمران خان کے قافلے نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری اور نہ صرف ٹکر ماری بلکہ ان کی گاڑی کے سامنے گاڑی روک کر بدمعاشی بھی کرنا چاہی ۔ سید علی موسٰی کے ساتھ ان کی فیملی بھی تھی ، انہیں اہانت محسوس ہوئی ۔ پریس کانفرنس میں روتے ہوئے انہوں نے کہا میرے ساتھ میرے بیوی بچے نہ ہوتے تو میں یا خود مر جاتا یا اس شخص کو مار دیتا (جس نے ان کے سامنے گاڑی روکی) ۔

میں سید علی موسیٰ سے ہمدردی کرتا ہوں اور مجھے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر افسوس ہے ۔

جس دھول کی مٹی سے ہوا قافلہ اندھا
خود قافلہ سالار کی ٹھوکر سے اڑی ہے

جو زیادتی علی موسٰی کے ساتھ آج ہوئی میرے ساتھ کئی نسلوں سے ایسی اور اس سے بہت بڑھ کر زیادتیاں ہوتی آرہی ہیں ۔

ابھی چند ہی سال تو ہوئے ہیں ، لاہور میں بیدیاں روڈ کے قریب موصوف کے بڑے بھائی علی قادر گیلانی کے محافظوں نے عید قرباں کا گوشت تقسیم کرتے بیس سالہ طاہر ملک کو گولیوں سے بھون کر اس کی ماں سے جینے کی وجہ چھین لی تھی ۔ بھائی کی خیر ہو ، وہ آسودہ زندگی کی تصاویر فیس بک پر لگاتے رہتے ہیں مگر طاہر ملک کی ماں آج بھی اس کی تصویر کو گلے سے لگا کر روتی ہے ۔

اگست کی بات ہے ، وزیراعظم ہاوٗس سے واپسی پر رہنمائے قوم میاں محمد نواز شریف کی ایک جھلک دیکھنے کو آئے سترہ سالہ معصوم کو انہی کے قافلے کی ایک گاڑی نے روند ڈالا تھا ، انصاف کی توقع کون بھولا کرے گا ، خیر سے اس بچے کے خاندان کی خبر لینے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ آزاد صحافت کا بول بالا ہے ، میڈیا کے لئیے کسی ماں کی آہوں سے زیادہ شیخ رشید کی تقریر کی اہمیت ہے ۔

پچھلے سال جولائی میں انہی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ کے ساتھ بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ تھیں ، الزام فورا مریم نواز پہ لگایا گیا بعد میں علم ہوا کہ آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب خان کسی کام سے گلبرگ میں گھوم رہے تھے ۔

اور وہ کوئٹہ کا واقعہ بھی ہمیں یاد ہے جہاں بلوچستان کے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالمجید اچکزئی کی گاڑی کو سگنل سرخ ہونے کے سبب روکنے کا اشارہ ان کے ڈرائیور کو اتنا برا لگا کہ اشارہ کرنے والے ٹریفک سارجنٹ حاجی عطاٗاللہ کو کچلتا ہوا نکل گیا ۔ حاجی عطااللہ کے بچے باپ سے محروم ہوگئے ، عبدالمجید اچکزئی مگر اسمبلی کے فورم پر اخلاقی اقدار پہ تقریریں کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔

سال 2015 عیسوی کے آخری دن تھے ۔ بلاول بھٹو زرداری نئے ایمرجنسی وارڈ کا افتتاح کرنے سول ہسپتال کراچی پہنچے ۔ ابھی تقریب جاری تھی کہ لیاری کا مزدور فیصل ابھی دس ماہ کی بچی بسمہ کو تشویش ناک حالت میں لے کر ہسپتال کی ایمرجنسی کے دروازے پر پہنچا ، دروازہ مگر بند تھا ۔ اسے بتایا گیا کہ اندر تقریب جاری ہے ، سو داخلہ ممنوع ہے ۔ مجبور باپ نے کیا کیا منتیں نہ کی ہونگی ، سیکیورٹی والوں نے مگر اسے جانے نہ دیا ۔ دس ماہ کی ننھی بسمہ نے بے بس اور لاچار باپ کی بانہوں میں دم توڑ دیا ۔ فیصل کو آج بھی اپنی بیٹی یاد آتی ہے ۔ وہ اسکی ماں سے چھپ کر اسے یاد کرکے روتا ہوگا ، بھٹو کا نواسہ مگر نواز شریف کا احتساب کروانے میں مصروف ہے ۔

گزشتہ سال کا آغاز تھا ، تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا کراچی کے علاقے زمزمہ میں کالا چشمہ لگائے ہیوی بائیک پہ گشت کررہے تھے ۔ پولیس کی گاڑیوں پر مشتمل معمول کا باضابطہ پروٹوکول ساتھ تھا ۔ کسی منچلے صحافی نے پوچھ لیا کہ جناب جب بائیک پہ ہی نکلنا تھا تو پولیس کی کیا ضرورت تھی ۔ ڈانٹتے ہوئے فرمایا ، آپ لوگ چھوٹی سی بات کا ایشو نہ بنائیں ، میری جان کو خطرہ ہے ، مجھ پر ایک سے زیادہ بار حملہ ہوچکا ہے ۔

ایک خبر کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ اکیالیس گاڑیوں کے کارواں میں سفر فرماتے ہیں ۔

چئیرمین تحریک انصاف نے پندرہ جنوری دو ہزار پندرہ کو خیبر پختونخواہ کے دارلحکومت سے بیان دیا تھا کہ آپ لوگ آج کے بعد میرے ساتھ کسی قسم کا کوئی پروٹوکول نہیں دیکھیں گے ۔ اس سے چند دن بعد موصوف اے پی ایس کے شہدا کی تعزیت کے واسطے ۱۸ گاڑیوں میں تشریف لے گئے تھے۔

فوجی بھائیوں کے قافلے کا تو ذکر ہی کیا ، میرا ذاتی طور پہ واسطہ پڑچکا ہے ، انکے لئے لوگ خود ہی احتراما جگہ چھوڑ دیتے ہیں ۔اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ جو حکومت اور طاقت میں ہوتا ہے اسکے ساتھ چار گاڑیوں کا مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ غیر حکومتی شہزادوں کو وہ آنکھیں دکھا لیتا ہے ، علی موسیٰ کو اہانت کا احساس ہوا ، انہوں نے میڈیا پر آکر بھڑاس نکال لی مگر کوئی بتائے کہ طاہر ملک کی ماں کیا کرے ؟ کراچی کی بسمہ کا باپ کیا کرے ؟ اورلالہ موسیٰ کے بچے کے والدین کہاں جائیں؟ کس سے فریاد کریں ؟ انکی بات تو مقامی رپورٹر بھی نہیں سنتا ۔

ورنہ دل تو انکا بھی چاہتا ہے کہ یا تو اپنے پیاروں کے قاتلوں کو مار دیں یا خود مر جائیں۔ رفیع رضا طیش میں آکر کہہ اٹھا تھا

ہمیں معاف کریں ، ہم غلام زادے ہیں
اور آپ شاہ کے مصاحب حرام زادے ہیں

(Visited 1,012 times, 1 visits today)

Taha Sharif is freelance writer based in Faisalabad. His areas of interests are social and human rights issues. He can be reached out on Twitter @tahashrf

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے