Here is what others are reading about!

سوال

دیکھ لی تصویر اٹھا لیا قلم بولو کہاں سے شروع کرو گی؟ میرے بدن پر پڑے نیلوں سے یا میری روح میں گڑے گئے سخت کیلوں سے؟ بولو! تم ایک کمزور عورت ہو جس کے پاس طاقتور قلم ہے۔  مچاؤ شور اس قلم سے مچاؤ شور۔  تم اخبار والے ٹی وی والے! تم احتجاجیوں سے اور کیا ہو سکتا ہے۔  میں تو واپس نہیں آ سکتی نا مگر تم تو ہو۔ تو مچاؤ شور چیخو وہ چیخیں بھی چیخو جو میرے حصّے کی ہیں جنہیں سخت ہاتھوں نے دبا دیا تھا۔ مچاؤ شور تب تک جب تک اس پدر شاہی نظام میں پسنے والی ہر عورت کے منہ پر ہاتھ رکھ کر دبائی گئی چیخیں یکجا ہوکر غازیبو کے کانوں میں سے خون نہ لے آئیں۔ میں پس منظر میں کھڑی دیکھ رہی ہوں۔  اب میں وجود کی دنیا میں نہیں رہی مگر مری صورت دیکھو تمے اندازہ ہوگا میری آنکھوں میں۔

کتنے حسین خواب تھے ۔ اماں بابا اللّه کے گھر دعا مانگنے گئے تھے۔  یہاں آکر میری نماز پڑھیں گے۔ اخباروں میں میری تصویر چھپے گی۔  میں وھ زینب ہوں جسے بابا نے کھا تھا کہ اگر میری گڑیا فرسٹ آئے گی تو اخبار میں اسکی تصویر آئے گی اور میں اچھل پڑی تھی۔  دیکھو آج کا اخبار اور دو مجھے جواب! انہیں  لگتا ہے یہ میری لاش ہے جو کوڑے کے ڈھیر میں پڑی ہے۔ یہ اس تہذیب کی روندی ہوئی لاش ہے جس کی بولی لگا کر تم آج تک داد وصول کرتے آئے ہو۔ یہ ان خوابوں کا  لاشہ ہے جنہیں میرے ماں باپ نے دیکھا تھا یہ لاش اس   گھٹن زدہ معاشرے  کی ہے جو روایات کی اڑھ میں انسانی فطرت پر  پابندیاں لگاتا ہے۔

میرے پاس اس کی باتوں کے کوئی جواب نہیں تھے میں کسی تھکے ہوے ملزم کی طرح اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ڈھونڈھو ان سوالوں کے جواب کون ذمہ دار ہے ان جانورو کے علاوہ وہ کون سے نفسیاتی عناصر ہے جو انسان کوش درندہ بناتے ہیں؟ کون سا جھول ہے تمارے معاشرتی نظام میں جس کی کڑی اس سے ملتی ہے؟ عورت کو انسان ہونے کا درجہ کب ملے گا؟ اسکے جسم کے ایک حصّے کوش کب تک اسکی ذات کا مکمل مصرف سمجھا جاتا رہے گا؟

یہ وجود کی جنگ کس دن ختم ہوگی؟حوا کی بیٹیاں بغیر خوف کے کس دن باہر نکل سکے گی؟ عزت کے نام پر کب تک عزتیں اتاری جائیں گی؟ ان سب کے جواب ڈھونڈوں ۔۔۔

(Visited 634 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے