Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Author: Dr. Sohail Ahmad

وہ بیڈ ڈینگی والوں کے لئے ہے

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک آرٹیکل بعنوان  ” ٹکر” (http://bit.ly/1VEvxmd)  لکھا تھا۔   “ٹکر” میں غلام حسین نامی ایک محنت کش کا ذکر تھا جو بہاولپور سے اپنے پورے خاندان سمیت راولپنڈی آکر آباد ہو گیا تھا اور وہ اور اس کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزر اوقات کرتے تھے۔ ان…

مخلوق سے پیار کرنے والے کو خالق کا بلاوا

غالباً سن دو ہزار پانچ کی بات ہے۔ میڈیکل کالج سے ڈیوٹی ختم کر کے نکلا تو اپنی گاڑی میں، بہاول وکٹوریہ ہسپتال کےشعبہ بیرونی مریضان کے سامنے سے شارٹ کٹ لیتے ہوئے گھر کی جانب مڑا۔ سرسری سی نظر آؤٹ ڈور بلاک کے سامنے والے فٹ ہاتھ پر پڑی تو ایک بوڑھا شخص وہاں…

ٹیڑھے کھمبے اور گبر سنگھ

نئی سڑکیں ، بڑے پولز اور ان سے لٹکے ہوئے  سیکیورٹی کیمرے۔۔ سب اچھا لگتا ہے۔ لیکن نہ جانےانہیں نصب کرنے والے  انجینئرز اپنے ساتھ پارے والا لیولر کیوں نہیں رکھتے جیسا کہ خدا بخش اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ تریسٹھ سالہ خدا بخش پیشے کے لحاظ سے تو مالی ہے لیکن با رعب اور ٹھسے…

مجسمہ ، چڑیا اور پانامہ لیکس

بچپن میں ایک شہزادے کے مجسمے اور ایک چڑیا کی کہانی پڑھی تھی۔ آج بھی یورپ کے سفر کے آخری  ایام میں جب میں نے شہر کے سب سے بڑے چوراہے میں نصب ایک باوقار جنگجو کے لباس میں ملبوس ،پتھر کے اُس مجسمے کو دیکھا تو میری آنکھیں اُس چڑیا کو ڈھونڈنے لگیں جِسے میرے…

ڈیڑھ سو روپے

“یار بٹ ! اِس  کو بیٹھے بٹھائے یہ کیا سوجھی؟ اچھی بھلی یہاں ڈراموں میں کام کر رہی تھی۔ ایویں ای  انڈیا  کی فلم سائن کر لی اُس نے!” ادھیڑ عمر کلرک نے اپنے سامنے والی میز پر بیٹھے قاسم بٹ کو اخبار دیتے ہوئے کہا۔ قاسم بٹ نے اپنے ساتھی کلرک کی بات کا…

ٹکر

بلی کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر آپ اُسے کِسی ایسی جگہ پر بند کر دیں جہاں فرار کا کوئی راستہ نہ ہو تو وہ آخری کوشش کے طور پر آپ پر پوری شدت سے حملہ آور ہو سکتی ہے اور اُس واحد راستے سے فرار ہو جاتی ہے جہاں پر آپ کھڑے ہوتے…

جھوٹ

کاش دنیا سچ کے پھولوں سے مہک اٹھے____________ ! ایک موہوم سی ____ مگر نجانے کب سے پلتی ہوئی خواہش نے میرے دل میں دھڑکنوں کے بہت قریب ہی کروٹ لی _____  میں ایک اجنبی مسافر کی طرح شہر کے انجانے راستوں پر چلتا ہوا ،اترتی شام کے سائیوں میں اُفق پر پھیلتی ہوئی سرخی…

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے