Here is what others are reading about!

میں کون ہوں؟

اندوہناک بریکنگ نیوز سے اٹے معاشرے کا فرد ہوں، قدم قدم پر لٹتی زینبوں، قتل ہوتی سبینوں، مرڈر ہوتے حسن عارفوں، بھینٹ چڑھتے سلمان تاثیروں، تڑپتے خرم ذکیوں، چیختے مشال خانوں اور سسکتے شکیل عوجوں کے لاشے اٹھاتے اٹھاتے تھک چکا ہوں، اتنا تھک چکا ہوں کہ موبائل کی پکچرز گیلری میں ایک کالے رنگ کی تصویر رکھ چھوڑی ہے، ہر بار کسی اندوہناک واقعے کی مذمت کے لیے اسے چند دن کے لیے اپنی ڈی پی کے طور پر لگا لیتا ہوں، آٹھ لائک، چار کمنٹس اور دو شئیر مل جاتے ہیں، کچھ آہ بھر  لیتے ہیں، کچھ لرزتی ہچکی اور کچھ دکھیارے چار آنسو بہا لیتے ہیں، سمجھتا ہوں فرض پورا ہوگیا ہے۔

کچھ اور آگے بڑھتا ہوں پریس کلب کے سامنے اپنی اپنی مزدوری کی لاش اٹھائے بے حس وجودوں کی راہ روک کر چار نعرے لگا لیتا ہوں، بینر پر سرخ رنگ سے دل چیرتی تحریر لکھ کر چیخ لیتا ہوں، دس روپے کی موم بتی جلا کر دھاڑ لیتا ہوں، سمجھتا ہوں فرض پورا ہوگیا ہے۔

تھوڑا اور آگے بڑھتا ہوں کسی سڑک کے عین درمیان بپھرے جلوس کا حصہ بن جاتا ہوں، ٹائرجلاتا ہوں، دھواں دھواں معاشرے کے ظالموں پر لعنتیں بھیجتا ہوں، سمجھتا ہوں فرض پورا ہوگیا ہے۔

پھر آگے بڑھتا ہوں کسی بڑھیا کی لاٹھی ٹیکتی زندہ لاش کے پاس سے گزرتا ہوا، کسی زندہ زینب کی بے بسی کو اگنور کرتا ہوا، سڑک کنارے بھیک مانگتے کسی کے لال کی لال آنکھوں میں جھانکے بغیر، کسی ساٹھ سالہ سالا بزرگ کی غربت زدہ آنکھوں کو پھلانگتا ہوا اپنے گھر کے شیش محل میں داخل ہوجاتا ہوں۔

(Visited 866 times, 1 visits today)

Amir Rahdari is a writer and producer at Geo News based in Lahore. He's famous for his satirical views and reviews.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے