Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Tag Archives:  معاشرہ

غیرت مند معاشرے کی ایک جھلک

 “بڑا آیا مجھے مارنے والا” یه ایک نڈر بہن کا خیال تھا۔ بہن کے اس خیال کو غیرت مند بھائی نے گلا گھونٹ کر زمین کے چھ گز نیچے پہنچا کر حقیقت کا روپ دے دیا۔ بہت سن لیا که قندیل بری عورت تھی، بے حیا، بے باک، بدکردار، بد چلن ،بے غیرت،آوارہ مزاج اور…

آزاد غلام

پاکستان عالم وجود میں آتے ہی آزاد ہو گیا تھاـ ہندوستان بھی آزاد قرار پایا.لیکن انسان ان دونوں مملکتوں میں غلام تھاـتعصب کا غلام مذھبی جنون کا غلام حیوانیت و بربریت کا غلام. یہ اقتباس منٹو کی تحریر آزاد غلام میں سے ہے. آزاد غلام کی یہ اصطلاح منٹو نے دونوں ممالک کے عوام کیلئے…

خاموش سسکیوں کی کمائی

وہ زمانے کی گر م ہواؤں  سے اس قدر   خوش اسلو بی سے گلے ملتا کہ وہ اس کے وجود کے  گہرے بحر سے ٹکرانے کے بعد اسی کے سینے میں مد فن ہو جایا کرتی تھیں۔وہ تن تنہا ان تاریک راہوں میں بسنے والی عورتوں  کی سسکیوں کی پاسبانی کر رہا تھا جن سسکیوں…

پاکستان جھومر پارٹی

یہ پارٹی کسی تعارف کی محتاج نہیں،اور اگر تھی بھی تو اب محتاج نہیں رہے گی۔یہ پارٹی اپنی جن خصوصیات کی وجہ سے پوری دنیا میں جانی پہچانی جاتی ہے  وہ مختصر طور پر یہ  ہیں: اس پارٹی کے ارکان نہ صرف ‘سو میل’ دور سے چمکتےہوئے بوٹ دیکھ سکتے ہے  بلکہ غائبانہ طور پہ…

سائبر کرائم بل اور اظہار رائے کی آزادی

آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو انسان بڑی مشکل سے حاصل کرتا ہے اور ایک بار حاصل ہونے والی آزادی انسان نے کبھی بھی واپس نہیں کی. بنیادی اظہار رائے کی آزادی بھی ان میں سے ایک ہے. دنیا میں بسنے والا ہر انسان اپنی ایک الگ رائے رکھتا ہے اپنی سوچ رکھتا ہے اور…

بغاوت

اس نے معاشرے کی بنائی ہوئی ان روایات سے ٹکر لی جو کسی سیسہ پلائی دیوار سے کم نہ تھی،،، وہ جس تیزی سے آئی اسی تیزی سے نکل گئی لیکن ہمیشہ یاد رکھی جائے گی لیکن ٹھہرئیے؟؟ کن الفاظ مین اسے یاد رکھا جائے گا؟ بے حیا! بے شرم! باغی، بلیک میلر؟سستی شہرت کی…

بُری عورت

زندگی سے بھر پور عورت دیکھی ہے ؟ہاں وہ قندیل تھی  جسکے ہر ہر زاویے سے روشنی پھوٹتی تھی   جو کسی فاسق مولوی کی طرح نفرت کے  فتوے نہیں دیتی تھی۔۔۔اس خطے  میں بغاوت  بھلے سبین محمود کی نوعیت کی ہو یا  قندیل  بلوچ کی۔۔۔ کاٹ دی جاتی ہے۔  میں بھلا کیسے کچھ لکھ سکتی…

سلٹ

سنی لیون کو جانتے ہیں..؟؟ جانتے ہی ہوں گے لیکن شاید یہ نہیں جانتے کہ اس نے “پنک لپس” گانے پر ڈانس کرنے سے اس لیے انکار کردیا تها کیونکہ چند بچے سامنے سیٹ پر شوٹنگ دیکه رہے تهے۔ “لیکن چهوڑیں جو بهی ہے، ہے تو آخرکار “سلٹ” ہی”  قندیل بلوچ کو جانتے ہیں..؟؟ جانتے…

ادھوری ذات

ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے عادی مِراثی، اپنی شناخت سے محروم چند جسم ، معاشرے سے دُھتکارے ہوئے کچھ لوگ ، خدا کی مَنحوس مخلوق ، قوم کے اوپر ایک عذاب ۔۔۔ جانے کیا کیا سنْنا باقی تھا اسے اپنی زندگی میں۔قصور وہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ جانتی تھی یا جانتا تھا ؟…

حرامزادہ

آنکھوں میں عجیب سی چمک لیئے آج پھر وہ اپنے شکار پہ نکلا تھا ۔۔۔ نہ جانے یہ کیسی بھوک تھی جو مٹتی ہی نہ تھی ۔۔۔ آنکھوں کی چمک گویا ایک ایسی ہوس میں بدل چکی تھی کہ شکار کو دیکھتے ہی ایک ہی وار میں دبوچ لے گا اور نوچ نوچ کر بس…

123
Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے