Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Tag Archives:  عورت

بلاعنوان

دربار کهچا کهچ بهرا ہوا تها آج فیصلہ ہونا تها ایک تجسس تها کہ کیا فیصلہ ہوگا رعایا انتظار کررہی تهی بادشاہ سلامت ابهی تک تخت پر براجمان نہیں ہوئے تهے رعایا میں چہ مگوئیاں ہورہی تهیں کوئی کہ رہا تها “پهانسی ہو جائے گی” ایک نے کہا “نہیں عمر قید ہوگی” کسی نے کہا…

کافر ساز فیکٹریوں سے فتوی ساز انڈسٹریوں تک

آج سے چند ماہ قبل عورتوں پر تشدد اور ان کے جنسی استحصال کے خلاف پیش کئے جانے والے پنجاب اسمبلی  کے منظور کردہ ’’غیر اسلامی ‘‘ تحفظ حقوق ِ نسواں بل  کے جواب میں  گزشتہ ہفتے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘  نے  اپنا 163 نکات پر مشتل حلال اور اسلامی ’’ تحفظ حقوق نسواں‘‘ بل  پارلیمنٹ…

معاشرے کو زندہ رہنے دیجئے

عورت ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ تحقیق اور مباحث کا باعث ہے. عورت کا پردہ کیا ہوتا ہے عورت سے ہم بستری کیسے کرنی ہے مباشرت کے آداب کیا ہیں کن چیزوں سے نکاح نہیں ٹوٹتا کیا لونڈی سے جسمانی تعقات رکھے جا سکتے ہیں جیسے موغوع ہمارے ہاں تحقیق کے اور مناظروں کے…

ادھوری ذات

ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے عادی مِراثی، اپنی شناخت سے محروم چند جسم ، معاشرے سے دُھتکارے ہوئے کچھ لوگ ، خدا کی مَنحوس مخلوق ، قوم کے اوپر ایک عذاب ۔۔۔ جانے کیا کیا سنْنا باقی تھا اسے اپنی زندگی میں۔قصور وہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ جانتی تھی یا جانتا تھا ؟…

موم کی عورت

نا جانے اس نے کس طرح کی عورت بننا ہے….ابھی تک اس کو کچھ پتا نہیں کہ اس کی سمت کیا ہو گی…اس اہم امر کا فیصلہ ابھی کیا جانا ہے…..سب کہتے ہیں کہ پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے اب تک تو اس بات کا فیصلہ ہو جانا چاہیئے …..یہ فیصلہ جس نے…

بابا کی شہزادی

اللہ پاک نے دوستی ایک بہت ہی مقد س اور عظیم رشتہ بنا یا ہے، یہ رشتہ تما م تر رشتوں میں  خصوصی مقام رکھتا ہے۔جب میں گھر سے دور کالج کے ہاسٹل میں رہتی تھی تو میری سہیلیاں ہی تھیں جو  فیملی کی یاد آنے ہی نہ دیتیں۔ان میں ایک “سحرفاطمہ”بھی تھی۔خود مسکراتی اور…

دیوار اور بیل

عورت ایک بیل کی طرح ہے جو خود کو سائے میں محفوط رکھنے کے لیے دیوار ڈھونڈ تی ہے اور مرد ایک ایسی دیوار ہے جس کو بیل کی ضرورت تب ہوتی ہے جب اس کو خود سنورنا ہوتا ہے اور بیل دیوانی سی ہو کر دیوار کو سنوارتی ہے، اس کی حفاظت کرتی ہے…

ہمارا سماج ایک ہیجڑا

اس نے تھوڑا سوچا۔ بہت زیادہ ہو جائیگا ڈرائیو نہیں کر سکوگے۔یہ سوچ کر وہ وسکی کو چومتے ہوئے بولا ،’’کل ملیں گے‘‘۔۔۔۔آ جا یار تجھے میں گھر چھوڑ دوں۔۔۔نہیں نہیں میں چلا جاؤں گا۔۔۔۔جانے کیا بات تھی اس میں ، حد کا ڈھیٹ پن ۔۔۔ بہت پیتا تھا لیکن پھر بھی ایسی باتیں کرتا…

جسم فروش

نئے سال کاآغاز ہے۔گزرے وقت کی یادیں ہر دم مجھے گھیرےہیں۔جوانی کا وہ وقت میرے سامنے ہے جب  خون  اور جذبات کی گرمی کے جوش میں ہر قسم کی برائی کرتاچلا جاتا تھا۔ مجھے وہ دن آج بھی  یاد ہے جب مجھے پھر سے اپنے پیسے کے زور سےکسی کی عزت کے ساتھ کھیلنا تھا۔…

12
Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے