Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Tag Archives:  موت

آخری خط

زندگی! دل بھی امیدوں کی طرح ڈوبا جاتا ہے، شام کے ساے انتظار کے ساتھ لمبے ہوئے جاتےہیں۔ ستارے رات کے آغوش سے نکلنے کو ہیں۔ میرے ساتھ چاند بھی سڑک پر نظر ٹکائے رُکا ہے۔ تمہارا خط آج بھی نھیں ملا، صبیحہ ۔۔۔  تم تو کہتی تھی کہ تم مجھ سے کبھی رابطہ نہ…

دھرتی ماں کی بپتا

کئی ورشوں  پہلے اس ویشال  دھرتی پر بہت سے لوگ آباد تھے جن کا دھرم الگ الگ تھامگر وہ سب ایک ہی پرجاتی کے تھے ۔ مانو جاتی ۔ انسان ۔ منوش ۔  اشرف مخلوق ۔ ایشور بھگوان۔ رام اور اللہ کی چنیدا مخلوق ۔۔ رگ وید  (برہما کی مقدس کتاب )میں لکھا ہے کے…

پولیو کے قطرے اور کراچی میں کھلے دھانوں والے گٹر

کوئی تین یا چار سال پہلے کا ذکر ہے !! گاؤں مکھناں سے ہمراہ فیملی کراچی کے لیے روانگی تھی !! رخت سفر باندھا جا چکا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی !! بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھی !! عاتکہ صاحبہ کی زندگی کے گرد بخوشی…

گھنٹیاں

سلیم احمد خان المعروف سیٹھ صاحب ہماری کمپنی کے مالک تھے۔   “سلیم  احمد خان” انکا والدین کی جانب سے  اور “سیٹھ صاحب” ہم ملازمین کی جانب سے رکھا گیا نام تھا۔ سیٹھ صاحب  میرے آئیڈئیل تھے۔ خوش لباس،  منطم، نفیس ، معاملہ فہم اور عقاب کی سی نگاہ رکھنے والا شخص۔کاغذوں کے ڈھیر میں اس…

ادھوری ذات

ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے عادی مِراثی، اپنی شناخت سے محروم چند جسم ، معاشرے سے دُھتکارے ہوئے کچھ لوگ ، خدا کی مَنحوس مخلوق ، قوم کے اوپر ایک عذاب ۔۔۔ جانے کیا کیا سنْنا باقی تھا اسے اپنی زندگی میں۔قصور وہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ جانتی تھی یا جانتا تھا ؟…

آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟

میں ایک پرائمری اسکول ٹیچر ہوں ۔ ہمارے گورنمنٹ پرائمری اسکول مواچھ گوٹھ میں آج اُردو کا پرچہ تھا ۔ میری ڈیوٹی پانچویں جماعت یعنی جماعت پنجم کے طلبہ پر تھی ۔ جماعت پنجم کو برآمدے میں جگہ ملی تھی ۔ میں احتیاطی تدبیر کے طور پر برآمدے کے ایک ایسے کونے میں کھڑا تھا…

بازگشت

میری آنکھوں کے سامنے سیاہ اندھیرا چھا رہا ہے۔یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں کسی گہری کھائی میں گرتا  چلاجا رہا ہوں۔ وقت کا احساس  بھی غائب ہے اور گھڑی کی آواز بھی ندارد۔  ایک موہوم سا سفر  جاری ہے۔ شاید مجھے کسی کا انتظار ہے یا کوئی میرا انتظار کر رہا ہے۔سوچتا ہوں…

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے